139

مکتوب 98: اس قرب ومعیت کے سر میں جو اللہ تعالیٰ کو عالم کے ساتھ ہے اور شرارت عدم اور شرارت اہلیت کے درمیانی فرق کے بیان میں


مکتوب 98

اس قرب ومعیت کے سر میں جو اللہ تعالیٰ کو عالم کے ساتھ ہے اور شرارت عدم اور شرارت اہلیت کے درمیانی فرق کے بیان میں جامع علوم و اسرار مخدوم زادہ خواجہ محمد سعید و خواجہ محمد معصوم کی طرف صادر فرمایا ہے:۔


الْحَمْدُ لِلَّهِ وَسَلَامٌ عَلَى عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفیٰ اللہ تعالیٰ کے لیے حمد ہے اور اس کے برگزیدہ بندوں پر سلام ہو۔

تم نے سوال کیا کہ علماء نے کہا ہے کہ حق تعالٰی نہ عالم میں داخل ہے۔ نہ اس سے خارج نہعالم کے ساتھ متصل ہے نہ اس سے منفصل ۔ اس بحث کی تحقیق کیا ہے:۔

جواب: اس دخول و خروج اتصال و انفصال کی نسبت کا حاصل ہونا دو وجود کے دیکھنے پر منصور ہے کہ ایک موجود دوسرے موجود کے مقابلہ میں اس نسبت سے خالی نہ ہو اور صورت مذکورہ بالا میں دو موجود کائن و ثابت نہیں ہیں تا کہ یہ نسبت حاصل ہو سکے۔ کیونکہ حق تعالیٰ موجود ہے اور اس کے ماسوا عالم سب موہوم وتخیل ہے۔ عالم نے اگر چہ حق تعالیٰ کے بنانے سے اس قسم کا استحکام اور مضبوطی حاصل کی ہے۔ کہ وہم وخیال کے اٹھنے سے اٹھ نہیں سکتا اور دائی رنج وراحت کا معاملہ اسی پر وابستہ ہے، لیکن اس کا ثبوت حس و ہ ہم کا درجہ ہے اور حس و و ہم سے بڑھ کر اس کا کوئی رتبہ نہیں۔ یہ حق تعالیٰ کی ہی کمال قدرت ہے کہ جس نے موہوم و تخیل کو ثبت و استقرار دے کر موجود کا حکم عطا فرمایا ہے اور موجود کے احکام اس پر جاری کیے ہیں لیکن موجود موجود ہے اور موہوم موہوم کو ظاہر بین موہوم وتخیل کو اس کے ثبات و استقرار پر نظر کر کے اس کو بھی موجود تصو رکرتے ہیں اور دو موجود جانتے ہیں۔ اس مضمون کی تحقیق میں نے اپنی کتابوں اور رسالوں میں مفصل طور پرلکھی ہے۔ اگر حاجت ہو تو وہاں رجوع کریں ۔ پس موجود کی موہوم کے ساتھ اس قسم کی کوئی نسبت ثابت نہ ہوگی ۔ تو اس لحاظ سے کہہ سکتے ہیں کہ موجود نہ موہوم میں داخل ہے نہ اس سے خارج نہ وہ موہوم کے ساتھ متصل نہ اس سے منفصل کیونکہ جہاں موجود ہے وہاں موہوم کا نام ونشان نہیں تا کہ اس کے ساتھ اس نسبت کا تصور کیا جائے ۔

اس بحث کو ایک مثال سے واضح کرتا ہوں ۔ نقطہ جوالہ جو سرعت سیر کے باعث دائرہ کی صورت میں متوہم ہوتا ہے۔ یہاں موجود صرف وہی نقطہ ہے اور دائرہ کی صورت سوائے وہم کے ثابت نہیں اور جہاں نقطہ موجود ہے وہاں دائرہ موہومہ کا نام ونشان تک نہیں ۔ اس صورت میں نہیں کہہ سکتے کہ نقطہ دائرہ میں داخل ہے یا دائرہ سے خارج ہے۔ اسی طرح اتصال و انفصال بھی ان کے درمیان متصور نہیں ، کیونکہ اس مرتبہ میں کوئی دائرہ نہیں تا کہ نسبت متصور ہو سکے۔ تب الْجِدَارِ أَوَّلاً ثُمَّ النَّفْسُ اول دیوار ثابت ہو تو پھر اس پر نقش ظاہر ہو نگے ۔

