95

مکتوب 3: اس بیان میں کہ انفس و آفاق کا معاملہ ظلال میں داخل ہے اور ولایت صغری و کبری اور کمالات نبوت اور تجلی افعال کی حقیقت کی تحقیق میں


مکتوب 3

اس بیان میں کہ انفس و آفاق کا معاملہ ظلال میں داخل ہے اور ولایت صغری و کبری اور کمالات نبوت اور تجلی افعال کی حقیقت کی تحقیق میں جس کو بعض صوفیہ نے بیان کیا ہے کہ وہ جلی حق تعالی کے فعل کا ظل ہے نہ کہ میں فعل ۔ تو پھر صفات وذات کا کیا حال ہوگا۔ حقائق ومعافر کو جاننے والے فیض الہی کے مظہر مخدوم زادہ خواجہ محمد سعید سلمہ اللہ تعالیٰ کی طرف صادر فرمایا ہے:

نُحمدُ لِلَّهِ وَسَلامٌ عَلَى عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفیٰ (اللہ تعالیٰ کے لیے حمد ہے اور اس کے برگزیدہ بندوں پر سلام ہو ) ہو)


جو کچھ انفس و آفاق کے آئینوں میں ظاہر ہوتا ہے، اس پر ظلیت کا داغ لگا ہوتا ہے۔ اس واسطے نفی کے لائق ہے تا کہ اصل ثابت ہو جائے۔ جب انفس و آفاق سے معاملہ گزر جاتا ہے تو ظلیت کی قید سے چھوٹ جاتے ہیں اور فعل وصفات کی تجلی کا آغاز ہو جاتا ہے اور معلوم ہو جاتا ہے کہ اس سے پہلے سیر انفسی و آفاقی میں جو تجلی ظاہر ہوئی تھی ،اگر چہ اس کو بجلی ذات جانتے ہیں لیکن فعل وصفت کے ظلال سے تعلق رکھتی تھی نہ کہ نفس فعل وصفت کے ساتھ تو پھر ذات کا کیا ذکر ہے کیونکہ دائرہ ظلیت انفس کے نہایت منتہی ہو جاتا ہے۔ پس جو کچھ انفس و آفاق میں ظہور کرتا ہے، سب اس دائرہ میں داخل ہے۔ فعل وصفت بھی اگر چہ حقیقت میں حضرت ذات تعالی و تقدس کے ظلال ہیں لیکن دائرہ اصل میں داخل ہیں۔ اس دائرہ کی ولایت اصلی ہے برخلاف پہلے مرتبہ کی ولایت کے جو انفس و آفاق سے تعلق رکھتی تھی۔ جس کو ولایت ظلی کہتے ہیں۔ دائر ظل کے منتہور کو تجلی برقی جو مرتبہ اصل ہے پیدا ہوتی ہے، میسر ہوتی ہے جو ایک ساعت کے لیے ان کو آفاق و انفس کی قید سے رہا کر دیتی ہے اور وہ لوگ جو دائرہ آفاق و انفس سے گزر جاتے ہیں اور کل سے اصل کے ساتھ جا ملتے ہیں۔ یہ تجملی برقی ان کے حق میں دائی ہوتی ہے کیونکہ ان بزرگواروں کا مسکن و ماوی دائرہ اصل ہے جہاں سے تجلی برقی ظاہر ہوتی ہے بلکہ ان بزرگوار وں کا معاملہ تجلیات وظہورات سے بڑھ کر ہوتا ہے کیونکہ ہر ایک تجلی و ظہور خواہ وہ کسی مرتبہ سے تعلق رکھے، ظلیت کی آمیزش سے خالی نہیں ہوتی۔ لیکن ان بزرگواروں کو اصل الاصل کی گرفتاری نے ظل سے فارغ اور زیغ بصر سے آزاد کر دیا ہوتا ہے۔ ولایت ظلی جس کو ولایت صغری کہتے ہیں، اس کا نہایت کمال تجلی برقی کے ظاہر ہونے سے حاصل ہو جاتا ہے۔

