89

مکتوب 18 : مکین کے بیان میں جو تلوین کے بعد حاصل ہوتی ہے اور ولایت کے تین قسم کے مراتب کے بیان اور اس بیان میں کہ اللہ تعالیٰ کا وجود اس کی ذات وغیرہ پر زائد ہے


مکتوب (18)

تمکین کے بیان میں جو تلوین کے بعد حاصل ہوتی ہے اور ولایت کے تین قسم کے مراتب کے بیان اور اس بیان میں کہ اللہ تعالیٰ کا وجود اس کی ذات وغیرہ پر زائد ہے۔ اپنے پیر بزرگوار کی خدمت میں لکھا ہے:

بنده کمترین پر تقصیر احمد بن عبدالاحد کی گزارش ہے کہ جب تک حالات و واردات ظاہر ہونے تھے ۔ ان کے عرض کرنے میں گستاخی اور جرات کرتا تھا لیکن جب حق تعالیٰ نے حضور کی بزرگ توجہ کی برکت سے احوال کی غلامی سے آزاد کر دیا اور تلوین سے تمکین کے ساتھ مشرف فرمایا تو حیرت و پریشانی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا اور وصل سے جدائی اور قرب سے بعد کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا اور معرفت سے نادانی اور علم سے جہل کے سوا کچھ زیادہ نہ ہوا۔ اس واسطے نیاز ناموں میں توقف واقع ہوا اور صرف روزمرہ خبروں کا عرض کرنا مناسب نہ جانا۔ اس کے علاوہ دل ایسا سرد ہو گیا کہ کسی امر میں سرگرمی نہیں کرتا اور بیکاروں کی طرح کسی کام میں مشغول نہیں ہو سکتا۔

من هچیم و کم ز هیچ هم بسیارے
و از هیچ و کم از هیچ نیاند کارے

ترجمہ ۔ بیچ ہوں میں بلکہ کم تر بیچ سے
ہیچ سے پھر کام کیا کچھ ہو سکے


اب ہم اصل سخن کو بیان کرتے ہیں ۔


تعجب یہ ہے کہ اب اس حق الیقین سے مشرف فرمایا ہے کہ جس جگہ علم و عین ایک دوسرے کے حجاب نہیں ہیں اور فنا و بقاو ہاں جمع ہیں۔ عین حیرت و بے نشانی میں علم و شعور ہے اور نفس غیبت میں، حضور میں، باوجود علم و معرفت کے جہل و نادانی کی زیادتی کے سوا اور کچھ نہیں ۔

عجب انیست که من واصل و سرگردانم

ترجمہ ۔ تعجب ہے کہ واصل اور پریشان ہوں

اللہ تعالیٰ نے محض اپنی بے حد عنایت سے کمالات کے درجوں میں ترقیات بخشی ہیں۔

مقام ولایت سے اوپر مقام شہادت ہے اور ولایت کو شہادت سے وہی نسبت ہے جو تجلی صوری کو تجلی ذاتی سے ہے بلکہ ولایت و شہادت کا درمیانی بعد ان دونوں تجلیوں کے درمیانی بعد سے کئی درجے زیادہ ہے اور مقام شہادت سے اوپر مقام صدیقیت ہے اور وہ فرق جو ان دونوں مقاموں کے درمیان ہے وہ نہ تو کسی عبارت سے تعبیر کیا جا سکتا ہے اور نہ کسی اشارہ سے بیان کیا جاسکتا ہے اور اس مقام سے اوپر سوائے مقام نبوت کے ( علی صاحبہا الصلوٰۃ والتسلیمات ) اور کوئی مقام نہیں ہے اور ممکن نہیں کہ مقام صدیقیت اور نبوت کے درمیان کوئی اور مقام ہوا ہو بلکہ محال ہے اور اس کے محال ہونے کا یہ حکم صریح اور صحیح کشف سے معلوم ہوا ہے اور یہ جو بعض اہل اللہ نے ان دونوں مقاموں کے درمیان واسطہ ثابت کیا ہے اور اس کا نام قربت رکھا ہے اس سے بھی مشرف فرمایا اور اس مقام کی حقیقت پر اطلاع بخشی ۔