سوال: حق تعالیٰ نے عالم کے ساتھ اپنے قرب واحاطہ کی نسبت ثابت کی ہے۔ حالانکہ موجود کو موہوم کے ساتھ کسی طرح قرب واحاطہ کی نسبت نہیں ۔ کیونکہ جہاں موجود ہے وہاں موہوم کا نام و نشان تک نہیں تا کہ محیط و محاط تصور کیا جائے ۔

جواب : یہ قرب واحاطہ اس قسم کا نہیں ہے جیسے کہ ایک جسم دوسرے جسم کے قریب ہوتا ہے یا ایک جسم دوسرے جسم کو محیط ہوتا ہے بلکہ اس قرب واحاطہ کی نسبت مجہول الکیفیت اور معلوم الا نیت بھی ہے اس کے ساتھ ایمان لاتے ہیں ۔ مگر اس کی کیفیت کو نہیں جانتے کہ کیسی ہے۔ برخلاف پہلی چار نسبتوں کے جن کی پہلے نفی ہو چکی ہے کیونکہ و دمجبول الکیفیت بھی ہیں اور غیر معلوم الانیت بھی۔ اس لیے کہ شرع میں ان نسبتوں کے ثبوت کے لیے کچھ وارد نہیں ہوا تا کہ ان کو ثابت کریں اور ان کی کیفیت کو مجہول جائیں۔ اگر چہ حق تعالیٰ کی بارگاہ میں بے کیفی قرب واحاطہ کی نسبت کی طرح بے کیفی اتصال کی نسبت بھی تجویز کر سکتے ہیں، لیکن چونکہ لفظ اتصال کا اطلاق نہیں آیا اور قرب و احاطہ کا آیا ہے اس لیے متصل نہ کہنا چاہئے اور قریب و محیط کہنا چاہئے اور انفصال و خروج و دخول کا اطلاق بھی اتصال کی طرح جو نہیں آیا۔ مثال مذکور میں اگر نقطہ جوالہ کے لیے دائرہ موہومہ کے ساتھ احاطہ و قرب و معیت کی نسبت ثابت کریں تو وہ بھی مجبول الکیفیت ہوگی ، کیونکہ نسبت کے لیے ہر دو منتسب ( جس کے درمیان نسبت ہو ) کا ہونا ضروری ہے لیکن وہاں سوائے نقطہ جوالہ کے کچھ موجود نہیں۔ ایسے ہی اتصال و انفصال و دخول وخروج بے کیفی مثال مذکور میں متصور ہے اگر چہ منتسبین ثابت نہیں۔ کیونکہ طرفین کا وجود معلوم الکیفیت نسبت کے لیے ضروری ہے جیسے کہ متعارف و معتاد ہے لیکن جو مجبول الکیفیت ہے وہ احاطہ عقل سے باہر ہے۔ وہاں وجود طرفین کا حکم کرنا احکام و ہیمیہ سے ہوگا۔ جو اعتبار سے ساقط ہے۔ گویا غیب کا قیاس حاضر پر ہے۔ تنبیہ : عالم کو جو موہم و تخیل کہا ہے اس اعتبار سے کہا ہے کہ عالم کی پیدائش مرتبہ وہم و خیال میں واقع ہے اور اس کی منع حس و ارائت نہیں ہوئی ہے جس طرح قادر اپنی کمال قدرت سے دائرہ موہومہ کو جس کا وہم و خیال کے اختراع کے سوا کچھ ثبوت نہیں ۔ مرتبہ وہم و خیال میں پیدا فرمائے اور اپنی کامل صفت سے اس کو اس مرتبہ میں اس قسم کا استحکام اور اتفاق بخشے ۔ کہ اگر وہم و خیال سب کا سب دور ہو جائے ۔ تو اس کے ثبوت میں کوئی خلل نہ آئے اور اس کے بقا میں کوئی قصور پیدا نہ ہو۔ یہ دائرہ مصنوعہ موہومہ اگر چہ خارج میں ثبوت نہیں رکھتا اور خارج میں صرف وہی نقطہ موجود ہے لیکن وجود خارجی کے ساتھ انتساب واستناد رکھتا ہے کیونکہ اگر نقطہ نہ ہوتا دائرہ کہاں سے پیدا ہوتا۔ بیت

