94

مکتوب 33: اس بیان میں کہ محبوب محبت کی نظر میں ہر حال میں محبوب ہے


مکتوب 33

اس بیان میں کہ محبوب محبت کی نظر میں ہر حال میں محبوب ہے، خواہ انعام فرمائے خواہ درد پہنچائے بلکہ اقل و بعض کے نزدیک رنج کا پہنچانا انعام کی نسبت زیادہ محبت بخشتا ہے اور شکر پر حمد کی زیادتی کے بیان میں مولا نا محمد صالح کو لابی کی طرف صادر فرمایا ہے۔


الْحَمْدُ لِلَّهِ وَسَلَام عَلَى عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفیٰ (اللہ تعالٰی کے لیے حمد ہے اور اس کے برگزیدہ بندوں پر سلام ہو۔ )

برادر عزیز مولانا محمد صالح کو واضح ہو کہ محبوب محب کی نظر میں ہر حال میں بلکہ نفس الامر میں ہر وقت و ہر حال میں محبوب ہے، خواہ رنج پہنچائے اور خواہ انعام فرمائے ۔ اکثر لوگوں کے نزدیک جو دولت محبت سے مشرف ہوئے ہیں، ایلام کی نسبت انعام میں محبوب کی زیادہ محبت ہے یا دونوں حالتوں میں محبت برابر و یکساں ہے اور اقل و بعض کے نزدیک اس کے برعکس ہے اور ایلام انعام کی نسبت زیادہ محبت بخش ہیں۔

اس دولت عظمی کا مقدمہ محبوب پر حسن ظن ہے حتی کہ اگر محبوب محب کے حلقوم پر خنجر چلا دے اور اس کے اعضاء کو ایک دوسرے سے الگ کر دے تو محبت اس کو اپنی میں صلات جانے اور اپنی بہتری تصور کرے ۔ جب اس کے حسن ظن کے حاصل ہونے سے محبوب کے فعل کی کراہت محبت کی نظر سے دور ہو جائے تو محبت ذاتی کی دولت سے جو حبیب رب العالمین صلى الله عليه وسلم کے ساتھ مخصوص ہے اور تمام نسبتوں اور اعتباروں سے معرا ہے۔ مشرف ہو جاتا ہے اور محبوب کے ایلام میں اس کے انجام کی نسبت زیادہ لذت و خوشی پاتا ہے۔ میرے خیال میں یہ مقام تمام رضا سے برتر و بلند ہے کیونکہ رضا میں محبوب کے فعل ایلام کی کراہت کا دفع کرنا مقصود ہوتا ہے اور یہاں اس فعل سے لذت حاصل ہوتی ہے کیونکہ محبوب کی جانب سے جس قدر جفا زیادہ ہوتی جاتی ہے، اسی قدر محبت کی جانب سے فرح وسرور زیادہ ہوتا جاتا ہے۔ شـــان مــا بَيْنَهُما ( ان دونوں میں بہت فرق ہے۔ ) چونکہ محبوب محبت کی نظر میں بلکہ نفس الامر میں ہر وقت و ہر حال میں محبوب ہے، اس لیے محبوب ہر وقت و ہر حال میں بلکہ نفس الامر میں محمود ال عمر : ج بھی ہوگا اور محبت اس کے ایلام و انعام کے وقت اس کی ثناء ، مدح کرے گا۔ اس وقت اس محبت کو واجب ہے کہ صادق و مصدق ہو کر کہے ۔ الحمد لله رَبِّ الْعَلَمِيْنَ عَلَى كُلِّ حالِ اوراس وقت یہ محبت حقیقی طور پر رنج و خوشی میں اللہ تعالیٰ کا حمد کرنے والا ہوتا ہے۔


معلوم ہوتا ہے کہ شکر پرحمد کی زیادتی اسی سبب سے ہے کہ شکر میں منعم کا انعام تو نا ہوتا ہے جو صفت بلکہ فعل کی طرف راجع ہے اور حمد میں محمود کا حسن و جمال ملحوظ ہوتا ہے۔ خواہ ذاتی ہو یا فعلی اور خواہ انعام ہو یا ایلام کیونکہ حق تعالیٰ کا ایلام اس کے انعام کی طرح حسن ہے۔