بہت سی توجہ اور بے شمار عاجزی کے بعد اول اسی طرح جیسا کہ بزرگوں نے فرمایا ہے ظاہر ہوا لیکن آخر کار اصل حقیقت معلوم ہوگئی ۔ ہاں عروج کے وقت مقام صدیقیت کے حاصل ہونے کے بعد وہ مقام حاصل ہوتا ہے لیکن واسطہ ہونا مقام تامل ہے ۔ ظاہری ملاقات کے بعد انشاء اللہ اس کی حقیقت کو مفصل عرض کیا جاوے گا۔ وہ مقام بہت ہی بلند ہے اور عروج کی منزلوں میں اس مقام سے اوپر اور کوئی مقام معلوم نہیں ہوتا اور اللہ تعالیٰ کی ذات پر وجود کا زائد ہونا اسی مقام میں ظاہر ہوتا ہے جیسا کے علمائے اہل حق کے نزدیک مقرر اور ثابت ہے ۔ شَكَرَ اللهُ تَعَالَى سَعْيُهُمُ (اللہ تعالیٰ ان کو اس کوشش کی جزائے خیر دیوے) اور یہاں وجود بھی راستہ میں رہ جاتا ہے اور ان سے اوپر عروج واقع ہوتا ہے۔

ابوالمکارم رکن الدین شیخ علاؤ الدولہ علیہ الرحمۃ اپنی بعض تصنیفات میں فرماتے ہیں کہ عالم وجود کے اوپر بادشاہ ودود کا عالم ہے اور مقام صدیقیت مقام بقا سے ہے جو عالم کی طرف توجہ رکھتا ہے اور اس مقام سے نیچے مقام نبوت ہے جو حقیقت میں بالا تر ہے اور اس میں کمال صحو اور بقا ہے۔ مقام قربت ان دونوں مقاموں کے درمیان برزخ اور واسطہ ہونے کی لیاقت نہیں رکھتا۔ کیونکہ اس کی توجہ صرف تنزیہ کی طرف ہے اور عروج کا انتہاء ہے۔ ان دونوں کے درمیان بڑا فرق ہے۔


در پس آئینه طوطی صفتم داشته اند
ہرچه استاد ازل گفت بگو میگویم

ترجمہ: مثل طوطی آئینے کے پیچھے رکھا ہے مجھے
کہتا ہوں میں وہ جو استاد ازل مجھ کو کہے

شرعی نظری استدلالی علوم کو ضروری کشفی بنا دیا ہے اور علمائے شریعت کے اصول سے سرمو مخالف نہیں ہے۔

بلکہ انہی اجمالی علوم کو فصیلی کر دیا ہے اور نظریت سے ضرورت کی طرف لائے ہیں۔

کسی شخص نے حضرت خواجہ بزرگ قدس سترہ سے پوچھا کہ سلوک سے مقصود کیا ہے فرمایا تا کہ اجمالی معرفت تفصیلی اور استدلالی کشفی ہو جائے اور نہ فرمایا کہ اس کے سوا کچھ اور علوم حاصل ہوتے ہیں ۔ ہاں رستہ میں بہت سے علوم و معارف ظاہر ہوتے ہیں جن سے گزرنا پڑتا ہے اور جب تک سالک نہایت کے درجے تک جو صدیقیت کا مقام ہے نہ پہنچے ۔ ان علوم سے حصہ حاصل نہیں کرتا ۔ فَيَالَيتَ شِعُرِى إِنَّ مِنْ أَهْلِ اللَّهِ لَقَائِلِينَ لِحُصُولِ هَذَا الْمَقَامِ الشَّرِيفِ وَ لَيْسَ لَهُمُ مُنَاسِبَةُ بِعُلوم هَذَا الْمَقَامِ وَ مُعَارِفِهِ فَمَا وَجْهُهُ وَ فَوْقَ كُلّ ذِى عِلْمٍ عَلِيمُ کاش میں جانتا کہ بعض اہل اللہ جو اس مقام شریف کے حصول کے قائل ہیں، حالانکہ ان کو اس

مقام کے علوم اور معارف کے ساتھ کچھ مناسبت نہیں اس کی کیا وجہ ہے اور ہر علم والے سے بڑھ کر علم والا ہے۔)

اور مسئلہ قضا و قدر کے راز پر اطلاع بخشی اور اس کو اس طرح جتلایا کہ شریعت حنفیہ کے ظاہر اصول سے کسی طرح مخالف نہیں اور ایجاب کے نقص اور جبر کی آمیزش سے پاک وصاف ہے اور ظہور میں چودھویں رات کے چاند کی طرح ہے۔

تعجب کی بات ہے کہ جب یہ مسئلہ اصول شریعت کے مخالف نہیں ہے تو پھر اس کو کیوں پوشیدہ رکھا ہے۔ ہاں اگر اس میں کچھ مخالفت ہوتی تو اس کا چھپانا اور پوشیدہ رکھنا مناسب تھا۔ لا يُسْئَلُ عَمَّا يَفْعَلُ ( جو کچھ وہ کرتا ہے اس سے کوئی پوچھ نہیں سکتا )


