91

مکتوب 9: کلمہ طیبہ لا إله إلا الله کے فضائل اور مقام تنزیہ کی تحقیق


مکتوب 9

کلمہ طیبہ لا إله إلا الله کے فضائل اور مقام تنزیہ کی تحقیق اور اس بیان میں کہ ایمان بغیب اس وقتمتحقق ہوتا ہے جب کہ معاملہ اقر بیت تک پہنچ جائے کیونکہ یہ معاملہ و ہم خیال کے ضبط سے باہر ہے ۔ ملا عارف ختنی کی طرف صادر فرمایا ہے۔

الْحَمْدُ لِلَّهِ وَسَلام ” عَلَى عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفیٰ ( اللہ تعالیٰ کے لیے حمد ہے اور اس کے برگزیدہ بندوں پر سلام ہو ) مولا نا محمد عارف نقی کو چاہئے کہ پہلے باطل خداؤں کی نفی کر کے معبود برحق جل شانہ کا اثبات کرے اور جو کچھ چونی اور چندی کے داغ سے موسوم ہو، اس کو لا کے نیچے داخل کر کے خدائے بیچون کے ساتھ ایمان لائے ۔ سب سے بڑھ کر عبادت کلمہ طیبہ لا إله إلا الله کی نفی اثبات میں ہے۔ رسول علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ تمام ذکروں سے افضل ذکر لا اله الا الله ہے۔ نیز رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس طرح فرمایا ہے کہ اگر میرے سوا سات آسمانوں اور سات زمینوں کو ایک پلہ میں اور کلمہ لا إله إلا اللہ کو دوسرے پلہ میں رکھا جائے

تو کلمہ والا پلہ بھاری ہوگا ۔ کیوں افضل و راحج نہ ہو جبکہ اس کا ایک کلمہ تمام ماسوائے حق یعنی آسمانوں، زمینوں اور عرش و کرسی ولوح و قلم و عالم و آدم کی نفی کرتا ہے اور اس کا دوسراکلمہ معبود برحق کا اثبات کرتا ہے۔ جو زمینوں اور آسمانوں کا پیدا کرنے والا ہے ۔ حق تعالیٰ کے ماسوا جو کچھ انفس و آفاق میں ہے سب چونی اور چندی کے داغ سے لتھڑا ہوا ہے۔ پس جو کچھ آفاق و انفس کے آئینوں میں جلوہ گر ہو ، بطریق اولی چند و چون ہو گا جوفی کے لائق ہے۔


اس سے معلوم ہوا کہ جو کچھ ہمارے علم و وہم میں آسکے اور جو ہمارا مشہور محسوس ہو، سب چونی اور چگونی سے متصف اور حدوث و امکان کے عیب سے عیب ناک ہے کیونکہ ہمارا معلوم و محسوس ہمارا اپنا تر اشا اور بنایا ہوا ہے۔ وہ تنزیہ جس کا تعلق ہمارے علم سے ہے ، معین تشبیہ ہے اور وہ کمال جو ہمارے فہم میں آسکے میں نقص ہے۔ پس جو کچھ ہم پر تجلی اور مکشوف اور مشہور ہو ،وہ سب حق تعالیٰ کا غیر ہے۔ حق تعالیٰ اس سے وراء الوراء ہے۔ حضرت خلیل علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔ أتعبدون ماتنحتون والله خلقكم وما تعملون ( کیا تم ان چیزوں کی عبادت کرتے ہو جو تم اپنے ہاتھ سے بناتے ہو ۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تم کو اور تمہارے عملوں کو پیدا کیا ہے ۔ ) ہمارا اپنا تراشا ہوا اور بنایا ہوا خواہ ہاتھ کے ذریعے ہو ، خواہ عقل و ہ ہم کے ساتھ ، سب حق تعالی کا مخلوق ہے جو عبادت کے لائق نہیں۔ عبادت کے لائق وہی خدائے پیچون ویچپون ہے جس کے دامن ادراک سے ہماری اور اک سے ہماری عقل و وہم کا ہاتھ کوتاہ ہے اور ہماری کشف وشہود کی آنکھ اس کی عظمت و جلال کے مشاہدے سے خیرہ اور تباد ہے۔ ایسے خدائے شیون و بیچگون کے ساتھ غیب کے طریق کے سوا تمام ایمان میسر نہیں ہوتا کیونکہ ایمان شہو، حق تعالی کے ساتھ ایمان نہیں ہے بلکہ اپنی تراشیدہ اور بنائی ہوئی چیز کے ساتھ ہے کہ وہ بھی حق تعالیٰ کی مخلوق ہے۔ گویا ایمان شہود غیر کے ایمان کو حق تعالیٰ کے ایمان کے ساتھ شریک کرنا ہے بلکہ صرف ایمان بغیر ہے ۔

