91

مکتوب 7: مراتب پنجگانہ محبوبیت اور محسبیت اور محبت اور حب اور رضا اور ان سے ایک اور برتر مرتبہ کے بیان میں


مکتوب 7

مراتب پنجگانہ محبوبیت اور محسبیت اور محبت اور حب اور رضا اور ان سے ایک اور برتر مرتبہ کے بیان میں اور اس بیان میں کہ ان مراتب میں سے ہر ایک پیغمبر کے ساتھ مخصوص ہے۔ فقیر حقیر عبدائی کی طرف جو ان مکتوبات شریف کا جامع ہے، صادر فرمایا ہے۔

الْحَمْدُ لِلَّهِ وَسَلامٌ على عباده الذين اصطفى وَالْحَمْدُ للهِ الَّذِى انعم علينا وَهَدَانَا إِلَى الإسلام وجعلنا من أمة حبيبه مُحَمَّدٍ صَلَّى الله عليه وعلى اله وسلم اللہ تعالیٰ کا حمد ہے اور اس کے برگزیدہ بندوں پر سلام ہو اور اللہ تعالیٰ کا تد ہے جس نے ہم پر انعام کیا اور اسلام کی ہدایت دی اور ہم کو اپنے حبیب حضرت محمد صلى الله عليه وسلم کی امت میں سے بنایا ) خدا تجھے ہدایت دے۔ تجھے معلوم ہونا چاہئے کہ محبت ذاتیہ میں کہ حق تعالیٰ اپنے آپ کو دوست رکھتا ہے۔ تین اعتبار ہیں ۔ محبوبیت اور حسبیت اور محبت ۔ محبوبیت ذاتیہ کے کمالات کا ظہور حضرت خاتم الرسل علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ مخصوص ہے۔ خلاصہ یہ کہ محبوبیت کی جانب میں دو کمال ہیں۔ فعلی اور انفعالی فعلی اصل ہے اور انفعالی اس کی تابع ۔ لیکن انفعال فعل کی علت غائی ہے۔ اگر چہ وجود میں متاخر ہے لیکن تصور میں متقدم ہے اور کمالات محسبیت کا ظہور حضرت کلیم اللہ علیہ والصلوۃ والسلام کے نصیب ہے اور اعتبار سوم میں جو نفس محبت ہے۔ اوّل دفعہ ابوالبشر حضرت آدم علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام اور دوسری دفعہ حضرت ابراہیم علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام اور تیسری بار حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام بھی مشہود ہوئے ۔ وَالْأَمْرُ إِلَى اللَّهُ سُبْحَانَهُ ( حقیقت امر اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے )


جس طرح حق تعالیٰ اپنے آپ کو دوست رکھتا ہے، اسی طرح اپنے اسماء وصفات و افعال کے کمالات کو بھی دوست رکھتا ہے۔ حق تعالٰی کے اپنے اسماء وصفات کی اس محبت کا ظہور حضرت خلیل علیہ الصلوۃ والسلام میں کامل طور پر ہے اور اسماء وصفات و افعال کے محبوبیت کا ظہور ان کی محسبیت کے ظہور کی طرح دوسرے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام میں متحقق ہے ۔ چونکہ اسما . وصفات و افعال کے ظلال بھی ہیں ، اس لیے ان ظلال کے محبوبیت کا ظہور ان کے اصول کے واسطہ سے مراد اور محبوب اولیاء کا نصیب ہے جس طرح کہ ان ظلال کے محسبیت کا ظہور اولیائے مریدین اور محبین کا حصہ ہے۔