خوشتر آن باشد که سر دلبراں
گفته آید در حدیث دیگران


ترجمہ ہے یہی بہتر کہ راز دلبراں
دوسروں کی گفتگو میں ہوعیاں

اگر اس دائرہ کو اس نقطہ کا روپوش کہیں تو ہو سکتا ہے اور اگر اس نقطہ کے شہود کا آئینہ کہیں تو بھی گنجائش رکھتا ہے اور اگر اس نقطہ کی طرف ہادی اور دلیل کہیں تو بھی بجا ہے۔ روپوش کہنا عوام کی نظر کے اعتبار سے ہے اور اس نقطہ کے شہود ظہور کا آئینہ جاننا مقام ولایت کے مناسب اور ایمان شہودی کے ملائم ہے اور دلیل و بادی کہنا مرتبہ کمالات نبوت کے مناسب اور ایمان بالغیب کے ملائم ہے ۔ جو ایمان شہودی سے اتم و اکمل ہے، کیونکہ شہود میں کل کی گرفتاری سے چارہ نہیں ۔ اور غیب میں اس گرفتاری سے آزاد ہوتے ہیں ۔

غیب میں سالک اگر چہ بالفعل کچھ حاصل نہیں رکھتا، لیکن واصل ہے اور اصل کا گرفتار ہے اور شہود میں اگر چہ کچھ حاصل رکھتا ہے،لیکن غیر واصل ہے۔ کیونکہ غیر یعنی اس اصل کے ظل کے ساتھ گرفتار ہے۔


غرض حصول سراسر نقص ہے اور وصول سراسر کمال یہ بات بے سروسامان کی سمجھ میں نہیں آ سکتی ۔ عجب نہیں کہ حصول کو وصول سے بہتر جائیں۔ سوفسطائی اپنی بیوقوفی کے باعث عالم کو موہوم و مخیل اس اعتبار سے کہتا ہے کہ وہم کے اختراع اور خیال کی تراش کے سوا اس کا کچھ ثبوت و حقق نہیں۔ اگر وہم و خیال بدل جائے تو وہ ثبوت و حق بھی متغیر ہو جائے ۔

مثلا اگر وہم نے کسی چیز کے شیریں ہونے کا حکم کیا تو وہ شیریں ہے اور اگر وہم نے دوسرے وقت اس شے کے تلخ ہونے کا حکم کیا تو تلخ ہے۔ یہ بد بخت لوگ حق تعالیٰ کی صنعت و خلقت سے غافل نہیں بلکہ منکر ہیں اور اس انتساب واستناد سے جو موجود خارجی کے وجود کے ساتھ رکھتا ہے۔ جاہل ہیں۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اپنی نادانی سے ان احکام خارجیہ کو جو عالم سے وابستہ ہیں رفع کریں اور آخرت کے دائمی عذاب و ثواب کو دفع کریں۔ جس کی نسبت مخبر صادق علیہ الصلوۃ نے خبر دی ہے اور اس میں کسی قسم کا خلاف نہیں ہے ۔ او لئک حِزْبُ الشَّيْطَانِ أَلا إِنَّ حِزْبَ الشَّيْطَانِ هُمُ الْخاسرون یہ لوگ شیطان کا گروہ ہیں۔ خبر دار شیطان کا گروہ ہی خسارہ پانے والا ہے۔

