88

مکتوب 17: اس بیان میں کہ اس جہان کی مصیبتیں اگر چہ بظاہر جراحت و زخم ہیں


مکتوب 17

اس بیان میں کہ اس جہان کی مصیبتیں اگر چہ بظاہر جراحت و زخم ہیں مگر حقیقت میں ترقیوں کا موجب ہیں اور مرہم ہیں اور مرگ طاعون کی فضیات میں مرزا حسام الدین احمد کی طرف صادر فرمایا ہے۔

حمد وصلوٰۃ اور تبلیغ دعوات کے بعد واضح ہو کہ آپ کا صحیفہ شریفہ جو مصائب کی ماتم پرسی کے بارہ میں شیخ مصطفیٰ کے ہاتھ ارسال کیا تھا، اس کے مضمون سے مشرف ہوا۔ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنا اليه رَاجِعُون یہ مصیبتیں بظاہر جراحت نظر آتی ہیں مگر حقیقت میں ترقیات اور مرہم ہیں ۔ وہ (۱) ثمرات و نتائج جن کے ملنے کی امید و توقع آخرت میں ہے، ان نتائج و ثمرات کا سوال (۱۰۰) حصہ ہیں جو حق تعالیٰ کی عنایت سے اس جہان میں ان مصیبتوں پر مترتب ہوئی ہیں ۔ فرزندوں کا وجود عین رحمت ہے۔ زندگی میں بھی ان سے فائدے اور نفعے ہیں اور مرنے پر بھی ثمرات و نتائج
مترتب ہیں۔ امام اجل محی السنتہ (۲) حلیۃ الابرار میں لکھتے ہیں کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میں تین دن طاعون واقع ہوئی۔ اس طاعون میں حضرت انس کے تراسی (۸۳) بیٹے جو سب کے سب ہمارے پیغمبر علیہ الصلوۃ والسلام کے خادم تھے اور حضرت علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کے حق میں برکت کی دعا فرمائی تھی، سب فوت ہو گئے اور چالیس (۴۰) بیٹے حضرت عبدالرحمن بن ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فوت ہو گئے۔ جب حضرت خیر الانام علیہ السلام کے اصحاب کرام کے ساتھ ایسا معاملہ فرمائیں گے تو پھر ہم گنہگار کس حساب میں ہیں ۔ حدیث میں آیا ہے کہ طاعون نپہلی امتوں کے حق میں عذاب تھا اور اس امت کے لیے شہادت ہے۔

واقعی وہ لوگ جو اس وباء میں مرتے ہیں۔ عجب حضور و توجہ سے مرتے ہیں۔ ہوس آتی ہے کہ کوئی شخص ان دنوں میں اس بلا والے لوگوں کے ساتھ ملحق ہو جائے اور دنیا سے آخرت کی طرف کوچ کر جائے۔ یہ بلا اس امت میں بظاہر غضب ہے اور باطن میں رحمت ۔ میاں شیخ طاہر بیان کرتے تھے کہ لاہور میں طاعون کے دنوں میں ایک شخص نے خواب میں دیکھا تھا کہ فرشتے کہ رہے ہیں کہ جو کو ان دنوں میں نہ مرے گا حسرت اٹھائے گا۔ ہاں جب ان گزشتہ لوگوں کے حالات پر نظر کی جاتی ہے تو احوال غریبہ اور معاملات عجیبہ مشاہدہ میں آتے ہیں۔ شائد شہداء فی سبیل اللہ ان خصوصیتوں سے ممتاز ہیں ۔

میرے مخدوم فرزند عزیز قدس سرہ کی مفارقت بڑی بھاری مصیبت ہے۔ معلوم نہیں کہ کسی کو اس قسم کی مصیبت پہنچی ہو لیکن وہ صبر و شکر جو حق تعالیٰ نے اس مصیبت میں اس ضعیف القلب کو کرامت فرمایا ہے۔ بڑی اعلیٰ نعمت اور اعظم انعام ہے۔ یہ فقیر حق تعالیٰ سے سوال کرتا ہے کہ اس مصیبت کی جزاء آخرت پر موقوف رکھے اور دنیا میں اس کی جزا کچھ بھی ظاہر نہ ہو ۔ حالانکہ جانتا ہے کہ یہ سوال بھی سینہ کی تنگی کے باعث ہے ورنہ حق تعالی بڑی وسیع رحمت والا ہے۔ فلله الآخِرَةُ والأولى ( دنیا و آخرت اللہ ہی کے لیے ہے۔)


دوستوں سے التجا ہے کہ دعا کے ساتھ امداد و اعانت فرما ئیں کہ اللہ تعالیٰ خاتمہ سلامتی کے ساتھ کرے اور لغزشوں کو جو انسان کے لیے لازم ہیں، معاف فرمائے اور ان تقصیروں سے جو بشریت کے باعث صادر ہوتی ہیں ، درگزر کرے۔ رَبَّنَا اغْفِرْلَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِي أَمْرِنَا وَثَبَتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ (یا اللہ ہمارے گناہوں کو اور جو کچھ ہم سے کاموں میں اسراف ہوا ہے بخش اور ہمارے قدموں کو ثابت رکھ اور کافروں پر ہماری مدد کر ۔ ) وَالسَّلامُ عَلَيْكُمْ وَعَلَى سَائِرِ مَنِ اتَّبَعَ الْهُدى سلام ہو آپ پر اور ان لوگوں پر جنہوں نے
ہدایت اختیار کی ۔ )

نوٹس : ویب سائیٹ میں لفظی اغلاط موجود ہیں، جن کی تصیح کا کام جاری ہے۔ انشاء اللہ جلد ان اغلاط کو دور کر دیا جائے گا۔ سیدنا مجدد الف ثانی علیہ رحمہ کے مکتوبات شریف کو بہتر طریقے سے پڑھنے کے لئے کتاب کا مطالعہ ضرور کریں۔ جزاک اللہ خیرا