102

مکتوب 33 : برے علما کی مذمت میں جو دنیا کی محبت میں گرفتار ہیں اور جنہوں نے علم کو دنیا حاصل کرنے کا وسیلہ بنایا ہے۔ اور علماء زاہد کی تعریف میں جو دنیا سے بے رغبت ہیں


مکتوب (33)

برے علما کی مذمت میں جو دنیا کی محبت میں گرفتار ہیں اور جنہوں نے علم کو دنیا حاصل کرنے کا وسیلہ بنایا ہے۔ اور علماء زاہد کی تعریف میں جو دنیا سے بے رغبت ہیں مُلا حاجی محمد لاہوری کی طرف لکھا ہے:۔


علماء کے لئے دنیا کی محبت اور رغبت ان کے جمال کے چہرہ کا بدنما داغ ہے۔ مخلوقات کو اگر چہ ان سے بہت فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ مگر ان کا علم ان کے اپنے حق میں نافع نہیں ہے۔ اگر چہ شریعت کی تکذیب اور مذہب کی تقویت ان پر مترتب ہے مگر کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہ تائید و تقویت فاجر فاسق سے بھی ہو جاتی ہے جیسے کہ سید الانبیاء صلى الله عليه وسلم نے فاجر آدمی کی تائید کی نسبت خبر دی ہے اور فرمایا ہے کہ إِنَّ اللهَ لَيُوْ يَد هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ

یہ علماء پارس پتھر کی طرح ہیں کہ تانبا اور لوہا جو اس کے ساتھ لگ جائے سونا ہو جاتا ہے اور وہ اپنی ذات میں پتھر کا پھر ہی رہتا ہے ایسے ہی وہ آگ جو پتھر اور بانس میں پوشیدہ ہے جہان کو اس آگ سے کئی طرح کے فائدے حاصل ہیں۔ لیکن وہ پتھر اور بانس اس اپنی اندرونی آگ سے بےنصیب ہیں ۔

بلکہ ہم کہتے ہیں کہ یہ علم ان کے اپنے نفس کے حق میں مضر ہے کہ حجت کو ان پر پورا کر دیا۔ إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ القِيَامَةِ عَالَم لَمْ يَنْفَعَهُ اللَّهُ بِعِلمِهِ ( تحقیق لوگوں میں سے زیادہ عذاب کا مستحق قیامت کے دن وہ عالم ہے جس کو اپنے علم سے کچھ نفع حاصل نہ ہوا) اور کیونکر مضر نہ ہو۔ وہ علم جو خدائے تعالیٰ کے نزدیک عزیز اور موجودات میں سے اشرف ہے اس کو دنیائے کمینی مال و جاه و ریاست کے حاصل کرنے کا وسیلہ بنایا ہے حالانکہ دنیا حق تعالیٰ کے نزدیک ذلیل و خوار اور مخلوقات میں سے بدتر ہے۔


پس خدا کے عزیز کو خوار کرنا اور اس کے ذلیل کو عزت دینا بہت برا ہے ۔ حقیقت میں خدا تعالیٰ کے ساتھ مقابلہ کرنا ہے۔ تعلیم دینا اور فتویٰ لکھنا اس وقت فائدہ مند ہے جبکہ خالص اللہ ہی کے لئے ہو اور جب جاہ و ریاست اور مال و بلندی کی آمیزش سے خالی ہو اور اس خالی ہونے کی علامت یہ ہے کہ دنیا میں زاہد ہو اور دنیا و مافیہا سے بے رغبت ہو وہ علماء جو اس بلا میں مبتلا ہیں، اور اس کمینی دنیا کی محبت میں گرفتار ہیں ۔ وہ دنیا کے عالموں میں سے ہیں اور برے عالم اور لوگوں میں سے بدتر اور دین کے چور یہی عالم ہیں ۔ حالانکہ یہ لوگ اپنے آپ کو دین کا پیشوا جانتے ہیں اور مخلوقات میں سے اپنے آپ کو بہتر خیال کرتے ہیں۔


وَ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ عَلَى شَيْءٍ أَلا إِنَّهُمْ هُمُ الْكَذِبُونَ اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَنُ فَانسَهُمْ ذكر اللهِ ، أُولئِكَ حِزْبُ الشَّيْطَنِ ، إِلَّا إِنَّ حِزْبَ الشَّيْطَنِ هُمُ الْخَسِرُونَ اور گمان کرتے ہیں کہ ہم بھی کچھ ہیں، خبر دار یہ لوگ جھوٹے ہیں ۔ ان پر شیطان نے غلبہ پالیا ہے۔ اور ان کو اللہ کی یاد سے غافل کر دیا ہے۔ یہ لوگ شیطان کا گروہ ہیں ۔خبر دار رہو ۔ شیطان کا گروہ کھاٹا کھانے والا ہے۔)

