94

مکتوب 23: پیر ناقص سے طریقہ اخذ کرنے سے منع کرنے اور اس کے نقصان کے بیان میں


مکتوب (23)

پیر ناقص سے طریقہ اخذ کرنے سے منع کرنے اور اس کے نقصان کے بیان میں اور ان القاب سے جو اہل کفر سے مشابہ ہیں زجر و تنبیہ کرنے کے بیان میں عبدالرحیم خانخاناں کی طرف اس کے خط کے جواب میں لکھا ہے۔

اللہ تعالیٰ اپنے حبیب سید البشر صلى الله عليه وسلم کے طفیل جو تمام سیاه و سرخ یعنی نیک و بد کی طرف بھیجے و گئے ہیں ۔ ہم کو اور تم کو حال سے خالی قال اور عمل سے خالی علم سے نجات بخشے اور اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے۔ جس نے امین کہا۔


نیک بخت صادق بھائی نے تمہارا خط پہنچایا اور زبان ترجمان سے آنجناب کا حال جیسا تھا بیان کیا۔ پس میں نے یہ شعر پڑھا۔


اَهْلاً لِسُعُدى وَالرَّسُولِ وَحَبَّذا
وَجُهُ الرَّسُولِ لِحُبِّ وَجُهِ الْمُرْسِلِ


مرحبا اے یار ما و قاصد دلدار ما
دیدن رویت لقاء دلبر غمخوار ما


ترجمہ : مرحبا صد مرحبا اے قاصدا
دیکھنا تیرا ہے گویا دیکھنا دلدار کا


اے کمالات کے ظہور کو قبول کرنے والے بھائی کہ اللہ تعالیٰ تمہارے فعل کو قوت سے ظہور میں لائے ۔ جان لے کہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔ پس افسوس اس شخص پر جس نے اس میں نہ بویا اور اپنی استعداد کی زمین کو بیکار رہنے دیا اور اپنے اعمال کے بیج کو ضائع کر دیا۔


اور جاننا چاہئے کہ زمین کا ضائع اور بیکار کرنا دو طریق پر ہے ۔ ایک یہ کہ اس میں کچھ نہ ہوئے اور دوسرا یہ کہ اس میں ناپاک اور خراب بیج ڈالے اور پہلی قسم کی نسبت دوسری قسم اضاعت میں بہت ضرر اور زیادہ فساد ہے جیسا کہ پوشیدہ نہیں ہے اور بیج کا نا پاک اور خراب ہونا اس طرح پر ہے کہ ناقص سالک سے طریقہ اخذ کریں اور اس کی راہ پر چلیں ۔ کیونکہ وہ حرص و ہوا کے تابع ہوتا ہے اور حرص و ہوا والے کی کچھ تاثیر نہیں ہوتی اور اگر بالفرض تاثیر ہو بھی تو اس کی حرص کو ہی زیادہ کرے گی ۔ پس اس سے سیاہی پر سیاہی حاصل ہوگی اور نیز ناقص کو چونکہ خود واصل نہیں ہے خدا کی طرف پہنچانے والے اور نہ پہنچانے والوں راستوں کے درمیان تمیز حاصل نہیں ہے اور ایسے ہی طالبوں کی مختلف استعدادوں کے درمیان فرق نہیں جانتا اور جب اس نے طریق جذ بہ اور سلوک کے درمیان تمیز نہ کی تو بسا اوقات طالب کی استعداد ابتداء میں طریق جذ بہ کے مناسب ہوتی ہے اور طریق سلوک سے نامناسب ہوتی ہے اور ناقص شیخ نے راستوں اور مختلف استعدادوں کے درمیان تمیز کے نہ ہونے کے باعث ابتداء میں اس کو طریق سلوک پر چلایا تو اس نے راہ حق سے اس کو گمراہ کر دیا جیسا کہ وہ خود گمراہ ہے۔ پس جب شیخ کامل مکمل ایسے طالب کی تربیت کرنی چاہئے اور اس کو اس طریق پر چلانا چاہئے تو اس کو چاہئے کہ اول اس سے اس چیز کو دور کرے جو ناقص شیخ سے اس کو پہنچی ہے اور جو کچھ اس کے سبب سے اس کا بگاڑ ہوا ہے اس کی اصلاح و درستی کرے۔ پھر اس کی استعداد کے مناسب اچھا بیج اس کی استعداد کی زمین میں ڈالے ۔ پس اس طرح اچھا سبزہ اگے گا۔


مَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيثَةِ كَشَجَرَةٍ خَبيثَةٍ ن اجُتُنَّتْ مِنْ فَوْقِ الْأَرْضِ مَالَهَا مِنْ قَرَارِه وَمَثَلُ كَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي اسْمَاء (ناپاک کلمہ کی مثال نا پاک درخت کی طرح ہے، جس کی جڑ زمین کے اوپر ہے اور اس کو کوئی قرار نہیں ہے اور پاک کلمہ کی مثال پاک درخت کی طرح ہے اس کی اصل یعنی جڑ ثابت ہے اور اس کی شاخ آسمان میں )