سوال: جب عالم کے لیے ثبات و استقرار ثابت ہوا۔ اگر چہ مرتبہ وہم وخیال ہی میں ہو اور دائمی رنج و راحت کا معاملہ بھی اس کے حق میں ثابت ہو گیا۔ تو پھر وجود کا اطلاق اس پر کیوں تجویز نہیں کرتے اور اس کو موجود کیوں نہیں جانتے ۔ حالانکہ ثبوت و وجود ایک دوسرے کے مترادف اور ہم معنی ہیں ۔ جیسے کہ متکلمین کے نزدیک مقرر ہے۔


جواب: وجود اس گروہ کے نزدیک تمام اشیاء میں سے اشرف و اکرم اور اعز ہے اور اس کو ہر خیر و کمال کا مبداء جانتے ہیں۔ اس قسم کے جو ہر نفیس کو ماسوائے حق کے لیے جو سراسر نقص و شرارت ہے تجویز نہیں کر سکتے اور اشرف کو اخص کے حوالہ نہیں کر سکتے ۔ اس امر میں ان کا مقتدا ان کا اپنا کشف و فراست ہے۔ ان کے ہاں مکشوف محسوس ہے کہ وجود حق تعالی کے ساتھ مخصوص ہے اور وہی موجود ہے اور اس کے غیر کو جو موجود کہتے ہیں تو اس اعتبار سے کہتے ہیں کہ اس غیر کو نسبت وارتباط و مجبول الکیفیت ہو اس وجود کے ساتھ ثابت ہے اور کل کی طرح جو اپنی اصل سے قیام رکھتا ہے وہ غیر بھی اس وجود کے ساتھ قائم ہے اور وہ ثبوت بھی جو مرتبہ وہم و خیال میں پیدا ہے۔ اس وجود کے ظلال میں سے ایک ظل ہے اور چونکہ وہ وجود خارجی ہے اور حق تعالی خارج میں موجود ہے۔

اس لیے اگر مرتبہ و ہم کو حق تعالیٰ کی صنعت و استحکام کے بعد اس خارج کے ظلال میں ظل بھی کہیں تو ہو سکتا ہے۔ اگر اس ثبوت وہمی کو ان دو ظلیت کے اعتبار سے وجود خارجی بھی جانیں تو جائز ہے۔ بلکہ عالم کو بھی اگر ظلیت کے اس اعتبار سے موجود خارجی تصور کریں تو بھی بجا ہے۔ غرض ممکن جو کچھ رکھتا ہے۔ سب مرتبہ حضرت وجود تعالی سے رکھتا ہے ۔ اپنے باپ کے گھر سے کچھ نہیں ہے۔ ظلیت کے ملاحظہ کے بغیر اس کو موجود خارجی کہنا دشوار ہے۔ گویا خاص خاص اوصاف میں اس کو حق تعالیٰ کے ساتھ شریک بناتا ہے ۔ تَعَالَى اللَّهُ عَنْ ذَلِكَ عُلُوًّا كَبِيرًا اللہ تعالیٰ اس قسم کی باتوں سے برتر و بزرگ ہے۔

اس فقیر نے بعض مکتوبات اور رسالوں میں جو عالم کو موجود خارجی کہا ہے ۔ اس کو بھی اس بیان کی طرف راجع کرنا چاہئے اور ظلیت کے اعتبار پر عمل کرنا چاہئے اور وجود کو جو تکلمین نے ثبوت و تحقق کا مترادف کہا ہے ۔ لغوی معنوں کے اعتبار سے ہو گا۔ ورنہ وجود کجا اور ثبوت کجا۔ ارباب کشف و شہود اور اہل نظر و استدلال میں سے جم غفیر نے وجود کو واجب الوجود کی عین حقیقت کہا ہے اور ثبوت معقولات ثانویہ میں سے ہے۔ شانَ مَا بَيْنَهُمَا اِن دونوں میں بہت فرق ہے )