یہ تجلی برق ولایت کبری میں جو انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی ولایت ہے، پہلا قدم ہے اور ولایت صغری اولیاء رحمتہ اللہ علیہ کی ولایت ہے۔ اس بیان سے اولیاء کی ولایت کا اور انبیاء کی ولایت کا فرق معلوم ہو جاتا ہے کہ اولیا کی ولایت کی انتہاء انبیاء کی ولایت کی ابتداء ہے۔ انبياء عليهم الصلوۃ والسلام کی نبوت کے کمالات کا ذکر کیا جائے جبکہ اس ولایت کی انتہاء نبوت کی ابتداء ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت خواجہ نقشبند قدس سرہ نے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی ولایت سے تبعیت و وراثت کے طور پر حصہ پایا ہے جس کے سبب انہوں نے فرمایا ہے کہ ہم نہایت کو ہدائیت میں درج کرتے ہیں ۔ یہ فقیر اس قدر جانتا ہے کہ نقشبندیہ نسبت و حضور جب کمال تک پہنچ جاتے ہیں تو ولایت کبری سے جا ملتے ہیں اور اس ولایت کے کمالات سے حظ وافر حاصل کر لیتے ہیں۔ برخلاف دوسرے طریقوں کے کہ جن کے کمال کی نہایت تجلی برقی تک ہی ہے۔


جاننا چاہئے کہ وہ سیر جو آفاقی وانفسی سیر کے بعد میسر ہوتا ہے، وہ حق تعالیٰ کی اقر بیت میں سیر ہوتا ہے کیونکہ حق تعالیٰ کا فعل بھی ہم سے ہماری نسبت زیادہ نزدیک ہے اور حق تعالیٰ کی صفت بھی اس کے اپنے فعل کی اور ہماری نسبت ہم سے زیادہ نزدیک ہے اور حق تعالیٰ کی ذات بھی اس کے فعل وصفت کی اور ہماری نسبت ہم سے زیادہ نزدیک ہے۔ ان مراتب کا تیر حق تعالیٰ کی اقربیت کا سیر ہے۔ اس مقام میں تجلی فعل اور تجلی صفت اور تجملی ذات متحقق و ثابت ہو جاتی ہیں اور و ہم کی سلطنت اور خیال کے دائرہ سے اس مقام میں نجات حاصل ہو جاتی ہے کیونکہ سلطان وہم و خیال کا غلبہ دائرہ انفس و آفاق کے باہر میسر نہیں۔ وہم کی نہایت کل کی نہایت تک ہی ہوتی ہے جہاں ظل نہ ہو وہاں و ہم بھی نہیں ہوتا۔

پس معلوم ہوا کہ ولایت خلی میں موت کے بعد جب کہ و ہم معدوم ہو جائے ، وہم سے خلاصی حاصل ہوتی ہے لیکن ولایت اصلی میں جو ولایت کبری ہے، اس جہان میں وہم وخیال کی قید سے آزادی حاصل ہو جاتی ہے اور وہم کے باوجود وہم کی قید سے آزاد ہوتے ہیں۔ پہلے گروہ کو جو کچھ آخرت میں جا کر حاصل ہوگا ، وہ دوسرے گروہ کو اسی جگہ میسر ہوتا ہے۔ ولایت ظلی میں حصول مطلب اس جہان میں وہم و خیال کا تراشیدہ اور بنایا ہوا ہوتا ہے اور ولایت اصلی میں مطلوب و ہم کی تراش خراش سے منزہ ومبرا ہوتا ہے۔


شاید حضرت مولانا روم رحمتہ اللہ علیہ وہم و خیال کے احاطہ اور قید سے تنگ آ کر موت کی آرزو کرتے ہیں تا کہ وہم و خیال سے اپنے مطلوب کو پائیں اوائل موت میں عافاك الله
سے منع کر کے فرماتے ہیں۔

