92

مکتوب 38: اس بیان میں کہ اہل اللہ کو باطن میں دنیا کے ساتھ رائی کے دانہ جتنا تعلق بھی نہیں ہوتا


مکتوب 38

اس بیان میں کہ اہل اللہ کو باطن میں دنیا کے ساتھ رائی کے دانہ جتنا تعلق بھی نہیں ہوتا۔ اگر چہ بظاہر دنیا اور دنیا کے اسباب میں مشغول ہوتے ہیں ۔ حاجی محمد یوسف کشمیری کی طرف سے صادر فرمایا ہے۔

الْحَمْدُ لِلَّهِ وَسَلامُ عَلَى عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفیٰ ( اللہ تعالیٰ کے لیے حمد ہے اور اس کے برگزیدہ بندوں پر سلام ہو ) خدا کی معرفت اس شخص پر حرام ہے جس کے باطن میں دنیا کی محبت رائی کے دانہ جتنی بھی ہو یا اس کے باطن کو دنیا کے ساتھ اس قدر تعلق ہو یا دنیا کی اتنی مقدار اس کے باطن میں گزرتی ہو ۔ باقی رہا ظاہر ، اس کا ظاہر جو باطن سے کئی منزلیں دور پڑا ہے اور آخرت سے دنیا میں آیا ہے اور اس کے لوگوں کے ساتھ اختلاط پیدا کیا ہے تا کہ وہ مناسبت حاصل ہو جو افادہ اور استفادہ میں مشروط ہے۔ اگر دنیا کی کلام کرے اور دنیاوی اسباب میں مشغول رہے تو گنجائش رکھتا ہے اور کچھ مذموم نہیں بلکہ محمود ہوتا ہے تاکہ بندوں کے حقوق ضائع نہ ہوں اور استفاده وافادہ کا طریق بند نہ ہو جائے ۔ پس اس شخص کا باطن اس کے ظاہر سے بہتر ہوتا ہے اور جو نما گندم فروش کو حکم رکھتا ہے۔ ظاہر بین لوگ اس کو اپنی طرح گندم نما جو فروش تصور کرتے ہیں اور اس کے ظاہر کو اس کے باطن سے بہتر جانتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ بظاہر بے تعلق دکھائی دیتا ہے مگر باطن میں گرفتار ہے ۔

رَبَّنَا افْتَحُ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنْتَ خَيْرُ الْفَاتِحِيْنَ ( یا للہ تو ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر ۔ تو سب سے اچھا فیصلہ کرنے والا ہے ( وَ السَّلامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى وَالْتَزَمَ مُتَابَعَةَ الْمُصْطَفَى عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ الصَّلَوَاةُ وَالتَّسْلِيْمَاتُ ( سلام ہو اس شخص پر جس نے ہدایت کا راستہ اختیار کیا اور حضرت محمدمصطفے صلى الله عليه وسلم کی متابعت کو لازم پکڑا ۔)

نوٹس : ویب سائیٹ میں لفظی اغلاط موجود ہیں، جن کی تصیح کا کام جاری ہے۔ انشاء اللہ جلد ان اغلاط کو دور کر دیا جائے گا۔ سیدنا مجدد الف ثانی علیہ رحمہ کے مکتوبات شریف کو بہتر طریقے سے پڑھنے کے لئے کتاب کا مطالعہ ضرور کریں۔ جزاک اللہ خیرا