پس حمد ثناء میں زیادہ بلیغ اور حسن و جمال کے مرتبوں کا زیادہ جامع اور رنج و خوشی کی دونوں حالتوں میں دیر تک باقی رہنے والا ہے۔ برخلاف شکر کے کہ بسبب اپنے قصور کے سریع اثر وال ہے اور انعام و احسان کے دور ہونے سے دور ہو جاتا ہے۔


سوال : تو نے اپنے بعض مکتوبات میں لکھا ہے کہ مقام ر نسا مقام محبت و مقام حب کے اوپر ہے اور یہاں تو لکھتا ہے کہ یہ مقام محبت مقام رضا سے برتر ہے ۔ ان دونوں باتوں کے درمیان موافقت کس طرح ہے؟


جواب : یہ مقام محبت اس مقام محبت و جب کے ماسوا ہے کیونکہ وہ مقام اجمالی اور تفصیلی طور پر نسبتوں اور اعتباروں پر مشتمل ہے۔ اگر چہ محبت کو محبت ذاتیہ کہتے ہیں اور اس حب کو جب ذاتی تصور کرتے ہیں کیونکہ وہاں شیون و اعتبارات کے ملاحظہ سے نظر قطع نہیں ہوتی ۔ برخلاف اس مقام کے جو تمام نسبتوں اور اعتباروں سے معرا ہے۔ جیسے کہ گزر چکا اور یہ جو بعض مکتوبات میں درج ہو چکا ہے کہ مقام رضا سے اوپر حضرت خاتم الرسل علیہ الصلوۃ والسلام کے سوا اور کسی کو رسائی نہیں۔ شائد اسی مقام سے مراد ہے جو آنحضرت علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ مخصوص ہے ۔ واللہ سُبْحَانَهُ أَعْلَمُ بِحَقَائِقِ الْأَمُورِ امور کی حقیقت کو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ جاننا چاہئے کہ ظاہر کی کراہت باطنی رضا کے منافی نہیں اور ظاہری کڑواہٹ حقیقی حالاوت کے برخلاف نہیں کیونکہ عارف کامل کے ظاہر و صورت کو صفات بشریت پر مقرر کیا ہے تا کہ اس کے کمالات کا پردہ ہوں اور آزمائش ان باطل کے ساتھ ملا ر ہے۔ عارف کامل امتحانی کا عمل فریق کے اس ظاہر وصورت کو اس کے باطن و حقیقت کے ساتھ وہی نسبت ہے جو کپڑے کو پہننے والے شخص کے ساتھ نسبت ہے اور معلوم ہے کہ کپڑے کو شخص کے ساتھ کیا نسبت ہے۔ یہی حال عارف کی صورت کا اس کی حقیقت کے مقابلہ میں ہے۔

عارف کی اس صورت کو نادان اور بے بصر لوگ اپنی طرح خیال کرتے ہیں اور اپنی بے حقیقت صورتوں کی مانند سمجھتے ہیں۔ اس لیے ان کا انکار کر دیتے ہیں اور ان کے کمالات سے محروم رہ جاتے ہیں ۔ وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى والتزم متابعة المُصْطَفى سلام ہو اس شخص پر جس نے ہدایت اختیار کی اور حضرت محمد مصطفے
یلیے کی متابعت کو لازم پکڑا۔

نوٹس : ویب سائیٹ میں لفظی اغلاط موجود ہیں، جن کی تصیح کا کام جاری ہے۔ انشاء اللہ جلد ان اغلاط کو دور کر دیا جائے گا۔ سیدنا مجدد الف ثانی علیہ رحمہ کے مکتوبات شریف کو بہتر طریقے سے پڑھنے کے لئے کتاب کا مطالعہ ضرور کریں۔ جزاک اللہ خیرا