110

مکتوب 31 : تو حید وجودی کے ظہور اور حق تعالیٰ کے قرب اور معیت ذاتی کی حقیقت اور اس مقام سے گزر جانے کے بیان میں


مکتوب (31)

تو حید وجودی کے ظہور اور حق تعالیٰ کے قرب اور معیت ذاتی کی حقیقت اور اس مقام سے گزر جانے کے بیان میں مع چند سوال و جواب کے جو اس مقام کی تحقیق سے تعلق رکھتے ہیں۔ شیخ صوفی کی طرف لکھا گیا ہے۔


ثَبَّتَنَا اللهُ سُبْحَانَهُ عَلَى مُتَابَعَةِ سَيّدِ الْمُرْسَلِينَ عَلَيْهِ وَعَلَى الِهِ وَعَلَيْهِمْ وَعَلَى الِهِمْ مِنَ الصَّلَواتِ أَفْضَلُهَا وَمِنَ التَّسْلِيمَاتِ اَكْمَلُها حق تعالیٰ ہم کو حضرت سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم و آلہ واصحابہ وسلم کی تابعداری پر ثابت رکھے۔


ایک شخص نے جو آپ کی مجلس مبارک میں حاضر تھا۔ بیان کیا کہ میاں شیخ نظام تھانیسری کے کسی درویش نے اس مجلس میں اس فقیر کی نسبت ذکر کیا اور کہا کہ فقیر وحدت وجود کا انکار کرتا ہے۔ اس ناقل شخص نے اس فقیر سے التماس کی کہ جو کچھ اصل حقیقت اس بارے میں ہے۔ آپ کے خادموں کی طرف لکھی جائے تا کہ لوگ اس نقل سے کسی قسم کی باتیں نہ بنا ئیں اور بدظنی میں نہ پڑ جائیں کیونکہ بعض ظن گناہ ہے اس لئے اس کے سوال کو قبول کر کے چند باتیں لکھ کر آپ کوتکلیف دیتا ہے۔

میرے مخدوم و مکرم ! فقیر کا اعتقادلڑکپن سے اہل توحید کا مشرب تھا اور فقیر کے والد بزرگوار قدس سرہ بظاہر اسی مشرب پر ہوئے اور باطن میں پوری پوری نگرانی حاصل ہونے کے باوجود مرتبہ بے کیفی کی جانب رکھتے تھے ان کا اشتغال ہمیشہ اسی طریق پر رہا اور اس مضمون کے موافق کہ فقیہ کا بیٹا آدھا فقیہ ہوتا ہے۔ فقیر کو اس مشرب سے از روئے علم کے بہت فائدہ اور بڑی لذت حاصل تھی۔ یہاں تک کہ حق تعالیٰ نے محض اپنے کرم سے ارشاد و ہدایت کی پناہ والے حقائق و معارف کو جاننے والے پسندیدہ دین کی تائید کرنے والے ہمارے شیخ اور مولٰی اور قبلہ حضرت خواجہ محمد باقی قدس سرہ کی خدمت و صحبت نصیب کی اور انہوں نے فقیر کو طریقہ علیہ نقشبندیہ تعلیم فرمایا اور اس مسکین کے حال زار پر بڑی توجہ فرمائی۔

اس طریقہ عالیہ کی مشق کے بعد تھوڑی مدت میں تو حید وجودی منکشف ہوگئی اور اس کشف میں حد سے بڑھ کر زیادتی پیدا ہوئی اور اس مقام کے علوم ومعارف بہت ظاہر ہوئے اور اس مرتبہ کے دقائق میں سے شائد ہی کوئی دقیقہ رہ گیا ہو۔ جس کو فقیر پر منکشف نہ کیا ہو اور شیخ محی الدین ابن عربی کے معارف کے دقائق کو جیسا کہ چاہئے ظاہر فرمایا اور اس تجلی کی شان میں کہتا ہے۔ وما بَعْدُ ھذا إِلَّا الْعَ عَدَم لُمَحْضُ اس کے بعد عدم محض کے سوا کچھ نہیں ۔ فقیر اس تجلی سے بھی مشرف ہوا اور اس تجلی کے علوم و معارف بھی جن کو شیخ خاتم الولایت سے مخصوص جانتا ہے۔ مفصل معلوم ہوئے اور سکر وقت اور غلبہ حال اس توحید میں اس درجے تک پہنچا کہ بعض عریضوں میں جو حضرت خواجہ قدس سرہ کی خدمت میں لکھے تھے۔ ان دو بیتوں کو جو سراسر سکر ہیں لکھا تھا ۔

