94

مکتوب 8: اخص خواص اور عوام اور متوسطوں کے ایمان بالغیب کے درمیان فرق کے بیان میں


مکتوب 8

اخص خواص اور عوام اور متوسطوں کے ایمان بالغیب کے درمیان فرق کے بیان میں خانخاناں کی طرف صادر فرمایا ہے۔

الْحَمْدُ لِلَّهِ وَسَلَام عَلَى عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفیٰ ( اللہ تعالیٰ کے لیے حمد ہے اور اس کے برگزیدہ بندوں پر سلام ہو )


از هر چه میر ودخن دوست خوشتر است
ترجمہ
کلام یار بہتر ہے کلاموں سے
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَإِذَا سَتَلَكَ عِبَادِي عَنِى فَانِي قَرِيب ” ( جب میرے بندے تجھ سے میری نسبت سوال کریں تو میں قریب ہوں ) اور جگہ فرماتا ہے ۔ مَا يَكُونُ مِنْ نَّجْوَى ثَلاثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَلَا خَمْسَةٍ إِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَلا أَدْنَى مِنْ ذَلِكَ وَلَا أَكْثَرَ إِلَّا هُوَ مَعَهُمْ أَيْنَمَا كَانُوا ( جہاں تین آدمی مشورہ کریں وہاں چوتھا اللہ تعالیٰ ہوتا ہے اور پانچ ہوں تو چھٹا
خدا ہوتا ہے اور خواہ ان سے زیادہ ہوں یا کم ۔ ہر حال میں اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہوتا ہے ) حق تعالیٰ کی قرب ومعیت اس کی ذات کی طرح بیچون و بچگون ہے کیونکہ چون کو بچون کی طرف کوئی راہ نہیں اور اس قرب ومعیت سے جو ہمارے عقل و فہم یا کشف و شہود میں آسکے حق تعالیٰ منزہ ومبرا ہے کیونکہ یہ بات مذہب مجسمہ میں قدم رکھتی ہے۔


ہم ایمان لاتے ہیں کہ حق تعالیٰ ہمارے قریب اور ساتھ ہے لیکن قرب ومعیت کے معنی ہم نہیں جانتے کہ کیا ہیں ۔ اس جہان میں کاموں کا اعلیٰ نصیب حق تعالیٰ کی ذات وصفات سے غیب کے ساتھ ایمان لانا ہے۔

بیت :
دور بینان بارگاه الست پیش
ازیں پے نبرده اند که جست بیش.

ترجمه: بارگاہ الست کے محرم
بست سے آگے لے گئے نہ قدم

ایمان بالغیب جو اخص خواص کے نصیب ہے، عوام کے ایمان بالغیب کی طرح نہیں ہے۔
عوام نے سماع اور استدلال کے ساتھ ایمان غیب حاصل کیا ہے اور اخص خواص نے جمال و جاہل کے ظلال اور تجلیات و ظہورات کے پردوں کے پیچھے غیب الغیب کا مطالعہ کر کے ایمان غیب حاصل کیا ہے اور متوسط طلال کو اصل خیال کر کے اور تجلیات کو عین متجلی جان کر ایمان شہودی کے ساتھ خوش ہیں ۔ ان کے حق میں ایمان بالغیب نصیب اعدا ہے۔ كُلِّ حِزْبٍ بما لديهم فرخون ( ہر ایک گروہ اپنے اپنے طریق پر خوش ہے ) دیگر آپ کو تکلیف دی جاتی ہے کہ مولانا عبد الغفور اور مولانا حاجی محمد خاص یاروں میں سے ہیں۔ ان کے ساتھ جس طرح کا احسان و سلوک کریں گے، فقیر کی احسان مندی کا موجب ہوگا۔

بر کریماں کا رہا دشوار نیست
ترجمہ
کریموں پر نہیں مشکل کوئی کام

والسلام

نوٹس : ویب سائیٹ میں لفظی اغلاط موجود ہیں، جن کی تصیح کا کام جاری ہے۔ انشاء اللہ جلد ان اغلاط کو دور کر دیا جائے گا۔ سیدنا مجدد الف ثانی علیہ رحمہ کے مکتوبات شریف کو بہتر طریقے سے پڑھنے کے لئے کتاب کا مطالعہ ضرور کریں۔ جزاک اللہ خیرا