128

مکتوب 24 : اس بیان میں کہ صوفی کائن بائن ہے اور اس بیان میں کہ دل کا تعلق ایک سے زیادہ کے ساتھ نہیں ہوتا


مکتوب (24)

اس بیان میں کہ صوفی کائن بائن ہے اور اس بیان میں کہ دل کا تعلق ایک سے زیادہ کے ساتھ نہیں ہوتا اور اس بیان میں کہ محبت ذاتی کا ظہور محبوب کے رنج و انعام کو مساوی جاننے کو مستلزم ہے اور اس بیان میں کہ مقربین کی عبادت اور ابرار کی عبادت میں کیا فرق ہے اور اس بیان میں کہ مغلوب الحال اولیاء اور ان اولیاء کے درمیان جو دعوت خلق کی طرف راجع ہیں ، کیا فرق ہے۔ محمد قلیج خاں کی طرف لکھا گیا ہے۔

اللہ تعالٰی اپنے حبیب سید المرسلین صلى الله عليه وسلم کے طفیل آپ کو سلامت رکھے اور عافیت بخشے ۔

الْمَرْأَمَعَ مَنْ اَحَبَّهُ آدمی اس کے ساتھ ہے جس سے اس کی دوستی ہے۔

پس مبارک ہے وہ شخص جس کے دل میں خدا کی محبت کے سواکسی اور کی محبت نہ ہو اور اس کے سواکسی اور کا طالب نہ ہو۔ پس ایسا شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے اگر چہ ظاہر میں خلق کے ساتھ مشغول ہے اور کائن بائن صوفی کی یہی شان ہے۔ یعنی حقیقت میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے اور خلق سے جدا ہے یا یہ مراد ہے کہ ظاہر میں خلق کے ساتھ ہے اور حقیقت میں اس سے جدا اور دل کی محبت کا تعلق ایک سے زیادہ کے ساتھ نہیں ہوتا ۔ پس جب تک اس کی محبت کا تعلق اس ایک سے ہوگا۔ اس کے ماسوا سے اس کی محبت نہ ہوگی اور یہ جو اس کی مرادوں کی کثرت اور بہت قسم کی اشیاء مثل مال و اولاد و سرداری اور تعریف اور لوگوں میں عزت و شان وغیرہ کے ساتھ اس کی محبت کا تعلق دیکھا جاتا ہے تو اس صورت میں بھی اس کا محبوب ایک ہی چیز ہے اور وہ اس کا اپنا نفس ہے اور ان سب چیزوں کی محبت اس کے اپنے نفس کی محبت کی فرع اور شاخ ہے کیونکہ وہ ان سب چیزوں کو اپنے نفس کے لئے چاہتا ہے نہ کہ اپنے آپ کو ان کے لئے پس جب اس کے اپنے نفس کی محبت زائل ہو جائے تو ان تمام چیزوں کی محبت بھی بالتبع دور ہو جائے گی۔ اسی سبب سے کہتے ہیں کہ بندہ اور حق تعالیٰ کے درمیان حجاب بندہ کا اپنا نفس ہے۔ نہ کہ جہان۔ کیونکہ ان کا ذاتی مقصد جہان نہیں ہے تا کہ حجاب ہو جائے بلکہ اس کا مقصود اپنے نفس کے سوا اور کچھ نہیں۔ پس بالضرور حجاب اس کا اپنا نفس ہوگا نہ کوئی اور شے پس جب تک بندہ اپنے نفس کی مراد سے بالکل پاک نہ ہو جائے ۔ حق تعالیٰ اس کی مراد نہیں ہو سکتا اور نہ ہی حق تعالیٰ کی محبت اس کے دل میں آسکتی ہے