من شوم عریاں زتن اواز خیال
تاخر ام در نهايات الوصال

ترجمہ: دور ہوں مجھ سے یہ سب وہم و خیال
تا کہ پاؤں یار کا اعلیٰ وصال

یہ جو میں نے کہا ہے کہ انفس و آفاق میں افعال وصفات کے ظلال کے تجلیات ہیں نہ کہ نفس افعال وصفات کے تجلیات، اس کا بیان یہ ہے کہ تکوین صفات حقیقیہ سے ہے۔ جیسے کہ علماء ماترید یہ شکر اللہ تعالی سعیم کا مذہب ہے نہ کہ صفات اضافیہ سے جیسے کہ اشعر کا یہ گمان ہے ۔ اس صفت میں چونکہ اضافت کا رنگ غالب ہے، اس واسطے اشعریہ نے دوسری صفات کی طرف نظر کر کے اس نو کی صفات اضافیہ سے گمان کیا ہے لیکن ایسا نہیں ہے بلکہ وہ صفت صفات حقیقیہ سے ہے جس کے ساتھ اضافت کا رنگ مل گیا ہے۔ یہ صفت تکوین تمام صفات سے پیچھے ہے اور تمام صفات عالیہ کا رنگ رکھتی ہے۔ مثلاً علم وحیوۃ سے بھی حصہ رکھتی ہے اور قدرت وارادت سے بھی اور اس صفت تکوین کے کئی جزئیات ہیں جو حقیقت میں اس کے ظلال ہیں۔ جیسے کہ تخلیق ( پیدا کرنا اور ترزیق ( رزق دینا ) اور احیا و امانت ( زندہ اور مردہ کرنا ) اور انعام و ایلام وغیرہ وغیرہ۔ یہ جزئیات افعال میں داخل ہیں جو درحقیقت اس صفت کے ظلال ہیں اور صفات حقیقیہ کے دائرہ سے خارج ہیں اور اس فعل کی دو جہتیں ہیں ۔ ایک جہت فائل کی طرف ہے اور دوسری مفعول کی طرف اور یہ دونوں جہتیں نظر کشفی

میں ایک دوسرے سے متمیز ہیں۔ پہلی جہت عال ہے اور دوسری جہت سافل یعنی نیچی نیز جہت اول اصل کی طرح نظر آتی ہے اور جہت دوم اس اصل کے ظل کی طرح دکھائی دیتی ہے اور نیز جہت اوّل میں وجوب کا رنگ ملا ہوا ہوتا ہے اور جہت دوم میں امکان کا رنگ یہ دوسری جہت انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے سوا باقی تمام اولیائے کرام اور مخلوقات کے تعینات کی مبادی ہے۔

حق تعالٰی کا فل چونکہ دونوں جہتوں کے اعتبار سے وجوب کا اور ممکن کا رنگ رکھتا ہے، اس لیے ممکن ہے کیونکہ جو واجب اور ممکن سے مرکب ہے ، وہ ممکن ہے نیز یہ فعل چونکہ اوپر کی جہت کے اعتبارت قدم کی طرف توجہ رکھتا ہے اور نیچی جہت کے اعتبارت حدوث میں قدم رکھتا ہے۔ اس لیے حادث ہے کیونکہ قدیم و حادث سے مرکب حادث ہوتا ہے۔ جن لوگوں نے حق تعالیٰ کے فعل کو قدیم کہا ہے انہوں نے جہت اول کی طرف نظر کر کے کہا ہے اور جنہوں نے حق تعالیٰ کے فعل کو حادث کہا ہے، ان کی منظور نظر دوسری جہت ہے۔ اول گروہ کی نظر بلند ہے اور دوسرے گروہ کی نظر پست لیکن یہ دونوں گروہ حق کو چھوڑ کر افراط و تفریط کی طرف جا پڑے ہیں اور حق متوسط وہی ہے جس کے ساتھ یہ فقیر ممتاز ہوا ہے۔ ذلكَ فَضْلُ اللهُ يُؤْتِيهِ مَنْ يَّشَاءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ (يه اللَّہ تعالیٰ کا فضل ہے جس کو چاہتا ہے ، بخشتا ہے اور اللہ تعالی بڑے فضل والا ہے ) صفات حقیقیہ کی اسی قسم کی تحقیق بعض اور مکتوبوں میں بھی لکھی جا چکی ہے اور وہاں سے طلب فرمالیں ۔

جانا چاہئے کہ فعل کی جہت دوم سے مراد خلق خاص ہے جس کا تعلق زید کے ساتھ ہے اور یہ خلق زید گویا خلق مطلق کی جزئیات میں سے ایک جزئی ہے ۔ یہ خلق خاص بھی جو زید سے تعلق رکھتی ہے، بہت سی جزئیات رکھتی ہے جیسے کہ زید کی ذات کا خلق اور زید کی صفات کا خلق اور زید کے افعال کا خلق اور خلق زید کی یہ جزئیات اس خلق زید کے لیے جو کلی کی طرح ہے، ظلال کی مانند ہیں اور زید کے فعل کے خلق کا بھی ایک ظل اور مظہر ہے اور وہ زید کا کسب ہے جس کا تعلق فعل سے ہوا ہے۔ اس کسب کو زید اپنے باپ کے گھر سے نہیں لایا بلکہ اس کا کسب حق تعالی کی خلق کا پرتو ہے۔ پس ان معارف سے معلوم ہوا ہے کہ حق تعالیٰ کا فعل تکوین کا حل ہے اور فعل کی جہت ثانی جہت اول کامل ہے جیسے کہ تحقیق پاچکا ہے اور جہت دوم کا بھی کل ہے جو خلق زید ہے اور خلق زید کا بھی ظل ہے جو فعل زید کی خلق ہے اور اس ظل کا بھی حل ہے۔ جوزید کا کسب ہے۔


