88

مکتوب 28: بلندی حال کے بیان میں خواجہ عمک کی طرف لکھا ہے لیکن ایسی عبارت میں تحریر ہے جس سے نزول و بعد کا وہم پیدا ہوتا ہے۔


مکتوب (28)

بلندی حال کے بیان میں خواجہ عمک کی طرف لکھا ہے لیکن ایسی عبارت میں تحریر ہے جس سے نزول و بعد کا وہم پیدا ہوتا ہے۔

آپ کا مبارک نامہ جو از روئے کرم کے اس مخلص کے نام لکھا ہوا تھا فقیر اس کے صادر ہونے سے خوش ہوا اور اس کے مطالعہ سے مشرف ہوا ۔ یہ کتنی بڑی نعمت ہے کہ آزاد لوگ قیدیوں کو یاد کریں اور کس قدر بھاری دولت ہے کہ واصل لوگ ہجر کے ماروں کی غمخواری کریں۔ بیچارے مہجور نے جب اپنے آپ کو وصال کے لائق نہ پایا۔ ناچار جدائی کے گوشہ میں پوشیدہ ہوگیا اور قرب سے بھاگ کر بعد میں آرام لیا اور اتصال سے انفصال کے ساتھ قرار پکڑا اور جب آزادی کے اختیار کرنے میں گرفتاری دیکھی ۔ ناچار گرفتاری کو اختیار کیا۔


چوں طمع خواهد زمن سلطانِ دیں
خاک بر فرق قناعت بعد ازیں

ترجمہ: چاہتا ہے جب طمع سلطان دیں
پھر مجھے حاجت قناعت کی نہیں

بے ربط عبارتوں اور پراگندہ اشاروں میں لکھا ہے۔ اس سے زیادہ آپ کو کیا تکلیف دی جائے ۔

ثبتنا اللہ وا یا کم على متابعة على متابعہ سید المرسلین علیه وعلى اله من الصلوة افضلها ومن التسلیمات اکملھا:

اللہ تعالیٰ ہم کو اور آپ کو سید المرسلین صلى الله عليه وسلم کی متابعت پر ثابت قدم رکھے ۔

نوٹس : ویب سائیٹ میں لفظی اغلاط موجود ہیں، جن کی تصیح کا کام جاری ہے۔ انشاء اللہ جلد ان اغلاط کو دور کر دیا جائے گا۔ سیدنا مجدد الف ثانی علیہ رحمہ کے مکتوبات شریف کو بہتر طریقے سے پڑھنے کے لئے کتاب کا مطالعہ ضرور کریں۔ جزاک اللہ خیرا