کسی عزیز نے شیطان لعین کو دیکھا کہ فارغ بیٹھا ہے اور گمراہ کرنے اور بہکانے سے خاطر جمع کیا ہوا ہے ۔ اس عزیز نے اس امر کا بھید پوچھا لعین نے جواب دیا کہ اس وقت کے برے عالم میرے ساتھ اس کام میں میرے مددگار ہیں اور مجھ کو اس ضروری کام سے فارغ کر دیا ہے۔

اور واقعی اس زمانے میں جو سستی اور غفلت کہ امور شرعی میں واقع ہوئی ہوئی ہے اور جو فتور کہ مذہب ودین کے رواج دینے میں ظاہر ہوا ہوا ہے۔ سب کچھ ان برے عالموں کی کمبختی اور ان کی نیتوں کی بگڑ جانے کے باعث ہے ہاں وہ علماء جو دنیا سے بے رغبت ہیں اور جاہ و ریاست و مال و بلندی کی محبت سے آزاد ہیں۔ علمائے آخرت سے ہیں اور انبیاء میہم الصلوۃ والسلام کے وارث ہیں اور مخلوقات میں سے بہتر یہی علماء ہیں کہ کل قیامت کے روز ان کی سیاہی فی سبیل اللہ شہیدوں کے خون کے ساتھ تو لی جائے گی اور ان کی سیاہی کا پلا بھاری ہو جائے گا اور نَوْمُ العُلَمَاءِ عِبادة انہی کے حق میں ثابت ہے۔ وہ لوگ ہیں جن کی نظروں میں آخرت کا جمال پسند آیا اور دنیا کی قباحت اور برائی معلوم ہوئی۔ اِسکو بقاء کی نظر سے دیکھا اور اس کو زوال کے داغ سے داغدار معلوم کیا۔ اس واسطے اپنے آپ کو باقی کے سپرد کیا اور فانی سے اپنے آپ کو ہٹا لیا ۔ آخرت کی بزرگی مشاہدہ کرنے کے لوازم سے ہے ۔ لانَّ الدُّنْيَا وَالْآخِرَة ضَرَّتَانِ إِن رَضِيَتُ – احدُهُمَا سَخِطَتِ الأخرى کیونکہ دنیا اور آخرت دونوں سو گئیں ہیں ۔ یعنی دو عور تیں ایک مرد کے نکاح میں رہتی ہیں۔ ایک راضی ہو گئی تو دوسری ناراض ہوگئی اگر دنیا عزیز ہے تو آخرت خوار۔ اور اگر دنیا خوار ہے تو آخرت عزیز۔ ان دونوں کا جمع ہونا گویا دو ضدوں کا جمع ہوتا ہے ۔ما أَحْسَنَ الدِّينَ وَ الدُّنْيَا لَوِ اجْتَمَعَا “دين ودنیا گر جمع ہو جائیں تو کیسا خوب ہے“۔

ہاں بعض مشائخ جو اپنی آروز و اور خواہش سے بالکل نکل چکے ہیں بعض نیک نیتوں کے باعث اہل دنیا کی صورت اختیار کی ہے اور بظاہر رغبت کرنے والی دکھائی دیتے ہیں لیکن حقیقت میں کچھ تعلق نہیں رکھتے اور سب سے فارغ اور آزاد ہیں ۔ رِجَالٌ لَّا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةً وَّلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللہ یہ وہ بہادر لوگ ہیں جن کو تجارت اور بیع اللہ کی یاد سے غافل نہیں کرتی ۔ تجارت و بیع ان کو خدا سے مانع نہیں ہے اور ان امور کے ساتھ تعلق رکھنے کی حالت میں بے تعلق ہیں۔


حضرت خواجہ نقشبند قدس سرہ نے فرمایا ہے کہ میں نے منٰی کے بازار میں ایک تاجر کو دیکھا کہ پنجاہ ہزار دینار کم و بیش کی خرید وفروخت کر رہا تھا اور ایک لحظہ بھی اس کا دل حق تعالیٰ سے غافل
نہ تھا۔

نوٹس : ویب سائیٹ میں لفظی اغلاط موجود ہیں، جن کی تصیح کا کام جاری ہے۔ انشاء اللہ جلد ان اغلاط کو دور کر دیا جائے گا۔ سیدنا مجدد الف ثانی علیہ رحمہ کے مکتوبات شریف کو بہتر طریقے سے پڑھنے کے لئے کتاب کا مطالعہ ضرور کریں۔ جزاک اللہ خیرا