کر از هرهٔ آنکه از بیم تو
کشاید زباں جز به تسلیم تو جزبہ


ترجمہ: کس کو طاقت کہ مارے ڈر کے تیرے
غیر تسلیم کے زباں کھولے

علوم و معارف ابر بہاری کی طرح اس طرح برس رہے ہیں کہ قوت مدر کہ ان کے برداشت کرنے سے عاجز ہے۔ قوت مدرکہ جو مجرد تعبیر ہے۔ وَإِلَّا يَحْمِلُ عَطَايَا الْمَلِكَ إِلَا مَطَايَاهُ (ورنہ بادشاہ کے عطیوں کو اسی کی سواریاں اٹھا سکتی ہیں۔ )


اول اوّل یہ شوق تھا کہ ان عجیب علوم کو لکھا جائے ۔ مگر اس امر کی توفیق نہ پاتا تھا اور اسی وجہ سے بے قرار رہتا تھا۔ آخر کار تسلی فرمائی کہ ان علوم کے فیضان سے ملکہ کا حاصل کرنا مقصود ہے نہ کہ علوم کا یاد کرنا جیسا کہ طالب علم اس واسطے علم حاصل کرتے ہیں کہ مولویت کا ملکہ حاصل کریں۔ نہ اس لئے کہ صرف ونحو وغیرہ کے اصول حفظ کر لیں ان میں سے بعض علوم عرض کرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ ( نہیں مانند اس کے کوئی چیز اور وہی سنتا اور دیکھتا ہے ) کلام کا اول حصہ تنزیہ محض کا اثبات ہے جیسا کہ خود ظاہر ہے اور اللہ تعالیٰ کا قول وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ اس تنزیہ کو تمام و کامل کرنے والا ہے۔

اس کا بیان یہ ہے کہ چونکہ عالم کیلئے سمع و بصر کے ثابت ہونے میں باہم مشابہت کے ثبوت کا وہم گزرتا ہے اگر چہ فرضی ہو اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس وہم کے دور کرنے کے لئے عالم سے سمع و بصر کی نفی کر دی۔ یعنی سمیع و بصیر وہی اللہ جل شانہ ہی ہے اور سمع و بصر جو مخلوقات میں پیدا ہے۔ دیکھنے اور سننے میں کچھ دخل نہیں رکھتی جس طرح کہ اللہ تعالیٰ سمع و بصر کو پیدا کرتا ہے۔ اسی طرح ان دو صفتوں کے پیدا کرنے کے بعد بطریق عادت سماع و روئت یعنی دیکھنے اور سننے کو پیدا کرتا ہے۔ بغیر اس امر کے کہ ان صفات کی تاثیر ہو اور اگر ہم تاثیر کے قائل ہوں تو ان میں تاثیر بھی اسی کی پیدا کی ہوئی ہے۔ پس جس طرح ان کے اصل جماد محض ہیں اسی طرح ان کے صفات بھی جماد محض ہیں جس طرح اللہ تعالییٰ محض اپنی قدرت سے پتھر میں کلام پیدا کر دے تو یہ نہیں کہہ سکتے کہ حقیقت میں پتھر کلام کرنے والا ہے۔ پس جس طرح پتھر جماد محض ہے اس میں یہ صفت بھی اگر بالفرض موجود ہو تو جماد محض ہے۔ اس سے حرف و آواز کے ظاہر ہونے میں اس کا کوئی دخل نہیں ۔ تمام صفات اسی طرح پر ہیں ۔


غرض جب یہ دو صفتیں زیادہ ظاہر تھیں ان دونوں کو نفی کے لئے اللہ تعالیٰ نے خاص کیا اور ان دونوں کی نفی سے باقی صفات کی نفی بطریق اولی لازم آئے گی۔

حق تعالیٰ نے اول علم کی صفت کو پیدا کیا۔ بعد ازاں معلوم کی طرف اس کی توجہ پیدا کی۔ بعد ازاں سننا بعد ازاں مسموع کا اور ایک پیدا کیا۔ اسی طرح اول بصر کو پیدا کیا۔ بعد ازاں دھیری کا پلٹنا اور اشیاء کی طرف توجہ بعد ازاں روئت یعنی دیکھنا۔ بعد ازاں دیکھی ہوئی چیز کا ادراک پیدا کیا۔ علی ھذا القیاس۔

