99

مکتوب 26: اس بیان میں کہ شوق ابرار کو ہوتا ہے اور مقربین کو نہیں ہوتا اور اس مقام کے مناسب علوم کے بیان میں


مکتوب (26)

اس بیان میں کہ شوق ابرار کو ہوتا ہے اور مقربین کو نہیں ہوتا اور اس مقام کے مناسب علوم کے بیان میں شیخ عالم مولانا حاجی محمد لاہوری کی طرف لکھا گیا ہے:


اللہ تعالیٰ ہم کو اور تم کو حضرت محمد صلى الله عليه وسلم کی شریعت کے سیدھے راستہ پر ثابت قدم رکھے۔ حدیث قدسی میں وارد ہے۔ اَلا طَالَ شَوقُ الْأبْرَارِ إِلَى لِقَائِي وَأَنَا إِلَيْهِمْ لَا شَدُّ شوقاً که خبر دار ابرار کا شوق میرے دیدار کے لئے حد سے بڑھ گیا اور میں ان سے بھی زیادہ ان کی طرف مشتاق ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے شوق کو ابرار کے لئے ثابت کیا کیونکہ مقربین واصلین کو شوق نہیں رہتا اس لئے کہ شوق مطلوب کے گم ہونے کو چاہتا ہے اور مطلوب کا کم ہونا ان کے حق میں مفقود ہے۔ کیا نہیں دیکھتے کہ انسان اپنے نفس کی طرف اشتیاق نہیں رکھتا۔ حالانکہ اپنے نفس سے اس کو بڑی محبت ہوتی ہے کیونکہ مطلوب یعنی اپنے آپ کو گم کرنا اس کے لئے ثابت نہیں۔

پس مقرب واصل کا حال جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ باقی اور اپنے نفس سے فانی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایسا ہے جیسے انسان کا حال اپنے نفس کے ساتھ ۔


پس ثابت ہوا کہ ابرار ہی مشتاق ہوتے ہیں کیونکہ وہ محب فاقد ہیں اور ابرار سے ہماری مراد وہ شخص ہے جو مقرب واصل نہ ہو ۔ خواہ ابتداء میں ہو یا وسط میں اگر چہ وسط سے رائی کے دانہ کے برابر باقی رہا ہو ۔ کسی نے کیا اچھا کہا ہے ۔

فراق دوست اگر اندک است اندک نیست
درون دیده اگر نیم موست بسیا راست

ترجمہ: فراق دوست تھوڑا بھی بہت ہے حق میں عاشق کے
اگر ہو نیم مو جتنا بھی تو بھی سخت مشکل ہے


حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ آپ نے ایک قاری کو دیکھا کہ قرآن پڑھ رہا ہے اور رورہا ہے اس کو دیکھ کر آپ نے فرمایا کہ ہم بھی ایسا ہی کرتے تھے لیکن ہمارے دل سخت ہو گئے ہیں۔ آپ کا یہ فرمانا مدح بمشابۃ الذم کی قسم سے ہے۔


اور خاکسار نے اپنے شیخ حضرت خواجہ محمد باقی باللہ قدس سرہ سے سنا ہے کہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ منتہی واصل بسا اوقات اس شوق اور طلب کی آرزو کرتا ہے جو اس کو پہلے حاصل تھی ۔

