95

مکتوب 39: اصحاب یمین اور اصحاب شمال اور سابقین کے بیان میں


مکتوب 39

اصحاب یمین اور اصحاب شمال اور سابقین کے بیان میں سید عبدالباقی سارنگ پوری کی طرف صادر فرمایا ہے:


بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ


الحمدُ للهِ وَسَلامٌ عَلَى عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفیٰ ( اللہ تعالیٰ کے لیے حمد ہے اور اس کے برگزیدہ بندوں پر سلام ہو ۔ ) خدا تجھے ہدایت دے۔ تجھے واضح ہو کہ اصحاب شمال ظلمانی حجابوں والے لوگ ہیں اور اصحاب یمین نورانی حجابوں والے۔ سابقین و دادگ میں جو ان حجابوں اور ان حجابوں سے نکل گئے ہیں اور ایک قدم شمال پر اور ایک قدم یمین پر رکھ کر سبقت کا گیند اصل کے میدان میں لے گئے ہیں اور ظلال امکانی اور ظابال و جوبی سے اوپر گزر گئے ہیں اور اسم وصفت اور شان و اعتبار سے سوائے ذات کے اور کچھ نہیں چاہتے ۔ اصحاب شمال ارباب کفر و شقات ہیں اور اصحاب یقین اہل اسلام اور ارباب ولایت میں اور سابقین بالا صالت انبیاء علیہم الصلوات والتسلیمات ہیں یا وہ لوگ جن کو تبعیت و وراثت کے طور پر اس دولت سے مشرف فرمائیں۔ یہ دولت تبعیت کے طور پر انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے بزیر گوار اصحاب میں زیادہ تر پائی جاتی ہے اور اصحاب کے سوا دوسرے لوگوں میں بھی شاذ و نا درطور پر تحقق و ثابت ہے۔ حقیقت میں یہ شخص بھی زمرہ اصحاب میں سے ہے اور انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے کمالات سے ملنے والا ہے۔ اس شخص کے حق میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا ہے۔

لا یدری أَوَّلُهُمْ خَيْر أَمْ آخِرُهُمُ ( نہیں معلوم ان میں سے اوّل اچھا ہے یا آخر کا ) اگر چہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ خَيْرُ الْقُرُونِ قَرْنِی ( میرا زمانہ سب زمانوں سے بہتر زمانہ ہے ) لیکن اس کو باعتبار قرون کے فرمایا ہے اور اس کو باعتبار اشخاص کے ۔ وَاللَّهُ سُبْحَانَهُ أَعْلَمُ لیکن اہل سنت کا اجماع انبیا علیہم الصلوۃ والسلام کے بعد شیخین کی فضیلت پر ہے۔ کوئی ایسا شخص نہیں جو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ پر سبقت لے گیا ہو۔ اس امت کے سابقوں کے سابق اور اس ملت کے پہلوں کے پہلے وہی ہیں۔ حضرت فاروق رضی اللہ عنہ انہی کے ذریعے افضلیت واسبقیت کی دولت سے مشرف ہوئے ہیں اور انہی کے واسطہ سے دوسروں سے بڑھ گئے ہیں۔ یہی باعث ہے کہ حضرت فاروق رضی اللہ عنہ خود کو خلیفہ صدیق رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے اور خطبہ میں خلیفة خليفة رَسُولِ الله یعنی رسول اللہ کے خلیفے کا خلیفہ پڑھا کرتے تھے۔ اس معاملہ کے شہسوار حضرت صدیق رضی اللہ عنہ ہیں اور حضرت فاروق اس کے ردیف ہیں۔ کیا ہی عمدہ ردیف ہے جو شہسوار کے ساتھ ہمراہی اختیار کرے اور خاص خاص اوصاف میں اس کے ساتھ شریک ہو۔


اب ہم اصل بات کو بیان کرتے اور کہتے ہیں کہ سابقین یمین اور شمال کے احکام سے خارج ہیں اور ظلمانی اور نورانی معاملات سے برتر ہیں۔ ان کی کتاب یین و شمال کی کتاب کے سوا ہے اور ان کا محاسبہ اصحاب یمین اور اصحاب شمال کے محاسبہ سے وراء الوراء ہے۔ ان کا کاروبار ملیحدہ ہے اور ان کے ناز و ادا الگ ہیں۔ اصحاب یمین اصحاب شمال کی طرح ان کے کمالات کو کیا پا سکتے ہیں اور ارباب ولایت عام مومنوں کی طرح ان کے اسرار سے کیا حاصل کر سکتے ہیں۔ قرآن کے حروف مقطعات ان کے اسرار کی زمزیں ہیں اور فرقانی متشابہات ان کے درجات کے خزانے ہیں ۔ اصل کے وصول نے ان کو کل سے فار کر دیا ہے اور ارباب ظلال کو ان کی خاص حریم سے دور کر دیا ہے۔

یہی لوگ مقرب ہیں اور روح و ریحان انہی کے نصیب ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو فزع اکبر یعنی قیامت سے غمناک نہیں ہوتے اور دوسروں کی طرح قیامت کے ڈر سے بے قرار نہیں ہوتے ۔

اللَّهُمَّ اجْعَلْنَا مِنْ مُحِبَيْهِمْ فَإِنَّ الْمَرْءِ مَعَ مَنْ أَحَبَّ بِصَدْقَةِ سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ عَلَيْهِ وَعَلَى الِهِ وَعَلَيْهِمُ الصَّلَوَاتُ وَالتَّسْلِيمَاتُ وَالتَّحِيَاتُ وَالْبَرَكَاتُ يا اللہ تو سید المرسلین صلى الله عليه وسلم کے طفیل ہم کو ان لوگوں کے محبوں میں سے بنا کیونکہ آدمی اسی کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ اس کو محبت ہوگی۔

نوٹس : ویب سائیٹ میں لفظی اغلاط موجود ہیں، جن کی تصیح کا کام جاری ہے۔ انشاء اللہ جلد ان اغلاط کو دور کر دیا جائے گا۔ سیدنا مجدد الف ثانی علیہ رحمہ کے مکتوبات شریف کو بہتر طریقے سے پڑھنے کے لئے کتاب کا مطالعہ ضرور کریں۔ جزاک اللہ خیرا