اے دریغا کیس شریعت ملی اعمالی است

ملت ما کافری و ملت تر سائی است

کفر و ایماں زلف و وے آس پری زیبائی است

کفر و ایماں ہر دواندر راه ما یکتائی است


ترجمہ:
یہ شریعت احمقوں کا ہے طریقہ سر بسر

ایک مذہب ہے ہمارا کافروں کے دین پر

زلف اور رو اس پری کا کفر اور ایمان ہے

کفر اور ایماں ہمارے راہ میں یکساں ہے

اور یہ حال بہت مدت تک رہا اور مہینوں سے سالوں تک نوبت پہنچ گئی ۔ ناگاہ حق تعالیٰ کی عنایت بیغایت دریجہ غیب سے میدان ظہور میں آئی اور بے چونی اور بے چگونی کے چہرہ ڈھانپنے والے پر دہ کو دور کر دیا۔ وہ پہلے علوم جو اتحاد اور وحدت وجود کی خبر دیتے تھے زائل ہونے لگے اور احاطہ اور سریان اور قرب اور معیت ذاتیہ جو اس مقام میں ظاہر ہوئی تھی۔ پوشیدہ ہوگئی اور یقینی طور پر معلوم ہو گیا کہ حق تعالیٰ کے علوم کے ساتھ ان مذکورہ نسبتوں سے کوئی بھی نسبت ثابت نہیں۔ حق تعالیٰ کا احاطہ اور قرب علمی ہے جیسا کہ اہل حق کے نزدیک ثابت اور مقرر ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی کوشش کی جزا دیوے اور حق تعالیٰ کسی چیز سے متحد نہیں ہے۔ خدا خدا ہے اور عالم عالم حق تعالیٰ بیچون و بیچگون ہے اور عالم سراسر چونی اور بیچ گونی کے داغ سے داغدار ہے۔ بیچن کو چون کا عین نہیں کر سکتے ۔ واجب ممکن کا عین اور قدیم حادث کا عین ہرگز نہیں ہوسکتا۔ ممتنع العدم جائز العدم کا عین نہیں بن سکتا۔ حقائق کا انقلاب عقلی اور شرعی طور پر محال ہے اور ایک کو دوسرے پر حمل کرنے کا ثبوت کلی طور پر ممتنع ہے۔

تعجب ہے کہ شیخ محی الدین علیہ رحمہ اور ان کے تابعدار حق تعالٰی کی ذات کو مجہول مطلق کہتے ہیں اور کسی حکم کے ساتھ اس کو محکوم علیہ نہیں جانتے ہیں اور باوجود اس کے احاطہ ذاتی اور قرب اور معیت ذاتی ثابت کرتے ہیں، اور حالانکہ یہ حکم حق تعالیٰ کی ذات پر ہے۔


پس بہتر وہی ہے جو علماء اہلسنت و جماعت نے بیان کیا ہے کہ قرب علمی اور احاطہ علمی ہے

اور توحید وجودی کے مشرب کے مخالف علوم و معارف کے حاصل ہونے کے وقت یہ فقیر بہت بے قرار ہوا کیونکہ اس توحید سے بڑھ کر اور کوئی اعلیٰ امر نہ جانتا تھا اور عاجزی اور زاری سے دعا کرتا تھا کہ یہ معرفت زائل نہ ہو جائے ۔ یہاں تک کہ سارے حجاب سامنے سے زائل ہو گئے اور کما حقہ حقیقت منکشف ہو گئی اور معلوم ہو گیا کہ عالم ہر چند صفاتی کمالات کا آئینہ اور اسماء ظہورات کا حلوہ گاہ ہے لیکن مظہر ظاہر کا عین اور ظل اصل کا عین نہیں ہے۔ جیسا کہ توحید وجودی والوں کا مذہب ہے۔ یہ بحث اس مثال سے واضح ہو جاتی ہے ۔


