98

مکتوب 9: ان احوال کے بیان میں جو نیچے اترنے کے مقام یعنی مقام نزول سے مناسبت رکھتے ہیں


مکتوب (9)

ان احوال کے بیان میں جو نیچے اترنے کے مقام یعنی مقام نزول سے مناسبت رکھتے ہیں۔ یہ بھی اپنے پیر بزرگوار کی خدمت میں لکھا ہے:

یہ سیاہ رو بد بخت اور بدخو گنہ گار اپنے وقت و حال پر مغرور اور وصل و کمال پر فریفتہ ہوا ہوا کیا عرض کرے۔ جس کا کام سر بسر مولٰی کی نافرمانبرداری ہے اور اس کا عمل عزیمت اور اولی کا ترک کرتا ہے۔ خلق کی نظر گاہ یعنی اپنے ظاہری وجود کو آراستہ کیا ہوا ہے اور خدائے تعالیٰ کے منظر یعنی دل کو خراب کیا ہوا ہے۔ اس کی ساری ہمت ظاہر کے آراستہ کرنے پر لگی ہوئی ہے اور اس کا باطن اس باعث سے ہمیشہ رسوائی میں ہے اس کا قال اس کے حال کے مخالف ہے اور اس کا حال اس کے اپنے خیال پر مبنی ہے اس خواب و خیال سے کیا ہوتا ہے اور اس قال و حال سے کیا بنتا ہے۔ بد بختی اور خسارہ اس کو حاصل ہے اور سرکشی اور گمراہی اس کے شامل حال- فساد اور شرارت کا مبدا اور ظلم و معصیت کا منشاء ہے غرض مجسم عیوب اور مجموعہ گناہ اس کی نیکیاں لعنت اور رد کرنے کے لائق ہیں۔ اس کی بھلائیاں طعن و دفع کرنے کے مستحق ۔ رُبَّ قَارِيُّ الْقُرآنِ وَالْقُرْانُ يَلْعَنُهُ ( بہت سے قرآن پڑھنے والے ایسے ہیں کہ قرآن ان کو لعنت کرتا ہے ) اس کے حق میں عادل گواہ ہے اور كَمْ مِنْ صَائِمٍ لَيْسَ لَهُ مِنْ صِيَامِهِ إِلَّا الظَّلَمَاءُ وَالْجُوعُ ( بہت سے روزہ دار ایسے ہیں جن کو روزہ سے سوائے بھوک پیاس کے کچھ حاصل نہیں ہوتا ) اس کی شان میں سچا گواہ ہے۔

پس افسوس ہے اس شخص پر جس کا حال اور مرتبہ اور کمال اور درجہ ایسا ہو اس کا استغفار اس کے تمام گناہوں کی مانندگاہ ہے بلکہ ان سے بڑھ کر ہے اور اس کی تو بہ اس کی تمام برائیوں کی طرح برائی ہے بلکہ ان سے زیادہ بری ہے۔ كُلُّ مَا يَفْعَلُهُ القَبِيحُ قَبِيحُ (برا آدمی جو کچھ کرتا ہے برا ہی ہوتا ہے ) اس بات کا مصداق ہے۔


ز گندم جو ز جو گندم نیاید
ترجمہ
: نہیں گندم سے جو اُگتے نہ جو سے گندم اُگتی ہے


اس کی مرض ذاتی ہے جو علاج قبول نہیں کرتی اور اس کا در داصلی ہے جو دوا قبول نہیں کرتا جو چیز ذاتی ہو وہ ہرگز ذات سے دور نہیں ہوتی ۔


سیاہی از حبشی کے رود که خود رنگ است
ترجمہ
: سیاہی رنگ حبشی سے بھلا کب دور ہوتی ہے


کیا کیا جائے۔ وَمَا ظَلَمَهُمُ اللهُ وَلَكِنْ كَانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ (اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے ) ہاں خیر محض کے لئے شریر محض ہونا چاہئے تا کہ خیریت کی حقیقت ظاہر ہو وَ بِصَدَهَا تَتَّبَيَّنَ الأشْيَاء اور چیزیں اپنی ضدوں ہی سے پہچانی جاتی ہیں ) خیر و کمال مہیا تھا شر و نقص اس کے لئے چاہئے تھا۔ حُسن و جمال کے لئے آئینہ کی ضرورت ہے اور آئینہ نہیں ہوتا مگر کسی شے کے مقابل۔ پس معلوم ہوا کہ خیر کے لئے شر اور کمال کے لئے نقص بمنزلہ آئینے کے ہے۔ پس جس چیز میں نقص و شرارت زیادہ ہو گا۔ اسی قدر خیر و کمال اس میں زیادہ نمایاں ہوگا۔ عجب معاملہ ہے کہ اس زم میں مدح کے معنی پیدا کئے اور یہ شرارت و نقصان خیر و کمال کا محل ہو گیا۔