پس سمیع و بصیر وہی ہو سکتا ہے کہ یہ دو صفتیں اس کے سماع و روت کا مبدا ہوں اور جب ایسا نہیں ہے تو سوائے خدا تعالیٰ کے کوئی سمیع و بصیر نہیں ہے۔ پس ثابت ہوا کہ ان کی صفات ان کے اصل کی طرح جماد محض ہیں۔ پس آخر کلام سے یہ مقصود ہے کہ ان سے تمام صفات کی کلی طور پر نفی ہو جائے نہ یہ کہ ان کے لئے صفات ثابت ہوں اور یہ صفتیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہی ثابت ہیں کیونکہ اس سے تنزیہ اور تشبیہ کا باہم جمع ہونا لازم آتا ہے بلکہ تمام آیت کریمہ میں تنزیہ کا اثبات اور کلی طور پر تشبیہ کی نفی ہے۔

علم اول یعنی ان کی صفات کو خاص خدائے تعالیٰ کے لئے ثابت کرنا اور ان کے اصلوں کو محض جماد جاننا اور پرنالے اور کوزے کی طرح معلوم کرنا کہ پانی وہاں سے ظاہر ہے مقام ولایت کے مناسب علوم سے ہے اور علم ثانی یعنی ان کی صفات کو بھی جماد کی طرح معلوم کرنا اور تمام کومیت جانا کہ إِنَّكَ مَيْت وَإِنَّهُم مَّيَتُونَ ( تو بھی مردہ ہے اور یہ بھی مردہ ہیں مقام شہادت کے ـ مناسب علوم سے ہے۔)

اس بیان سے بھی دونوں مقامات کا درمیانی فرق مفہوم ہو جاتا ہے۔ وَالْقَلِيْلُ يَدُلُّ عَلَى الكَثِيرِ وَ الجُرْعَةُ تَنْبِی ءُ عَنِ الْبَحْرِ الْغَدِيرِ ) تھوڑا بہت پر دلالت کرتا ہے اور قطرہ بڑے سمندر کی خبر دیتا ہے۔)


سالی که نکوست از بهارش پیداست

ترجمہ : ظاہر ہے سال اچھا اپنی بہار ہی سے

اور ایسے ہی اس عالی مقام والے لوگ مخلوقات کے افعال کو بھی مردہ اور جماد کی طرح پاتے ہیں۔ نہ یہ کہ ان افعال کو حق تعالیٰ کی طرف منسوب کریں اور ان فعلوں کا فاعل اللہ تعالیٰ کو جائیں ۔ تَعَالَى اللهُ ذَلِكَ عُلُوًّا كَبِيراً (اللہ تعالیٰ کی ذات اس نسبت سے بلند ہے ) مثلا کوئی شخص پتھر کو ہلاتا ہے اور حرکت دیتا ہے تو نہیں کہہ سکتے کہ وہ شخص متحرک ہے بلکہ پتھر میں حرکت کا ایجاد کرنے والا ہے اور پھر متحرک ہے۔ باوجود اس کے جس طرح کہ پتھر جماد محض ہے۔ اسی طرح س کی حرکت بھی جماد محض ہے اور اگر بالفرض اس حرکت سے کوئی شخص ہلاک ہو گیا تو یہ نہیں کہتے کہ پتھر نے مارا بلکہ یہ کہیں گے کہ اس شخص نے مارا اور علمائے شریعت شَكَرَ اللَّهُ تَعَالَىٰ سَعْيُهُمُ کا قول اس علم کے موافق ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ مخلوقات سے افعال کی صادر ہونے میں کچھ دخل نہیں۔ ان کے افعال چند حرکتیں ہیں۔ بغیر اس امر کے کہ ان کے لئے معمول بنانے میں کچھ دخل نہیں۔ ان کے افعال چند حرکتیں ہیں۔ بغیر اس امر کے کہ ان کے لئے معمول بنانے میں کچھ تاثیر ہو۔ اگر کہے کہ اس تقدیر پر افعال کو ثواب و عذاب کا مدار بنانا بے فائدہ ہے جیسا کہ پتھر کو کسی امر کے لئے مکلفین کریں اور اس کے فعل پر مدح و ذم مترتب کریں تو اس کا جواب یہ ہے کہ سنگ اور مکلفین کے درمیان فرق ہے کیونکہ تکلیف قدرت اور ارادت پر وابستہ ہے اور سنگ میں ارادت نہیں لیکن جب ان کی ارادت بھی حق تعالیٰ کی مخلوق ہے بغیر اس بات کے کہ مراد کے حصول میں اس کی تاثیر ہو۔ وہ ارادت بھی مردہ کی طرح ہے۔ اس بناء پر کہ مراد اس کی ثابت ہونے کے بعد بطریق عادت پیدا ہوتی ہے اور اگر بالفرض مخلوق کی قدرت کو موثر کہا بھی جائے جیسا کہ علمائے ماوراء النہر ( خدا ان کی کوشش کی جزا دے دے) نے کہا ہے تو وہ تاثیر بھی اس میں خدا کی پیدا کی ہوئی ہے۔ جیسا کہ قدرت اس کی پیدا کی ہوئی ہے۔ پس اس کی تاثیر بھی جماد کی مانند ہوگئی ۔ مثلاً ایک شخص نے ایک پتھر کو دیکھا کہ کسی ہلانے والے کی حرکت سے اوپر سے نیچے گرا اور ایک جاندار کو مار دیا۔ وہ شخص جس طرح پتھر کو جماد جانتا ہے۔ اس کے فعل کو بھی جو حرکت ہے جماد جانتا ہے اور اس فعل کے اثر کو بھی جو ہلاک یعنی مارتا ہے۔ جماد جانتا ہے۔ پس ذات وصفات و افعال سب کے سب محض جمادات اور مردہ ہیں ۔ فَهُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ وَهُوَ السَّمِيعُ البَصِيرُ وَهُوَ العَلِيمُ الْخَبِيرُ وَهُوَ فَعَّال لِمَا يُرِيدُ قُلْ لَّو كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَاتِ رَبِي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمَاتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَداً . پس وہی زندہ اور قائم و دائم ہے اور وہی سننے والا دیکھنے والا ہے اور وہی جانے والا اور خبر والا ہے اور وہی کرنے والا ہے جو چاہتا ہے کہ اگر
.