مثلا کسی اہلِ فن عالم نے چاہا کہ اپنے مختلف کمالات کو ظاہر کرے اور اپنی پوشیدہ خوبیوں کو واضح کرے تو اس نے حروف اور آوازوں کو ایجاد کیا اور ان حروف اور آوازوں کے آئینوں میں اپنے پوشیدہ کمالات کو ظاہر کیا اس صورت میں نہیں کہہ سکتے کہ یہ حروف اور آواز جو ان مخفی کمالات کیلئے آئینے اور مظہر ہیں۔ ان کمالات کا عین ہیں یا بالذات ان کمالات کو محیط ہیں یا بالذات ان کے قریب ہیں یا ان کے ساتھ معیت ذاتی رکھتے ہیں بلکہ ان کے درمیان دالیت اور مداولیت کی نسبت ہے۔ حروف اور آواز ان کمالات پر صرف دلالت کرنے والے ہیں اور وہ کمالات اپنی محض غیر مقید حالت پر ہیں۔ وہ نسبتیں جو پیدا ہوئی وہمی اور خیالی ہیں۔ حقیقت میں ان نسبتوں میں سے کوئی بھی ثابت نہیں لیکن چونکہ ان کمالات اور حرفوں اور آوازوں کے درمیان ظاہریت اور مظہریت اور مدلولیت اور دالیت کی نسبت ہے تو یہی مناسبت بعض عارضوں کے باعث بعض. لوگوں کے لئے ان وہمی نسبتوں کے حاصل ہونے کا باعث ہو جاتی ہے۔ حالانکہ حقیقت میں وہ کمالات ان تمام نسبتوں سے خالی اور پاک ہیں اور جس کا ہم ذکر کرتے ہیں اس میں بھی دالیت اور مدلولیت اور ظاہریت و مظہریت کے علاقہ کے سوا اور کوئی نسبت نہیں ہے۔ عالم اپنے صانع کے وجود کے لئے علامت اور اس کے اسمائی اور صفاتی کمالات کے ظہور کے لئے مظہر ہے اور یہی علاقہ بعض عارضوں کے باعث بعض کیلئے وہمی احکام کا باعث ہو جاتا ہے۔

بعض کو تو حید کے مراقبوں کی کثرت ان احکام پر لے آتی ہے کیونکہ ان مراقبوں کی صورت قوت متخیلہ میں نقش ہو جاتی ہے اور بعض دوسروں کو تو حید کا علم اور اس کا تکرار ان احکام کے ساتھ ایک قسم کا ذوق بخشتا ہے۔ توحید کی یہ دونوں صورتیں معلول اور ضعیف ہیں اور دائرہ علم میں داخل ہیں ۔ خال کے ساتھ کچھ تعلق نہیں رکھتیں اور بعض دوسروں کے لئے ان احکام کا منشاء محبت کا غلبہ ہے کیونکہ محبوب کی محبت کے غلبہ کے باعث محبوب کا غیر محب کی نظر سے دور ہو جاتا ہے اور محبوب کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ نہ یہ کہ حقیقت میں محبوب کا غیر کچھ نہیں ہے کیونکہ یہ بات حس اور عقل اور شرع یکے مخالف ہے اور کبھی یہی محبت احاطہ اور قرب ذاتی کے ساتھ حکم کرنے کا باعث ہوتی ہے۔ توحید کی یہ قسم پہلی دونوں قسموں سے اعلیٰ ہے اور دائرہ حال میں داخل ہے اگر چہ اصل حقیقت کے مطابق اور شریعت کے موافق نہیں ہے اور شریعت اور اصل حقیقت کے ساتھ اس کا مطابق کرنا محض تکلف ہے مانند تکلفات بیہودہ فلسفیہ کے کہ ان میں اہل اسلام فلسفی چاہتے ہیں کہ اپے اصول فاسدہ کو قوانین شرعیہ کے مطابق کریں۔ کتاب اخوان الصفا و غیرہ اسی قسم کی ہے۔

