136

مکتوب 97: ایک سوال کے جواب میں جس میں اسی دفتر کے چھٹے مکتوب کا حل طلب کیا گیا تھا


مکتوب 97

ایک سوال کے جواب میں جس میں اسی دفتر کے چھٹے مکتوب کا حل طلب کیا گیا تھا۔ خواجہ ہاشم شمی کی طرف صادر فرمایا ہے:۔

الْحَمْدُ لِلَّهِ وَسَلَامٌ عَلَى عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفیٰ اللہ تعالیٰ کے لیے حمد ہے اور اس کے برگزیدہ بندوں پر سلام ہو۔

آپ نے پوچھا تھا کہ اس عبارت کے کیا معنی ہیں جو چھٹے مکتوب میں واقع ہے کہ میں خیال کرتا ہوں کہ میری پیدائش سے مقصود یہ ہے کہ ولایت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ولایت ابرا ہیمی عليه الصلوۃ والسلام کے رنگ میں رنگی جائے اور ولایت محمدی صلى الله عليه وسلم کا حسن ملاحت ولایت ابراهیمی کے جمال صباحت کیسا تھ مل جائے اور اس انصباغ و امتزاج سے محبوبیت محمدیہ کا مقام درجہ بلندی
تک پہنچ جائے ۔
آپ کو واضح ہو کہ دلائگی اور مشاطلکی کا منصب کسی طرح ممنوع محضور نہیں ہے۔ دلالہ جو اپنی دلالت کی خوبی سے دو صاحب جمال و کمال محبوب کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا دے اور ایک کے حسن کو دوسرے کے حسن کے ساتھ خلط ملط کر دے تو اس کی کمال خدمتگاری ہے اور اس میں اس کی اپنی شرافت و سعادت ہے ان دونوں صاحب جمال کے شان میں کسی قسم کا نقص و قصور لازم نہیں آتا ۔ اسی طرح اگر مشاطلکی کر کے ان دونوں صاحب کمال کے حسن و جمال کو بڑھا دے


اور زیادہ طراوت وزمینت پیدا کر دے۔ تو اسی کی شرافت و سعادت ہے ان میں کسی قسم کا نقص و قصور لازم نہیں آتا۔

ازاں طرف نپذیرد کمال تو نقصاں
وزیں طرف شرف روزگار من باشد

ترجمہ تیرے کمال میں سے ایک ذرہ کم نہ ہوگا
لیکن میری سعادت ہو جائیگی دو بالا

غرض وہ انتقاع و استفادہ جو صاحب دولتوں کو غلاموں اور خادموں کی جہت سے میسر ہوتا ہے۔ کوئی ممنوع و محذور نہیں اور نہ ہی اس میں ان کا کسی قسم کا قصور نقصان ہے۔ بلکہ صاحب دولتوں کا کمال غلاموں اور خادموں کی خدمت ہی میں ہے۔ وہ شیخ بہت ہی بے نصیب ہے جو اپنے خادموں سے فائدہ اور نفع حاصل نہ کرے۔ ہاں ہم رتبہ شخصوں سے نفع اور فائدہ طلب کرنا نقصان کا موجب ہے اور ہمسروں سے استمد ادواستفادہ کرنا سراسر قصور ہے۔


اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ حَسْبُكَ اللهُ وَمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ (یا) رسول اللہ تجھے اللہ تعالیٰ اور تابعدار مومن کافی ہیں ) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا ہے کہ اس آیت کریمہ کے نزول کا سبب حضرت فاروق رضی اللہ عنہ کا اسلام ہے۔ یہ بات بدیہی اور ظاہر ہے کہ ادنیٰ اور کم درجہ والے لوگوں کی خدمت سے بزرگوں اور اعلیٰ درجہ والے لوگوں کا مرتبہ زیادہ ہوتا ہے۔

اگر کوئی شخص اس ظاہر اور بدیہی امر کو معلوم نہ کر سکے تو عبارت کا کیا قصور ہے۔ بادشاہ اور امیر اپنی شان و شوکت وسلطنت میں خادموں اور نوکروں چاکروں کے محتاج ہیں اور اپنے کمال کو انہی پر موقوف جانتے ہیں اور اس امر سے کوئی قصور ونقصان ان کے مرتبہ میں نہیں آتا۔ چنانچہ ہر ایک ادنیٰ و اعلیٰ اس امر کو جانتا ہے۔ اس اشتباہ کا باعث یہ ہے کہ اس انتفاع و تمتع کے ( جوادنی کی طرف سے آتا ہے ) اور اس انتفاع تمتع کے ( جو اعلیٰ کی طرف حاصل ہوتا ہے۔ درمیان فرق نہیں کر سکتے اور جب ظاہر ہو چکا کہ اول سے کمال بڑھتا ہے اور دوسرے سے نقصان پیدا ہوتا ہے تو اول جائز ہوگا اور دوسر امتنع ۔ وَاللهُ سُبحَانَهُ الْمُلْهِمُ لِلصَّوَابِ اللہ تعالیٰ بہتری کا الہام کرنے والا ہے۔

ربَّنَا آتِنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً وَهَيِئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًا (یا اللہ تو اپنے پاس سے ہم پر رحمت نازل فرما اور ہمارے کاموں سے ہدایت ہمارے نصیب کر)

وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَع الهدى سلام ہو اس شخص پر جس نے ہدایت اختیار کی ۔

نوٹس : ویب سائیٹ میں لفظی اغلاط موجود ہیں، جن کی تصیح کا کام جاری ہے۔ انشاء اللہ جلد ان اغلاط کو دور کر دیا جائے گا۔ سیدنا مجدد الف ثانی علیہ رحمہ کے مکتوبات شریف کو بہتر طریقے سے پڑھنے کے لئے کتاب کا مطالعہ ضرور کریں۔ جزاک اللہ خیرا