محبت ذاتیہ کے مقام کے اوپر حب کا مقام ہے جو ان تینوں اعتباروں کا جامع اور ان کا اجتمال ہے اور مقام رضا مقام محبت وحب کے اوپر ہے کیونکہ محبت میں نسبتیں اجمالی اور تفصیلی طور پر پائی جاتی ہیں اور مقام رضا میں نسبتیں حذف ہوتی ہیں جوحق تعالی کی ذات کے مناسب ہیں ۔ مقام رضا کے اوپر حضرت خاتم الرسل علیہ الصلوۃ والسلام کے سوا کسی کا قدم نہیں ۔ شاید جو اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا ہے کہ بنی مَعَ اللَّهِ وَقَتْ لَا يَسْعُنِي فِيْهِ مَلَكَ مُقَرَّب” وَلَا نَبِيُّ مُرْسَل ( اللہ تعالیٰ کے ساتھ میرا ایک ایسا وقت ہے جس میں کسی فرشتہ مقرب اور نبی مرسل کو دخل نہیں ) اسی مقام کی نسبت خبر دی ہے۔ اور ایک حدیث قدسی میں وارد ہے کہ
يَا مُحَمَّدُ أَنَا وَانْتَ وَمَا سِوئِكَ خَلَقْتُ لأجَلِكَ فَقَالَ مُحَمَّدٌ عَلَيْهِ الصَّلَوةُ وَالسَّلامُ اللَّهُمَّ أَنتَ وَمَا أَنَا وَمَا سِوئِكَ تَرَكْتُ لَا جُلِكَ (اے محمد صلى الله عليه وسلم میں اور تو اور تیرے سوا جو کچھ ہیں، سب تیرے لیے پیدا کیا ہے ۔ پھر حضرت محمد صلى الله عليه وسلم نے کہا کہ یا اللہ تو ہے اور میں نہیں اور میں نے تیرے سوا سب کچھ تیرے لیے ترک کر دیا ) شاید اسی خصوصیت کی طرف اشارہ ہے۔


آج محمد رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی شان کو کیا پاسکیں اور ان کی عظمت و بزرگی اس جہان میں کیا پہچان سکیں کیونکہ بچ جھوٹ کے ساتھ اور حق باطل کے ساتھ اس جہان میں ملا ہوا ہے۔ قیامت کے دن ان کی بزرگی معلوم ہوگی جب کہ پیغمبروں کے امام ہوں گے اور ان کی شفاعت کریں گے اور ضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام اور تمام انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام ان کے جھنڈے کے نیچے ہوں گے ۔ اس موطن خاص میں جو مقام رضا کے اوپر ہے، اگر ان کے پس خوردہ کھانے والے خادموں میں سے کسی خادم کو وراثت و تبعیت کے طور پر جگہ دیدیں اور ان کے طفیل اس بارگاہ کا محرم بنادیں تو کوئی بڑی بات نہیں ۔


بر کریماں کارہاد شوار نیست
ترجمہ
سخیوں پر نہیں یہ کام دشوار


اس بات سے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام پر غیر کی زیادتی اور برتری لازم نہیں آتی۔ خادم اپنے مخدوم کے ساتھ کب برابر ہوتا ہے اور تابع کو اپنے متبوع کے ہمسروں کے ساتھ کیا نسبت۔ اصل مقصود بالذات ہوتا ہے اور تابع طفیلی تابع کا معاملہ صرف ایک جز کی فضیلت تک ہی ہوتا ہے جس میں کچھ حرج نہیں کیونکہ ہر ایک، جوالا ہا اور حجام اپنی صنعت کے اعتبار سے ہر ذی فنون عالم پر

فضیلت رکھتا ہے اور اعتبار سے ساقط ہے۔


ہمارا کلام اشارات اور رموز اور بشارات اور ایسے خزانے ہوتے ہیں کہ جب تک حسن ظن کے ساتھ ان کی تصدیق نہ کریں کسی کو ان کا حصہ نہیں ملتا اور نہ ہی ان سے کوئی ثمرہ اور نفع پاسکتا ہے۔ وَاللَّهُ سُبْحَانَهُ الْمُوَفِّقُ ( اللہ تعالیٰ توفیق دینے والا ہے )


وَالسَّلامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى وَالْتَزَمَ مُتَابَعَةَ الْمُصْطَفَى عَلَيْهِ وَعَلَى جَميعِ إِخْوَانِهِ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ وَالْمَلَئِكَةِ الْمُقَرَّبَيْنَ مِنَ الصَّلَوَاتِ أَفْضَلُها وَمِن التسليمات اكملها ) سلام ہو اس شخص پر جس نے ہدایت اختیار کی اور حضرت محمد مصطفی ﷺ ہے کی متابعت کو لازم پکڑا۔

نوٹس : ویب سائیٹ میں لفظی اغلاط موجود ہیں، جن کی تصیح کا کام جاری ہے۔ انشاء اللہ جلد ان اغلاط کو دور کر دیا جائے گا۔ سیدنا مجدد الف ثانی علیہ رحمہ کے مکتوبات شریف کو بہتر طریقے سے پڑھنے کے لئے کتاب کا مطالعہ ضرور کریں۔ جزاک اللہ خیرا