حاصل کلام یہ ہے کہ خطائے کشفی خطائے اجتہادی کا حکم رکھتی ہے کہ جس سے ملامت و عتاب رفع ہے بلکہ صواب کے درجوں میں سے ایک درجہ اس کے حق میں ثابت ہے البتہ اس قدر فرق ہے کہ مجتہد کے مقلد مجتہد کا حکم رکھتے ہیں اور خطا کے ہو جانے پر بھی صواب کا ایک درجہ پالیتے ہیں ۔ برخلاف اہل کشف کے مقلدوں کے کہ معذور نہیں ہیں اور خطا کے ہو جانے سے درجہ صواب سے محروم ہیں۔ کیونکہ الہام اور کشف غیر پر حجت نہیں اور مجتہد کا قول غیر پر حجت ہے۔

پس تقلید اول یعنی اہل کشف کی تقلید خطا کے احتمال پر جائز نہیں ہے اور تقلید ثانی یعنی مجتہد کی تقلید خطا کے احتمال پر جائز بلکہ واجب ہے۔

اور بعض سالکوں کا شہود جو کونی تعینات کے آئینوں میں ہے وہ بھی سابقہ احکام کی قسم سے ہے اور اس شہود کا انہوں نے کثرت میں وحدت کا مشاہدہ یا کثرت میں احدیت کا مشاہدہ نام رکھا ہے کیونکہ واجب تعالٰی جو بیچوں اور بیچگون ہے۔ ہرگز چون کے آئینوں میں نہیں سما سکتا اور چندی کے جولان گاہ میں نہیں آتا اور لامکانی مکان میں گنجائش نہیں رکھتا۔

بچون کو دائرہ چون کے باہر ڈھونڈ نا چاہئے اور لا مکانی کو مکان کے باہر تلاش کرنا چاہئے جو
کچھ آفاق و انفس میں دیکھا جاتا ہے۔ وہ حق تعالیٰ کے نشانات ہیں۔

دائرہ ولایت کے قطب یعنی حضرت خواجہ نقشبند قدس سرہ نے فرمایا ہے کہ جو کچھ دیکھا گیا اور سنا گیا اور جانا گیا یہ سب غیر اور حجاب ہے کلمہ لا کی حقیقت سے اس کی نفی کرنی چاہئے ۔

در تنگنائے صورت معنی جگو نہ گنجد در کلبه گدایاں سلطان چه کار دارد

صورت پرست غافل معنی چه داند آخر کو باجمال جانا پنہاں چه کار دارد

ترجمہ: صورت کی تنگ جا میں معنی نہیں سماتے گھر میں گدا کے سلطاں ہر گز نہیں ہیں آتے

صورت پرست غافل معنی نہیں ہے پاتا دلبر جمال اپنا اس کو نہیں دکھاتا

اگر کہیں کہ اکثر مشائخ نقشبندیہ اور دوسرے سلسلہ کے مشائخ کی عبارتوں میں صاف طور لکھا ہے جو وحدت وجود اور احاطہ اور قریب اور معیت ذاتی اور کثرت میں وحدت کے مشاہدے

اور کثرت میں احدیت کے مشاہدے پر دلالت کرتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ احوال و شہود احوال کے اثناء میں ان کو ظاہر ہوئے ہوں گے اور بعد ازاں اس مقام سے گزر گئے ہوں گے جسا کہ اس فقیر نے پیشتر اپنے حال کی نسبت لکھا ہے۔