اور شوق کے دور ہونے کے لئے اول مقام سے بڑھ کر کامل ایک اور مقام ہے اور وہ ادراک و معرفت سے عجز و نا امیدی کا مقام ہے کیونکہ شوق وہاں ہوتا ہے جہاں کہ مطلوب حاصل ہونے کی امید ہو۔ پس جہاں امید نہیں شوق بھی نہیں اور جب نہایت کمال تک پہنچنے والا ایسا کامل شخص عالم کی طرف بدستور رجوع کرتا ہے تو عالم کی طرف رجوع کرنے سے مطلوب کے گم ہونے کی وجہ سے پھر بھی شوق اس کی طرف عود نہیں کرتا کیونکہ اس کے شوق کے غالب ہونے کا باعث مطلوب کا گم ہوتا نہیں تھا جو رجوع کے بعد اب بھی موجود ہے۔ برخلاف پہلے کامل کے کہ عالم کی طرف رجوع کرنے کے وقت فقدان کے حاصل ہونے سے جو اؤل زائل ہو چکا تھا۔ پھر اس کی طرف شوق عود کرتا ہے۔ پس جب رکوع کے باعث فقدان یعنی مطلوب کا گم ہونا موجود ہوا تو وہ شوق جو اس کے زائل ہونے سے دور ہو گیا ہوا تھا پھر حاصل ہو جائے گا یہ نہیں کہا جاتا کہ وصول الی اللہ کے مراتب کبھی منقطع نہیں ہوتے ۔ پس ان مراتب میں سے بعض کی توقع کی جاتی ہے اس وقت مقرب واصل کے لئے بھی شوق کا ہونا متصور ہے کیونکہ ہم کہتے ہیں کہ مراتب وصول الی اللہ کا منقطع نہ ہونا سیر تفصیلی پر مبنی ہے جو اسماء وصفات و شیون و اعتبارات میں واقع ہے اور اس سالک کے حق میں نہایت تک پہنچنا متصور نہیں اور اس سے کبھی شوق زائل نہیں ہوتا اور جس کا ہم ذکر کر رہے ہیں ۔ وہ منتہی واصل وہ ہے جس نے ان مراتب کو اجمالی طور پر طے کیا ہے اور ایسے مقام تک پہنچ گیا ہے جس کو نہ کسی عبارت سے تعبیر کر سکتے ہیں اور نہ کسی اشارے سے اس کو بیان کر سکتے ہیں۔ پس وہاں ہر گز توقع متصور نہیں ہے۔ اسی واسطے اس سے شوق اور طلب بھی زائل ہو جاتا ہے اور یہ حال خواص اولیاء کا ہے کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو صفات کی تنگی سے عروج کر کے در بارالہی تک پہنچ گئے ہیں ۔ برخلاف ان لوگوں کے جو صفات میں تفصیلی طور پر سالک میں اور شیونات میں ترتیب وار سیر کرنے والے ہیں کیونکہ یہ لوگ تجلیات صفاتیہ میں ہمیشہ تک محبوس رہتے ہیں اور مراتب وصول ان کے حق میں صفات تک ہی ہیں اور بارگاه خداوندی تک عروج کرنا صفات و اعتبارات میں اجمالی سیر کے سوائے متصور نہیں اور جس کی سیر اسماء میں تفصیلی طور پر واقع ہو وہ صفات و اعتبارات میں مقید رہا اور اس سے شوق و طلب زائل نہ ہوا اور اس سے وجد تواجد دور نہ ہوا۔ پس شوق و تواجد والے لوگ تجلیات صفاتیہ والے لوگ ہیں اور جب تک یہ لوگ شوق اور وجد میں رہیں۔ تجلیات ذاتی سے ان کو کچھ حصہ حاصل نہیں ہوتا۔ پس اگر کوئی کہنے والا کہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے شوق کے کیا معنی ہیں حالانکہ اس سے کوئی چیز مفقود نہیں تو میں کہتا ہوں کہ شوق کا ذکر اس جگہ ممکن ہے کہ صنعت مشاکلت کی قسم سے ہو اور اس حدیث میں شدت کا ذکر اس اعتبار سے ہو کہ جو کچھ عزیز جبار خدائے تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جائے ۔ وہ شدید اور غالب ہوتا ہے۔ بہ نسبت اس چیز کے جو بندہ ضعیف کی طرف منسوب کیا جائے ۔ یہ جواب علماء کے طریق پر ہے اور بندہ ضعیف یعنی خاکسار کے نزدیک اور کئی قسم کے جواب ہیں جوطریق صوفیہ کے مناسب ہیں لیکن وہ جواب ایک قسم کا سکر چاہتے ہیں اور سکر کے بغیر ان کا بیان کرنا اچھا نہیں بلکہ جائز نہیں کیونکه مست معذور ہیں اور ہشیار پوچھے جائیں گے اور اب میرا حال محض ہشیاری ہے ۔ اس واسطے ان کا ذکر کرنا میرے حال کے مناسب نہیں ہے وَالْحَمْدُ لِلَّهِ أَوَّلاً وَاخِرَا وَالصَّلوة وَالسَّلامُ عَلى نَبِيَّة دَائِمًا وَسَرْمَداً – اوّل و آخر سب تعریف اللہ ہی کے لئے ہے اور اس کے نبی پر ہمیشہ صلوۃ وسلام ہو ۔

نوٹس : ویب سائیٹ میں لفظی اغلاط موجود ہیں، جن کی تصیح کا کام جاری ہے۔ انشاء اللہ جلد ان اغلاط کو دور کر دیا جائے گا۔ سیدنا مجدد الف ثانی علیہ رحمہ کے مکتوبات شریف کو بہتر طریقے سے پڑھنے کے لئے کتاب کا مطالعہ ضرور کریں۔ جزاک اللہ خیرا