91

مکتوب 4 : اس بیان میں کہ علم الیقین اور حق الیقین جو بعض صوفیوں نے مقرر کیے ہوئے ہیں


مکتوب 4

اس بیان میں کہ علم الیقین اور حق الیقین جو بعض صوفیوں نے مقرر کیے ہوئے ہیں، در حقیقت علم الیقین کے تین حصوں میں سے دو حصے ہیں اور علم الیقین کا ایک حصہ ابھی آگے ہے۔ پھر عین الیقین اور حق الیقین کا کیا ذکر ہے اور اس بیان میں کہ ان علوم کا صاحب اس ہزار کا مجدد ہے۔ میر محمد نعمان کی طرف صادر فرمایا ہے:


الْحَمْدُ لِلَّهِ وَسَلامٌ عَلَى عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفیٰ ( اللہ تعالیٰ کے لیے حمد ہے اور اس کے برگزیدہ بندوں پر سلام ہو ) مدت گزری ہے کہ آپ نے اپنی خیریت کے احوال سے اطلاع نہیں بخشی ۔ آپ کی صحت و استقامت اللہ تعالیٰ ۔ آپ کو واضح ہو کہ علم الیقین ان آیات کے شہود سے مراد ہے جو عین علمی کا فائدہ دیتی ہیں۔ یہ شہود در حقیقت اثر سے موٹر کی طرف استدلال کا نام ہے۔ پس جو کچھ تجلیات و ظہورات آفاق و انفس کے آئینوں میں دیکھے جاتے ہیں ، سب اثر سے موثر کی طرف دلالت پانے کی قسم سے ہیں ۔ اگر چہ ان تجلیات کو تجلیات ذاتیہ اور ان ظہورات کو بے کیف کہیں کیونکہ آئینے میں کسی شے کا ظہور اس شے کے آثار میں سے ایک اثر ہے نہ کہ اس شے کے عین کا حصول۔

پس سیر آفاق اور انفسی تمامہ دائرہ علم الیقین سے قدم باہر نہیں لے جاتا اور اثر سے موثر کی طرف استدلال کے سوا کچھ اس کے نصیب نہیں ہوتا ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ سَنُرِيهِمُ ايَتِنَا فِی الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمُ أَنَّهُ الْحَقُّ ( ہم ان کو آفاق دنیا میں اور ان کے اپنے نفسوں میں نشان دکھا ئیں گے تاکہ ان پر ظاہر ہو جائے کہ وہ حق ہے )
دوسروں نے سیر آفاق کو علم الیقین سے جاتا ہے اور عین الیقین اور حق الیقین کو سیر انفسی میں ثابت کیا ہے اور انفس کے سوا اور کوئی سیر بیان نہیں کیا۔


آں ایشا نند و من چینم يارب
ترجمہ
وہ ایسے ہیں میں ایسا ہوں یا رب ۔


آپ جانتے ہیں کہ حق تعالی بندہ سے بندہ کی نسبت زیادہ نزدیک ہے۔ پس بندہ سے حق تعالٰی تک اقر بیت کی جانب میں ایک اور سیر درمیان ہے جس کے قطع کرنے پر وصول الی اللہ منحصر ہے۔ یہ تیسرا سیر بھی حقیقت میں علم الیقین ہی کو ثابت کرتا ہے۔ اگر چہ دائر و ظلیت سے باہر ہے لیکن ظلیت کی آمیزش سے پاک وصاف نہیں کیونکہ حق تعالی کے اسماء وصفات در حقیقت حضرت ذات تعالیٰ کے ظلال میں اور جس میں ظلیت کی ملاوٹ ہو ۔ وہ آثار و آیات میں داخل ہے۔ پس انہوں نے علم الیقین کے تین سیروں میں سے ایک سیر کو علم الیقین کے ساتھ مخصوص کیا ہے اور علم اور الیقین کے دوسرے سیر کو عین الیقین حاصل کرنے والا سمجھا ہے اور تیسرے سیر کو بیان ہی نہیں کیا تا کہ علم الیقین کا دائرہ تمام ہو جا تا۔ ابھی عین الیقین اور حق الیقین آگے ہیں۔

قیاس کن ز گلستان من بهار مرا
ترجمہ
میری بہار تو کر لے قیاس بستان س

ے یہ فقیر عین الیقین اور حق الیقین کی نسبت کیا بیان کرے اور اگر کچھ بیان کرے تو کوئی کیا سمجھے گا اور کیا معلوم کرے گا۔ یہ معارف احاطہ ولایت سے خارج ہیں۔ ارباب ولایت علماء ظاہر کی طرح ان کے ادراک سے عاجز اور ان کے سمجھنے سے قاصر ہیں ۔ یہ علوم انوار نبوت علی صاحبہا الصلوة والسلام والتحیہ کی مشکوۃ سے مقتبس میں جو الف ثانی کی تجدید کے بعد تبعیت ووراثت کے طور پر تازہ ہوئے ہیں اور تر و تازہ ہو کر ظاہر ہوئے ہیں۔ ان علوم و معارف کا صاحب اس الف کا مجدد ہے۔ چنانچہ اس کے ان علوم و معارف میں جو ذات و صفات اور افعال اور احوال و موا جید اور تجلیات و ظہورات کے متعلق میں نظر غور کرنے والوں سے پوشیدہ نہیں ۔ وہ جانتے ہیں کہ یہ تمام علوم و معارف علماء کے علوم ہیں اور اولیاء کے معارف وراء الوراء ہیں بلکہ یہ علوم ان علوم کے مقابلہ میں پوست کی طرح ہیں اور یہ معارف اس پوست کی مغز کی مانند – والله سبحانه الهادی ( الله ہی ہدایت دینے والا ہے ) جاننا چاہئے کہ ہر سو سال کے بعد ایک مجدد گزرا ہے لیکن سو سال کا مجدد اور ہے اور ہزار کا مجدد اور جس قد ر سو اور ہزار کے درمیان فرق ہے۔ اسی قدر بلکہ اس سے زیادہ دنوں مجددوں کے درمیان فرق ہے اور مجدد وہ ہوتا ہے کہ جو فیض اس مدت میں امتوں کو پہنچنا ہوتا ہے۔ اس کےذریعے پہنچتا ہے، خواہ اس وقت کے اقطاب واوتا ہوں اور خواہ ابدال و نجباء۔

خاص کند بنده مصلحت عام را
ترجمہ
خاص کر لیتا ہے اک کوتا بھلا ہو عام کا


وَالسَّلامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى وَالْعَزَمَ مُتابَعَةَ الْمُصْطَفَى وَعَلَى الهِ الصَّلَوَاتُ وَالتَّسْلِيمَاتُ العُلى وَعَلى جَمِيعِ اخوته من الأنبياء والْمُرْسَلِينَ وَالْمَلَئِكَة وَالْمُقَرَّبِينَ وَعِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَجْمَعِينَ.


سلام ہو اس شخص پر جس نے ہدایت اختیار کی اور حضرت محمد صلى الله عليه وسلم کی متابعت کو لازم پکڑا۔

نوٹس : ویب سائیٹ میں لفظی اغلاط موجود ہیں، جن کی تصیح کا کام جاری ہے۔ انشاء اللہ جلد ان اغلاط کو دور کر دیا جائے گا۔ سیدنا مجدد الف ثانی علیہ رحمہ کے مکتوبات شریف کو بہتر طریقے سے پڑھنے کے لئے کتاب کا مطالعہ ضرور کریں۔ جزاک اللہ خیرا