جب یہ علوم معلوم ہو چکے تو پھر جانا چاہئے کہ سالکوں کی نظر میں سلوک کے وقت جب زید کے کسب کی نسبت زید سے منفی ہو جاتی ہے اور اس کی وہ اضافت جوزید کی طرف ہے، دور ہو جاتی ہے تو اس فعل کا فاعل حق تعالیٰ ہی کو جانتے ہیں بلکہ مخلوقات کے بے شمار اور مختلف افعال کو ایک ہی فاعل کا فعل سمجھتے ہیں اور اس معنی کے ظہور کو تجلی افعال خیال کرتے ہیں۔ ذرا انصاف کرنا چاہئے کہ یہ جلی حق تعالی کے فعل کی جلی ہے یا اس فعل کے طلال میں سے ایک عمل کی جلی ہے جس نے کئی مراتب میں تنزل کر کے ظلیت کا نام پایا ہے۔ دوسرے تجلیات کو بھی تجلی فعل پر قیاس کرنا چاہئے کہ ظلال میں کسی ظل پر کفایت کر کے اس کو اصل الاصل خیال کر رہے ہیں اور جوز و مویز پرتسلی کیے بیٹھے ہیں۔

جاننا چاہئے کہ وجوب وجود چونکہ نسبت و اضافت ہے، اس لیے مرتبہ فعل میں پایا جاتا ہے اور جب یہ نسبت عالم کے ساتھ مناسبت نہیں رکھتی بلکہ صانع عالم کے ساتھ مخصوص ہے تو فعل کی جہت اول سے جواو پر ذکر ہو چکی ہے، مناسب ہوگی ۔ اگر کہیں کہ اس بیان سے لازم آتا ہے کہ حق تعالیٰ کی ذات کے مرتبہ میں وجوب ثابت نہیں ہے اور نہ ہی حق تعالیٰ کی ذات وصفات کو واجب کہا جاتا ہے۔ پس وجوب بھی حضرت ذات و صفات سے مسلوب ہوگا جیسے امکان وامتناع اس حضرت جل شانہ سے مسلوب ہیں ۔ پس وجوب و امکان و امتناع کے سوا چوتھی قسم پیدا ہوگئی ۔ حالانکہ انحصار عقلی انہیں تین چیزوں میں ثابت ہو چکا ہے تو میں کہتا ہوں کہ یہ انحصار اس کے وجود کی نسبت صرف ماہیت کے لیے ہے کیونکہ اس مقام میں ماہیت کو وجود کی طرف کوئی نسبت نہیں اور نہ ہی کوئی انحصار ہے۔ جیسے کے حق تعالیٰ کی ذات وصفات میں کیونکہ حق تعالیٰ کی ذات بذات خود موجود ہے۔ نہ کہ کسی وجود کے ساتھ خواہ وہ وجود عین ہو یا زائد اور حق تعالیٰ کی صفات اس کی ذات کے ساتھ موجود ہیں ۔


سوائے اس کے کہ ان میں وجود کا دخل ہو۔ پس حق تعالیٰ کی ذات وصفات ان تینوں منحصرہ چیزوں سے برتر اور بلند ہیں۔


حاصل کلام یہ کہ جب وجود اور اعتبارات سے حق تعالیٰ کی ذات کا تصور اور اس کی صفات میں غور کیا جاتا ہے۔ کیونکہ اس کی کنہ کی طرف کوئی راہ نہیں تو اس کی ذات کے لیے وجود تصوری ظلی میں وجوب کا عارض ہوتا ہے جوحق تعالیٰ کی غنا کے مناسب اور لائق ہے اور اس کی صفات کے لیے وجود ذہنی میں امکان عارض ہوتا ہے جو ان کے لیے مناسب ہے۔ اس لیے کہ ذات کی طرف محتاج ہیں ۔ پس حق تعالیٰ کی ذات و صفات فی نفسہا مرتبہ وجوب و امکان بلکہ مرتبہ وجود سے بھی برتر اور بلند ہیں اور وجود تصوری ظلمی کے اعتبار سے وجوب ذات کے لیے مناسب ہے اور امکان صفات کے مناسب ۔