سمندر اللہ تعالیٰ کے کلمات لکھنے کے لئے سیاہی بن جائیں تو سمندر ختم ہو جائیں مگر اللہ تعالیٰ کی با تیں ختم نہ ہوں ۔ اگر چہ اتنے اور دریا و سمند رمدد کے طور پر لائیں۔)


گستاخی بہت ہوئی اور جرات بے حد واقع ہوئی سخن کے جمال نے جو جمیل مطلق کی طرف سے ہے۔ اس بات پر برانگیختہ کیا کہ جس قدرسخن دراز ہوزیبا ہے اور جو کچھ اس کی طرف سے بیان کیا جائے اچھا معلوم ہوتا ہے۔ حالانکہ اپنے آپ میں کوئی مناسبت نہیں پاتا کہ اس بارگاہ کی نسبت گفتگو کرے یا اس کا نام پاک زبان پر لائے

ہزار بار بشویم دهن بمشک و گلاب
ہنوز نام تو گفتن کمال بے ادبی است

ترجمه: گلاب و مشک سے کتنا ہی منہ کو صاف کروں
ادب سے دور ہے پھر بھی جو نام تیرا لوں


بند باید که حد خود داند


حضور کی توجہ اور عنایت کا امیدوار ہے۔ اپنی خرابی کی نسبت کیا عرض کرے اور جو کچھ اپنے آپ میں پاتا ہے حضور کی توجہ عالی کی عنایت ہے ورنہ


من ہماں احمد پارینہ کہ ہستم هستم


میاں شاہ حسین تو حید وجودی کا طریق رکھتا ہے اور اس میں محفوظ ہے دل میں آتا ہے کہ وہاں سے اس کو نکالا جائے تا کہ حیرت تک جو اصلی مقصود ہے پہنچ جائے۔

نوٹس : ویب سائیٹ میں لفظی اغلاط موجود ہیں، جن کی تصیح کا کام جاری ہے۔ انشاء اللہ جلد ان اغلاط کو دور کر دیا جائے گا۔ سیدنا مجدد الف ثانی علیہ رحمہ کے مکتوبات شریف کو بہتر طریقے سے پڑھنے کے لئے کتاب کا مطالعہ ضرور کریں۔ جزاک اللہ خیرا

محمد صادق بچپن ہی سے اپنے آپ کو ضبط نہیں کر سکتا۔ اگر سفر میں ہمراہ جاتا ہے بہت ترقی کرتا ہے دامن کوہ کی سیر میں ہمراہ تھا۔ بڑی ترقی کی اور مقام حیرت میں غرق ہے۔ حیرت میں فقیر کے ساتھ بڑی مناسبت رکھتا ہے اور شیخ نور بھی اسی مقام میں ہے اس نے بھی بہت ترقی کی ہے اور اس فقیر کے خویشوں میں سے ایک جوان ہے اس کا حال بہت بلند ہے تجلیات برقی کے نزدیک ہے اور مستعد ہے۔