فائدہ: جس طرح وجود ہر خیر و کمال کا مبداء اور ہر حسن و جمال کا منشا ہے۔ اسی طرح عدم جو اس کے مقابل ہے۔ بیشک ہر شر نقص کا مبداء اور ہر فتح وفساد کا منشاء ہوگا۔ اگر وبال ہے وہ بھی اس سے پیدا ہے اور اگر گمراہی ہے تو وہ بھی اس سے ظاہر ہے۔ اس کے علاوہ کئی قسم کے ہنر بھی اس میں رکھے گئے ہیں اور کئی قسم کی خوبیاں اس میں پوشیدہ ہیں ۔ وجود کے مقابلے میں اپنے آپ کو مطلق نیست و نابود اور لاشے محض کرنا عدم ہی کی خوبی ہے اور اپنے آپ کو وجود کا محافظ بنانا اور تمام شر نقص کو اپنے ذمے لینا اس کے ہنر کی خوبی ہے اور وجود کا آئینہ بنا اور اس کے کمالات کا اظہار کرنا اور ان کمالات کو خانہ علم کے باہر ایک دوسرے سے ممتاز کرنا اور اجمال سے تفصیل میں لانا اس کی پسندیدہ صفتوں میں سے ہے۔ غرض وجود کی خدمتگاری اور کارگزاری اس سے قائم ہے اور اس کا حسن و جمال اس کے فتح وشر نقص سے ظاہر ہے۔ وجود کا استغناء عدم ہی کی محتاجی کے باعث ہے اور وجود کی عزت اس کی ذلت کے سبب سے ہے۔ وجود کی عظمت و کبریا اس کے ادنی اور اسفل ہونے کے باعث ہے اور وجود کی شرافت اسی کی خست سے پیدا ہے اور وجود کی خواجگی غلامم خواجه را آزاد کرم اس کی بندگی سے ہویدا ہے۔

بیت
منم استاد را استاد کر دم
غلامم خواجہ را آزاد کرم

ترجمہ: کیا استاد کو میں نے ہی استاد
کیا خواجہ کو بندہ بن کے آزاد

ابلیس لعین جو ہر فساد و گمراہی کا مبداء ہے۔ عدم سے بھی زیادہ شریر ہے اور بد بخت ان ہنروں سے بھی جو عدم میں پائے جاتے ہیں۔ بے نصیب ہے۔ انا خَيْر مِنْهُ جو اس سے صادر ہوا ہے۔ اس نے تمام خیریت و بہتری کا مادہ اس سے دور کر دیا ہے اور محض شرارت پر دلالت کی ہے۔ عدم نے چونکہ اپنے نیست و لاشے ہونے سے وجود کا مقابلہ کیا اس لیے وجود کے حسن و جمال کا آئینہ بن گیا اور لعین نے چونکہ اپنی ہستی و خیریت کے باعث وجود کا معارضہ کیا۔ اس لیے مردود و مطرود ہو گیا۔ تقابل کی خوبی عدم سے سیکھنی چاہئے کہ ہستی کے مقابلہ نیستی دکھاتا ہے اور کمال کے مقابلہ نقص ظاہر کرتا ہے اور جب عزت و جلال کے مقابلہ آتا ہے تو ذلت و انکسار ظاہر کرتا ہے۔ گویا لعین مردود و مطرود نے اپنے تکبر و سرکشی کے باعث عدم کی تمام شرارتوں کو اپنے ذمے لے لیا ہے اور خیال میں آتا ہے کہ اس نے خیریت کے سواعدم میں کچھ نہیں چھوڑا۔ ہاں جب تک خیر نہ ہو۔ خیر کا آئینہ اور مظہر نہیں بن سکتا ۔ لا يَحْمِلُ عَطَايَا الْمَلِكِ إِلَّا مَطَايَاهُ پادشاہ کے عطیوں کو اس کے اونٹ اٹھا سکتے ہیں۔ مثل مشہور ہے اور معلوم ہوا کہ ابلیس کارخانہ عالی میں کام کرتا رہا ہے