پس صفات وجود خارجی کے لحاظ سے نہ واجب ہیں نہ ممکن ۔ بلکہ واجب و امکان سے برتر ہیں اور وجود ذہنی کے اعتبار سے ممکن ہے اور اس امکان سے حدوث لازم نہیں آتا کیونکہ امکان ان کی ذات یعنی اصلوں کے لیے نہیں ہے بلکہ ان کے ظلی وجودوں کے لیے ہے۔ یہی معرفت کے مناسب ہے۔ یہ مقولہ جو معقول والوں نے کہا ہے کہ کلیت اور جزئیت دونوں وجود ذہنی کی خصوصیت کے اعتبار سے ماہیت کو عارض ہوتی ہیں لیکن وجود خارجی کی حالت میں ان دونوں کے ساتھ ماہیت موصوف نہیں ہوسکتی۔ مثلا زید جو خارج میں موجود ہے تعقل سے پہلے جزئی نہیں جیسے کہ کلی بھی نہ تھا بلکہ وجود زمینی ظلی کے بعد جزئیت اس کو عارض ہو گئی بلکہ ہم کہتے ہیں کہ تمام نسبتیں اور اضافتیں اور احکام و اعتبارات جو حق تعالیٰ پر محمول کیے جاتے ہیں ۔ مثلا الوہیت اور ربوبیت اور اولیت اور از لیست و غیرہ سب صفات ثمانیہ موجودہ کے ماسوا ہیں جو حق تعالی پر تصور اور تعقل کے اعتبار سے صادق آتی ہیں ورنہ حق تعالیٰ کی ذات اصل میں کسی صفت سے متصف اور کسی اسم سے موسوم اور کسی حکم کے محکوم نہیں ہے۔ صاحب شرع نے جو حق تعالیٰ کی ذات پر اسماء، واحکام کا اطلاق کیا ہے تو وہ با اعتبار تناسب اور تشابہ کے ہے تا کہ مخلوقات کی سمجھ میں آ سکے اور ان کے ساتھ ان کی عقول کے موافق گفتگو ہو سکے۔ مثلا زید کے لیے جو خارج میں موجود ہے۔ اس کے وجود ذہنی کے ملاحظہ کے بغیر تشبیہ اور تنظیر کے طور پر کہا جائے کہ وہ جزئی ہے تو اس کے کلی ہونے کے احکام کی نسبت جزئی ہونے کے احکام زید کے لیے بہت ہی مناسب اور مشابہ ہوں گے۔ اسی طرح اس ذات بے نیاز اور بلند پر امکان اور امتناع کے حکم کی نسبت وجوب اور وجود کا حکم بہتر اور مناسب ہے ور نہ اس کی جناب پاک تک نہ وجوب پہنچ سکتا ہے نہ وجود جیسے کہ اس کی پاک بارگاہ کے لیے امکان اور امتناع لائق نہیں ۔ اس شریف اور پاکیزہ معرفت کو غور سے سمجھنا چاہئے کیونکہ یہ معرفت دین کی بنیاد اور حق تعالیٰ کی ذات وصفات کے علم کا خلاصہ ہے۔ یہ معرفت کہ جس کے لیے حق تعالیٰ نے اس حقیر بندہ کو برگزیدہ اور مختار کیا ہے، آج تک کسی ولی اور بزرگ نے بیان نہیں کی ۔ والسلام علی مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى (سلام ہو اس شخص پر جس نے ہدایت اختیار کی ۔ )

نوٹس : ویب سائیٹ میں لفظی اغلاط موجود ہیں، جن کی تصیح کا کام جاری ہے۔ انشاء اللہ جلد ان اغلاط کو دور کر دیا جائے گا۔ سیدنا مجدد الف ثانی علیہ رحمہ کے مکتوبات شریف کو بہتر طریقے سے پڑھنے کے لئے کتاب کا مطالعہ ضرور کریں۔ جزاک اللہ خیرا