دوسرا جواب یہ ہے کہ بعض کے ظاہر کو جو کثرت بین ہے باطن میں احدیت صرف کی طرف پوری نگرانی ہونے کے باوجود ان احکام اور اس شہود سے مشرف کرتے ہیں۔ گویا باطن میں احدیت کے نگراں ہوتے ہیں اور بظاہر کثرت میں مطلوب کے مشاہدہ کرنے والے جیسا کہ اس فقیر نے اس مکتوب کے ابتدا میں اپنے والد بزرگوار کے حال سے خبر دی ہے اور اس جواب کی تحقیق مفصل طور پر اس رسالہ میں لکھی گئی ہے جو وحدت وجود کے مراتب کی تحقیق میں لکھا ہے اس مقام پر اس سے زیادہ جو مذکور ہوا بیان نہیں کیا جا سکتا۔ یہ نہیں کہا جاتا کہ جب نفس امر میں بہت سے وجود ہوں اور قرب اور احاطہ ذاتیہ نہ ہو اور کثرت میں وحدت کا شہود واقع کے مطابق نہ ہو تو ان بزرگواروں کا حکم جھوٹا ہوگا کیونکہ واقع نفس الامر کے مطابق نہیں ہے کیونکہ ہم جواب کہتے ہیں کہ ان بزرگواروں نے اپنے شہود کے اندازے کے موافق حکم کیا ہے جس طرح کوئی شخص یہ حکم کرے کہ میں نے زید کی صورت کو آئینے میں دیکھا ۔ یہ حکم بھی واقع کے مطابق نہیں کیونکہ آئینہ میں اس صورت کو نہیں دیکھا ہے کیونکہ صورت آئینہ میں بالکل نہیں ہے جو دیکھی جائے ۔ اس شخص کو عام طور پر کا ذب نہ کہیں گے اگر چہ واقع نفس الامر کے مطابق نہیں ہے کیونکہ وہ اس حکم میں معذور ہے اور جھوٹ کی ملامت اس سے دور ہے جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا۔ ان حالات کے ظاہر کرنے سے جو پوشیدہ رکھنے کے لائق ہیں۔ مقصود یہ ہے تا کہ معلوم ہو جائے کہ اگر فقیر نے وحدت وجود کو قبول کیا ہوا تھا تو وہ کشف سے تھا۔ نہ از روئے تقلید کے اور اگر اب انکار ہے تو الہام کے سبب سے ہے اور الہام میں انکار کی گنجائش نہیں اگر چہ الہام غیر پر حجت نہیں ہے۔


دوسرا جواب جھوٹ کا شبہ دور کرنے کے لئے یہ ہے کہ افراد عالم ایک دوسرے کے ساتھ بعض امور میں مشترک اور شریک ہیں اور بعض دوسرے امور میں ایک دوسرے سے ممتاز اور جدا ۔ اسی طرح ممکن کا واجب کے ساتھ بعض امور عارضی میں اشتراک ہے اگر چہ بالذات ایک دوسرے سے ممتاز ہیں۔ پس محبت کے غلبہ کی وجہ سے وہ چیز جس سے فیما بین تمیز ہو سکے ،نظر سے پوشیدہ ہو جاتی ہے اور وہ چیز جس سے دونوں میں اشتراک ہے۔ نظر میں رہ جاتی ہے۔

پس اس صورت میں اگر ایک دوسرے کے عین ہونے کا حکم کریں تو واقع کے مطابق اور جھوٹ کی ہرگز مجال نہ رہے گی۔ احاطہ ذاتی اور اس کی مانند اور باتوں کو بھی اسی پر قیاس کرنا چاہیے،

والسلام

نوٹس : ویب سائیٹ میں لفظی اغلاط موجود ہیں، جن کی تصیح کا کام جاری ہے۔ انشاء اللہ جلد ان اغلاط کو دور کر دیا جائے گا۔ سیدنا مجدد الف ثانی علیہ رحمہ کے مکتوبات شریف کو بہتر طریقے سے پڑھنے کے لئے کتاب کا مطالعہ ضرور کریں۔ جزاک اللہ خیرا