جس نے کناسی و خاکروبی کر کے سب کا کوڑا کرکٹ اپنے سر پر اٹھا لیا ہے اور اوروں کو پاک و صاف کر دیا ہے، لیکن چونکہ وہ بد بخت تکبر و بڑائی سے پیش آیا اور اپنی بہتری و خیریت کو نظر میں لایا اس لیے اس نے اپنے عمل کو ضائع کر دیا اور اجر سے محروم ہو گیا۔ درحقیقت خسر الدنیا والآخرہ اسی کے حال کا نشان ہے۔ برخلاف عدم کے جو باوجود ذاتی شرارت و نقص و نیستی کے مقام حرمان و محرومی سے نکل کر حضرت وجود کے مرآ تیت یعنی آئینہ بننے سے مشرف ہوا۔

بیت
نے گفت که من نیم شکر خورد
شان که بلند شد تبرخورد

ترجمہ نے نے کہا نہیں میں پایا شکر کو اس نے
کی شاخ نے بلندی کھا یا تبر کو اس نے

سوال: ابلیس لعین میں اتنی شرارت کہاں سے پیدا ہو گئی ۔ کیونکہ عدم سے ماورا ، وجود یہی ہے ۔ جس کی طرف شرارت نے راہ نہیں پائی۔

جواب: جس طرح عدم وجود کا آئینہ اور خیر و کمال کا مظہر ہے اسی طرح وجود بھی عدم کا آئینہ اور شر نقص کا مظہر ہے۔ ابلیس علیہ اللعنت نے عدم کی جانب میں شرارت کو عدم ہی سے لیا ہے جو شر کا موطن و مقام ہے اور وجود کی جانب میں بھی اس شرارت متوہمہ کو اخذ کیا ہے ۔ جو اس کے وجود کے آئینہ میں عدم کے آئینہ اور مظہر بنے کے باعث ظاہر ہوئی تھی ۔ گویا دونوں طرفوں کی شرارت یعنی ذاتی و عرضی اور اصلی و ظلی شرارت کا اٹھانے والا ۔

پس اس کے شرارت نما وجود کے مالی خولیا نے اس کو نیست ولاشے ہونے سے جو عدم کی نیک صفتوں میں سے ہے۔ محروم رکھا اور وجود کی جانب میں بھی وہ شرارت جو عدم کے آئینہ بننے سے متوہم ہوئی تھی وہ بھی اسی کے نصیب ہوئی اس لیے ابدی خسارہ اور دائمی گھاٹا اس کے ہاتھ آیا۔ رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَ هَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ یا اللہ تو ہدایت دے کر ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر اور اپنے پاس سے ہم پر رحمت نازل فرما تو بڑا بخشنے والا ہے ) وَ السَّلامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى وَالْتَزَمَ مُتَابَعَةَ الْمُصْطَفَىٰ عَلَيْهِ وَ عَلَىٰ الهِ الصَّلَوةُ وَالتَّسْلِيمَاتُ أَتَمَّهَا وَأَكْمَلُهَا سلام ہو اس شخص پر جس نے ہدایت اختیار کی اور حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی متابعت کو لازم پکڑا۔

نوٹس : ویب سائیٹ میں لفظی اغلاط موجود ہیں، جن کی تصیح کا کام جاری ہے۔ انشاء اللہ جلد ان اغلاط کو دور کر دیا جائے گا۔ سیدنا مجدد الف ثانی علیہ رحمہ کے مکتوبات شریف کو بہتر طریقے سے پڑھنے کے لئے کتاب کا مطالعہ ضرور کریں۔ جزاک اللہ خیرا