اور یہ اعلیٰ دولت فنائے مطلق کے بعد جو تجلی ذاتی سے وابستہ ہے ثابت حاصل ہوتی ہے کیونکہ ظلمات کا پورے طور پر رفع ہونا متصور نہیں جب تک کہ سورج اچھی طرح روشن ہو جائے ۔ پس جب یہ محبت جس کو محبت ذاتی سے تعبیر کرتے ہیں حاصل ہو جائے تو اس وقت محب کے نزدیک محبوب کا انعام اور ایلام یکساں معلوم ہوتا ہے۔ پس اس کو اس وقت اخلاص حقیقی حاصل ہو جاتا ہے اور خدا کی عبادت خاص اس کے لئے کرتا ہے نہ اپنے نفس کے لئے یعنی انعام کی طلب اور رنج کے دفع کرنے کی غرض سے نہیں کرتا کیونکہ یہ دونوں اس کے نزدیک برابر ہیں اور یہ مرتبہ مقربین کا ہے کیونکہ ابرار محبت ذاتی کی سعادت سے کامیاب نہ ہونے کے باعث اللہ تعالیٰ کی عبادات خوف وطمع کی نیت سے کرتے ہیں اور یہ دونوں امران کے اپنے نفس کی طرف راجع ہیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ ابرار کی نیکیاں مقربین کے لئے گناہ ہیں۔ پس ابرار کے حسنات ایک وجہ سے نیکیاں ہیں اور ایک وجہ سے برائیاں اور مقربین کے حسنات خالص اور محض نیکیاں ہیں۔


ہاں مقربین میں سے بھی بعض لوگ بقائے کامل سے موصوف ہونے اور عالم اسباب کی طرف نزول کرنے کے بعد خوف و طمع کی نیت سے خدا کی عبادت کرتے ہیں لیکن ان کا خوف وطمع ان کے اپنے نفسوں کی طرف راجع نہیں ہوتا بلکہ وہ اس کی رضامندی کی طمع پر اور اس کے غضب سے ڈر کے مارے عبادت کرتے ہیں اور ایسے ہی جنت کو وہ اس واسطے طلب کرتے ہیں کہ اس کے رحمت کا مقام ہے نہ کہ اپنی جانوں سے رنج و الم کو دور کرنے کے لئے کیونکہ یہ بزرگوار نفسوں کی غلامی سے آزاد ہو کر خالص اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہو گئے ہیں اور مقربین کے مرتبوں میں سے یہ رتبہ نہایت اعلیٰ ہے اور اس مرتبہ والے شخص کو ولایت خاصہ کے مرتبہ سے متصف ہونے کے بعد مقام نبوت کے کمالات سے کامل حصہ حاصل ہوتا ہے اور وہ شخص جو عالم اسباب کی طرف نزول نہ کرے وہ مغلوب الحال اولیاء میں سے ہے اور اس کو مقام نبوت کے کمالات سے کچھ حاصل نہیں ہے۔ اس لئے وہ تکمیل وارشاد کے بھی لائق نہ ہوگا۔ برخلاف اوّل کے۔


رَزَقْنَا اللهُ تَعَالَى مَحَبَّةَ هَؤُلَاءِ الأَكَابِرِ بِحُرُمَةِ سَيِّدِ الْبَشَرِ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَتُبَاعِهِ مِنَ الصَّلَواتِ اَفْضَلَهَا وَمِنَ التَّسْلِيمَاتِ اَكْمَلُهَا فَإِنَّ الْمَرْءَ مَعَ مَنْ اَحَبَّ اللہ تعالیٰ ہم کو سید البشر صلى الله عليه وسلم کے طفیل ان بزرگواروں کی محبت عطا فرمائے ۔ کیونکہ آدمی اسی کے ساتھ ہے جس سے اس کو محبت ہے ۔ وَالسَّلامُ أَوَّلاً وَاخِراً ۔

نوٹس : ویب سائیٹ میں لفظی اغلاط موجود ہیں، جن کی تصیح کا کام جاری ہے۔ انشاء اللہ جلد ان اغلاط کو دور کر دیا جائے گا۔ سیدنا مجدد الف ثانی علیہ رحمہ کے مکتوبات شریف کو بہتر طریقے سے پڑھنے کے لئے کتاب کا مطالعہ ضرور کریں۔ جزاک اللہ خیرا