142

مکتوب 311: اسرار غامضہ اور حقائق نادرہ کو رمز واشارہ کے طور پر بیان کرنے میں مظہر فیض البی و منبع را نامتناهی – مخده مزاد ، خواہ محمد سعید کی طرف صادر فرمایا ہے


مکتوب 311

اسرار غامضہ اور حقائق نادرہ کو رمز واشارہ کے طور پر بیان کرنے میں مظہر فیض البی و منبع را نامتناهی – مخده مزاد ، خواہ محمد سعید کی طرف صادر فرمایا ہے۔ –

یہ اسرار حروف مقطعات کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں جو قرآن کی آیات متشابہات میں سے ہیں جن کی تاویل سے علما ء راخین کو اطلاع دی ہے۔ اللَّهُمُ میں بیت


با دو چشمی است مربے ما
بیچو الف الف رب حبیب خدا

لام مربی خلیل الله است
مم ز تدبير کلیم الله است

ترجمہ: ہائے دو چشمی کو سمجھ رب ہمارا
جیسے بے الف ہے رب حبیب خدا


لام ہے رب خلیل اللہ کا
میم ہے رب کلیم اللہ کا حضرت کلیم اللہ

علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام کے کاروبار کا مبدءالف کی حقیقت ہے اور اس حقیر کے معاملہ کا مبدء بھی تبعیت و وراثت کے طور پر بھی الف کی حقیقت ہے لیکن حضرت کلیم اللہ کی بازگشت میم کی حقیقت کی طرف ہے اور اس حقیر کی بازگشت ہائے دو چشمی ہے۔ اب میرا مرجع و مقام بھی ہائے کی حقیقت ہے۔ یہ حقیقت وہی ہے جس کو غیب ہو یت سے تعبیر کرتے ہیں اور یہ حقیقت رحمت کا خزانہ ہے جو دنیا میں فراخ کیا ہوا ہے اور نانوے حصے رحمت کے جو آخرت کے لئے ذخیرہ کئے ہوئے ہیں۔ ان سب کا مستقر اور مستودع یہی حقیقت ہے۔ گویا اس کا ایک چشمہ دنیا کی رحمت کا خزانہ ہے اور اس کا دوسرا چشمہ آخرت کی رحمت کا گنجینہ ہے۔ اَرحَمَ الرَّاحِمِینَ کی صفت کی اس حقیقت سے ظاہر ہوتی ہے۔ اس مقام میں جمال حرف کا ظہور ہے جس میں جلال کی ذرہ ملاوٹ نہیں ۔ دوستوں کو دنیا میں جو محنت واندوہ دیتے ہیں۔ یہ جمالی تربیت ہے جو جلال کی صورت میں ظاہر ہوئی ہے اور دشمنوں کو دنیا میں جو نعمت و سرور دیتے ہیں۔ یہ جلال کا ظہور ہے جو جمال کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔ یہی اللہ تعالیٰ کا مکر ہے۔ يُضِلُّ به كَثِيراً وَيَهْدِي بِهِ كَثِيراً اکثر کو اس سے گمراہ کرتا ہے اور اکثر کو اسی سے ہدایت دیتا ہے۔

اور حضرت خاتم الرسل علیہ وعلیہم الصلوۃ والتسلیمات کے کاروبار کا مبد ، وہ حقیقت ہے جو الف کی حقیقت سے برتر ہے اور ایسے ہی حضرت خلیل علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام کا مبد ، وہی حقیقت فوقانی ہے۔

حاصل کلام یہ کہ حضرت خاتم الرسل کی حقیقت اس حقیقت کا اجمال ہے اور حضرت خلیل کے مبدء ولی حقیقت کی تفصیل اور حضرت خاتم الرسل کی بازگشت الف کی حقیقت ہے اور حضرت خلیل کی بازگشت نام کی حقیقت ہے چونکہ ابتدال کی وحدت کے ساتھ زیادہ مناسبت ہے اس واسطے الف کی طرف مراجعت میسر ہولی جو وحدت کے قریب ہے اور تفصیل کو چونکہ کثرت کے ساتھ زیادہ مناسبت سے۔

اس واسطے لامہ کی طرف بازشت حاصل ہوئی جو کثرت کے نزدیک ہے۔

پس حضرت ابراہیم علی نبین و سید مسعوہ وا سلام مبدہ ہیں جن کثیر ابر کت ہیں اور ہوا، و مرجع میں بھی ۔ یہی وجہ ہے کہ نفرت سید البشر علیہ و الہ الصلوۃ والسلام و و سلوة و برکت جو حضرت نہیں علیہ الصلوۃ والسلام کی صلوٰۃ وبرکت کی مانند و ماثل ہے۔ سوال کرتے ہیں اورا کام انہیہ میں کہ جن کا رتبہ صفات کے رتبہ سے برتر ہے۔ حضرت خاتم الرسل علیہ الصلوۃ والسلام کا رب اسم مبارک اللہ ہے اور اس حقیر کا رب اسم مبارک رحمن ہے چونکہ اس حقیر کو بلحاظ مبدء کے حضرت کلیم کے ساتھ زیادہ مناسبت ہے اس لئے بہت سی برکتیں اس حضرت سے اس حقیر کو پہنچی ہیں ۔ اگر چہ اس فقیر کی ولایت موسوی ولایت نہیں ہے لیکن اس ولایت کی برکات سے بھری ہوئی ہے اور اس راہ سے بہت سی ترقیات کی ہیں اور وہ استفادہ جو اس حقیر نے ولائت سے کیا ہے اس ولائت کے جمال کی رنے راہ سے ہے اور میرے فرزند اعظم علیہ الرحمتہ کا استفادہ اس ولایت کے جلال کی راہ سے ہے۔ فقیر کی ولایت جو ولایت موسوی سے مستفاد ہے۔ اس مومن آدمی کی ولایت کے مشابہ ہے جو آل فرعون سے تھا اور میرے فرزند اعظم علیہ الرحمتہ کی ولایت فرعون کے ساحروں کی ولایت کے مانند ہے جو ایمان لائے تھے ۔

نوٹس : ویب سائیٹ میں لفظی اغلاط موجود ہیں، جن کی تصیح کا کام جاری ہے۔ انشاء اللہ جلد ان اغلاط کو دور کر دیا جائے گا۔ سیدنا مجدد الف ثانی علیہ رحمہ کے مکتوبات شریف کو بہتر طریقے سے پڑھنے کے لئے کتاب کا مطالعہ ضرور کریں۔ جزاک اللہ خیرا