اَعَاذَنَا اللهُ سُبْحَانَهُ عَنْ ذَلِكَ ( اس سے اللہ تعالیٰ ہم کو بچائے ۔ )

ایمان بالغیب اس وقت میسر ہوتا ہے جبکہ تیز رفتار وہم کی جولانی ندیر ہے اور وہاں کی کوئی پیز قوت متخیلہ میں منقش نہ ہو اور یہ بات حق تعالیٰ کی اقربیت میں ثابت ہوتی ہے جو وہم و خیال کے احاطہ سے باہر ہے کیونکہ جس قدر زیادہ دور ہوں ، اسی قدر وہم کا جولان زیادہ ہوتا ہے اور اس قدر زیادہ خیال کا غلبہ پڑتا ہے۔ یہ دولت انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے ساتھ مخصوص ہے اور ایمان بالغیب بھی انہیں بزرگواروں کا نصیب ہے اور جس کسی کو کہ چاہتے ہیں ان کی تبعیت و وراثت کے سبب اس دولت سے مشرف کرتے ہیں اور وہ ایمان غیب جو عوام کو حاصل ہے، وہم کے احاطہ سے باہر نہیں کیونکہ وراء الورا، عوام کے نز: یک بعد اور دوری کی جانب میں ہے جو وہم کا جولانگاہ ہے اور ان بزرگواروں کے نزدیک وراء الورا، قرب کی جانب میں ہے جہاں وہم کی مجال نہیں ۔ جب تک دنیا قائم ہے اور حیات دنیا کے ساتھ زندہ ہیں، ایمان غیب سے چارہ نہیں کیونکہ ایمان شہود اس جگہ معلول ہے۔ جب عالم آخرت پر تو ڈالے گا اور وہم و خیال کی صورت کو تو ڑ دے گا تو پھر ایمان شہودی مقبول ہوگا اور تراشنے اور بنانے کی علت سے پاک و مبرا ہوگا۔

میرے خیال میں جب حضرت محمد رسول اللہ دنیا میں دولت رویت سے مشرف ہوئے تو ان کے حق میں اگر ایمان شہودی ثابت کریں تو زیبا اور محمود ہے اور اپنی طرف سے بنانے اور تراشنے سے صاف آزاد ہے کیونکہ جس چیز کا اوروں کے لیے قیامت کا وعدہ ہے ، ان کو اسی جگہ میسر ہے۔ ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَّشَاءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ . جانا چاہئے کہ کلمہ نفی کو حضرت خلیل علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام نے پورا کیا تھا اور شرک کے دروازوں میں سے کوئی دروازہ نہ چھوڑا جس کو بند نہ کیا جائے۔ اسی واسطے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے امام اور پیشوا بن گئے کیونکہ اس جہان میں نہایت کمال اس نفی کے کامل کرنے پر وابستہ ہے اور کلمہ طیبہ کے اثبات کے کمالات کا ظہور عالم آخرت پر موقوف ہے۔ حاصل کلام یہ کہ جب حضرت خاتم الرسل علیہ الصلوۃ والسلام اس جہان میں رویت کی دولت سے مشرف ہوئے تو انہوں نے کلمہ اثبات کے کمالات سے بھی کامل حصہ پالیا۔ اس صورت میں کہہ سکتے ہیں کہ کلمہ اثبات اس جہان کے اندازے کے موافق ان کی بعثت سے کامل و تمام ہو گیا۔

یہی وجہ ہے کہ تجلی ذات ان کے حق میں اسی جہان میں ثابت کرتے ہیں اور دوسروں کے حق میں آخرت پر موعود جانتے ہیں ۔ وَالسَّلامُ عَلى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى وَالْتَزَمَ مُتَابَعَةَ الْمُصْطَفَى عَلَيْهِ وَعَلَى الِهِ مِنَ الصَّلَوَاتِ أَفْضَلُهَا وَمِنِ التَّسْلِيمَاتِ اَكْمَلُهَا (سلام اس شخص پر جس نے ہدایت اختیار کی اور حضرت محمد مصطفی صلى الله عليه وسلم کی متابعت کو لازم پکڑا۔)

نوٹس : ویب سائیٹ میں لفظی اغلاط موجود ہیں، جن کی تصیح کا کام جاری ہے۔ انشاء اللہ جلد ان اغلاط کو دور کر دیا جائے گا۔ سیدنا مجدد الف ثانی علیہ رحمہ کے مکتوبات شریف کو بہتر طریقے سے پڑھنے کے لئے کتاب کا مطالعہ ضرور کریں۔ جزاک اللہ خیرا