پس شیخ کامل مکمل کی صحبت سرخ گندھک یعنی کیمیا ہے اس کی نظر دوا اور اس کی بات شفا ہے۔ وَبِدُونِهَا خَرْطُ الْقِتَادِ ( اور اس کے سوا بے فائدہ رنج و تکلیف ہے ) اللہ تعالیٰ ہم کو اور تم کو شریعت مصطفی صلى الله عليه وسلم کے سیدھے راستہ پر ثابت قدم رکھے۔ کیونکہ یہی مقصود ہے اور اسی پر سعادت اور نجات کا مدار ہے۔ کسی نے کیا اچھا کہا ہے


محمد عربی کہ آبروئے ہر دوسر است
کے کہ خاک درش نیست خاک برسراد

ترجمہ: محمد جو ہیں آبرو دو جہاں کی
جو منکر ہے اس کا وہی ہے شقی

اور ہم اس مضمون کو سید المرسلین کی صلوات و تسلیمات و تحیات و برکات پر ختم کرتے ہیں۔

تتمہ بڑے تعجب کی بات ہے کہ بھائی صادق نے بیان کیا ہے کہ آپ کے ہم نشین فاضل شاعروں میں سے ایک شخص شعر میں اپنے آپ کو کفر کے لقب سے ملقب کرتا ہے۔ حالانکہ وہ بزرگ سادات اور شریف خاندان میں سے ہے۔ ہائے افسوس! اس کو اس برے اسم پر جس کی برائی ظاہر ہے کس چیز نے برانگیختہ کیا حالانکہ مسلمان کو لازم ہے کہ ایسے اسم سے ایسا بھاگے جیسے ہلاک کرنے والے شیر سے اور اس کو بہت برا سمجھے کیونکہ یہ اسم اور اس کا مسلمے دونوں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلى الله عليه وسلم کے نزدیک نا پسند و مکروہ ہیں اور مسلمان کافروں کے ساتھ عداوت رکھنے اور ان پرپختی کرنے کے لئے مامور ہیں۔ پس ایسے برے اسم سے کنارہ کرنا واجب ہے۔

اور یہ بعض مشائخ قدس سرہم کی عبارتوں میں سکر کے غلبہ کے وقت کفر کی تعریف اور زنار باندھنے کی ترغیب وغیرہ پائی جاتی ہے تو اس کا مفہوم ظاہر سے پھیر کر تاویل و توجیہ پر محمول ہے کیونکہ اہل سکر کی کلام اچھے مفہوم پر حمل کی جاتی ہے اور اپنے ظاہر سے بھری ہوئی ہوتی ہے۔ اس لئے کہ وہ سکر کے غلبہ کے باعث اس قسم کے ممنوعات کے ارکات میں معذور ہیں ۔ باوجودیکہ ان بزرگواروں کے نزدیک کفر حقیقی اسلام حقیقی کی نسبت نقص و عیب ہے اور وہ لوگ جو اہل سکر نہیں ہیں وہ اگر ان کی تقلید کریں تو معذور نہیں ہیں نہ ہی ان کے نزدیک اور نہ ہی اہل شرع کے نزدیک ۔ کیونکہ ہر چیز کے لئے خاص موسم اور وقت ہوتا ہے کہ وہ چیز اس موسم میں اچھی معلوم ہوتی ہے اور دوسرے موسم میں بری ، اور دانا آدمی ایک کو دوسری پر قیاس نہیں کرتا۔

پس میری طرف سے اس کو التماس کریں کہ اس اسم کو دور کر دے اور کسی اچھے اسم سے بدل دیوے اور اپنے آپ کو اسلامی لقب سے ملقب کرے کیونکہ یہ بات مسلمان کے حال وقال کے موافق اور اس اسلام کے مناسب ہے جو اللہ تعالٰی اور اس کے رسول صلى الله عليه وسلم کے نزدیک پسندیدہ دین ہے ۔ اور اس میں اس تہمت سے بچنا ہے جس سے بچنے کے لے ہم مامور ہیں ۔ اتقوا مِنْ مُواضِعِ التَّهْمَةِ ایسی سچی کلام ہے کہ اس پر کسی قسم کا غبار نہیں ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالْعَبْدُ مُّؤْمِنْ خَيْرٌ مِنْ مُّشْرِک ( اور بیشک بندہ مومن مشرک سے بہتر ہے ) والسلامُ عَلَى مَنِ التَّبَعَ الْهُدَى ( اور سلام ہو اس شخص پر جو ہدایت پر چلتا ہے۔)

نوٹس : ویب سائیٹ میں لفظی اغلاط موجود ہیں، جن کی تصیح کا کام جاری ہے۔ انشاء اللہ جلد ان اغلاط کو دور کر دیا جائے گا۔ سیدنا مجدد الف ثانی علیہ رحمہ کے مکتوبات شریف کو بہتر طریقے سے پڑھنے کے لئے کتاب کا مطالعہ ضرور کریں۔ جزاک اللہ خیرا