پس یہی وجہ ہے کہ مقام عبدیت تمام مقامات سے بلند ہے کیونکہ یہ معنی مقام عبدیت میں کامل اور پورے طور پر پائے جاتے ہیں۔ محبوبوں کو اس مقام سے مشرف فرماتے ہیں اور محب شہود کے ذوق سے لذت پاتے ہیں۔ بندگی میں لذت کا حاصل ہونا اور اس کے ساتھ اُنس پکڑنا محبوبوں کے ساتھ مخصوص ہے۔ محبوں کا اُنس محبوب کے مشاہدہ میں ہے۔ محبوبوں کا اُنس محبوب کی بندگی میں۔ اس اُنس میں ان کو اس (وید نقص کی ) دولت سے مشرف کرتے اور اس نعمت سے سرفراز فرماتے ہیں۔ اس میدان کے تیز رفتار شہسوار دین و دنیا کے سردار اور اولین و آخرین کے سردار حبیب رب العالمین صلى الله عليه وسلم ہیں اور جس کسی کو محض اپنے فضل سے یہ دولت بخشنا چاہتے ہیں اس کو آنحضرت کی کمال متابعت عنایت فرماتے ہیں اور اس وسیلہ سے اس کو بلند درجہ پر لے جاتے ہیں ۔ ذلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَّشَاءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ ( یہ الہ تعالیٰ کا فضل ہے جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل والا ہے۔)
کمال شر اور نقص سے مراد اس کا علم ذوقی ہے نہ یہ کہ شرارت و نقص سے متصف ہو۔ اس علم والا اللہ تعالٰی کے اخلاق سے متخلق ہے اور یہ علم بھی اسی تخلق کے ثمروں میں سے ہے۔ شرارت و نقص کو اس مقام میں کیا مجال ہے۔ سوائے اس کے کہ علم اس کے متعلق ہو۔ یہ علم شہود تام کی وجہ سے خیر محض ہے کہ جس کے پہلو میں سب کچھ شر دکھائی دیتا ہے۔ یہ معاملہ نفس مطمئنہ کے اپنے مقام پر اتر آنے کے بعد ہے۔


پس بندہ جب تک اس طرح اپنے آپ کو زمین پر نہ ڈالے اور کام یہاں تک نہ پہنچائے ۔ اپنے مولائے جل شانہ کے کمال سے بے نصیب ہے۔ پس اس کا کیا حال ہوگا جو اپنے آپ کو مین مولا جانے اور اپنی صفات کو اس ذات پاک کی صفات خیال کرے۔ تَعَالَى اللهُ عَن ذَلِكَ عُلُوًّا كَبِيراً (اللہ تعالیٰ کی ذات اس سے بہت بلند ہے ) یہ امر اسماء وصفات میں الحاد و زندقہ ہے۔ اس عقیدے والے لوگ اس گروہ میں شامل ہیں جن کے حق میں یہ آیت ہے۔ وَذَرُوالَّذِينَ يَلْحِدُونَ فِي اَسْمَائِهِ ( ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں میں الحاد کرتے ہیں ) یہ نہیں کہ جس کا جذ بہ سلوک پر مقدم ہے، محبوبین میں سے ہے لیکن محبوبیت میں جذ بہ کا اول ہونا شرط ہے ہاں ہر جذ بہ میں محبوبیت کے ایک قسم کے معنی حاصل ہیں کہ جن کے بغیر جذ بہ نہیں ہوتا اور وہ معنی عوارض سے پیدا ہوئے ہیں۔ ذاتی نہیں ہیں اور وہ ذاتی معنی کسی شے سے معلل اور وابستہ نہیں ہیں جس طرح ہر منتہی کو آخر جذ بہ حاصل ہے لیکن محبوں کے زمرہ میں داخل ہے نہ زمرہ محبوبین میں اسی طرح عارض کے سبب محبوبیت کے معنی پیدا ہوئے ہیں اور یہ بات اس کے حق میں کافی نہیں ہے اور وہ عارض تصفیہ اور تزکیہ ہے اور بعض مبتدیوں میں آنحضرت صلى الله عليه وسلم کی اتباع اگر چہ بعض امور میں ہو مجمل طور پر اس معنی کے حاصل ہونے کا باعث ہے بلکہ منتہی میں بھی اتباع ہی ہے اور محبوبوں میں ان ذاتی فضلی معنوں کا ظہور بھی آنحضرت صلى الله عليه وسلم کی اتباع سے وابستہ ہے بلکہ میں کہتا ہوں وہ ذاتی معنی تھی آنحضرت صلى الله عليه وسلم کی ذاتی مناسبت کی وجہ سے ہیں اور وہ اسم جو اس کا رب ہے اس خصوصیت کے حق میں اس اسم کے مناسب واقع ہوا ہے جو آنحضرت صلى الله عليه وسلم کا رب ہے اور وہاں سے یہ سعادت حاصل کی ہے… وَاللهُ سُبْحَانَهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ وَإِلَيْهِ المَرْجِعُ وَالْمَابُ وَالله يُحِقُّ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِى السَّبِيْلُ ) اور اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے اور اسی کی طرف بازگشت ہے اور اللہ حق ظاہر کرتا ہے اور سیدھا راستہ دکھاتا ہے

نوٹس : ویب سائیٹ میں لفظی اغلاط موجود ہیں، جن کی تصیح کا کام جاری ہے۔ انشاء اللہ جلد ان اغلاط کو دور کر دیا جائے گا۔ سیدنا مجدد الف ثانی علیہ رحمہ کے مکتوبات شریف کو بہتر طریقے سے پڑھنے کے لئے کتاب کا مطالعہ ضرور کریں۔ جزاک اللہ خیرا