86

مکتوب 16: عروج و نزول وغیرہ کے احوال کے بیان میں۔


مکتوب (16)

عروج و نزول وغیرہ کے احوال کے بیان میں۔ اپنے پیر بزرگوار قدس سرہ کی خدمت میں لکھا ہے :-

طالب حقیر کی گزارش ہے کہ مولا نا علاؤ الدین نے حضور کا نوازش نامہ پہنچایا ہر ایک مقدمہ مذکورہ کے کشف میں وقت کے موافق مسودہ کیا گیا۔ ان علوم مذکورہ کے بعض متممات و مکملات بھی ول میں گزرے تھے لیکن ابھی ان کے لکھنے کی فرصت نہ ملی کہ حامل عریضہ ہذا روانہ ہو گیا۔ انشاء اللہ تعالی پیچھے خدمت اقدس میں بھیجا جاوے گا۔ اب ایک اور رسالہ جو صحیح و درست لکھا ہوا تھا بھیجا ہے اور یہ رسالہ بعض یاروں کی التماس سے لکھا گیا ہے۔ یاروں نے التماس کی تھی کہ ایسی نصیحتیں لکھی جاویں جو طریقت میں نفع دیں اور ان کے مواقف زندگی بسر کی جاوے۔ واقعی رسالہ بے نظیر اور بڑی برکتوں والا ہے۔ اس رسالہ کے لکھنے کے بعد ایسا معلوم ہوا کہ حضرت رسالت پناہ صلى الله عليه وسلم اپنی امت کے بہت سے مشائخ کیساتھ حاضر ہیں اور اسی رسالہ کو اپنے مبارک ہاتھ میں لئے ہوئے ہیں اور اپنے کمال کرم سے اس کو چومتے ہیں اور مشائخ کو دکھاتے اور فرماتے ہیں کہ اس قسم کے اعتقاد حاصل کرنے چاہئیں اور وہ لوگ جنہوں نے ان علوم سے سعادت حاصل کی ہے وہ نورانی اور ممتاز اور عزیز الوجود ہیں اور آنحضرت صلى الله عليه وسلم نے اس خاکسار کو اس واقع کو شائع کرنے کا حکم فرمایا ھے


برکر یہاں کا رہا دشوار نیست
ترجمہ
: کریموں پر نہیں مشکل کوئی کام


جس روز خاکسار حضور کی خدمت میں سے واپس آیا ہے۔ فوق کی طرف خواہش ہونے کے سبب مقام ارشاد کے ساتھ چنداں مناسبت نہیں رکھتا۔ کچھ مدت تک یہ ارادہ رہا کہ گوشہ نشین ہو جائے اور لوگ صحبت میں شیر ببر کی طرح نظر آتے رہے۔ گوشہ نشینی کا ارادہ پختہ ہو چکا تھا لیکن استخارہ اس کے موافق نہیں آتا تھا۔ قرب کے مدارج میں اگر چہ ان کی کوئی غایت اور انتہا نہیں ہے

انتہاء درجے تک عروج حاصل ہوا اور ہوتا ہے اور کبھی اوپر لے جاتے ہیں اور کبھی نیچے لے آتے ہیں ۔ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِی شَانٍ (غرض ہر دن ایک نئی شان اور نئی حالت میں ہے ) تمام مشائخ کے مقامات پر الا ما شاء اللہ عروج میسر ہوا۔


گلے بردند زیں دہلیزه پست
بدال درگاه والا دست بر دست برد

ترجمہ
: اڑا د ہلیز سے مٹی کو یک سر
گرایا بر در درگاه برتر


اس اثناء میں اگر مشائخ کے روحانیات کے توسط (واسطہ در واسطہ ہونے ) کو گنے لگو تو بات لمبی ہو جائے ۔ غرض تمام مقامات اصلی سے ظلی مقامات کی مانند گزر کرایا خدا کی عنایتوں کا کیا بیان ں کرے۔ قُبِلَ مَنْ قُبِلَ بِلا عِلَّة ( جو شخص قبول ہوا اسے بلا سبب و وسیلہ قبول ہوا ہے ) اس قدر ولایت اور ان کے کمالات ظاہر کئے کہ بندہ کیا عرض کرے۔


ماہ ذی الحجہ میں نزول کے درجوں میں مقام قلب تک نیچے لے آئے اور یہ مقام تکمیل و ارشاد کا مقام ہے لیکن ابھی اس مقام کے لئے تمام و کمال تک پہنچانے والی چیز میں درکار ہیں ۔ دیکھئے کب حاصل ہوتی ہیں ۔ یہ کام آسان نہیں ہے باوجود مرادمند ہونے کے اس قدرمنزلیں طے کرنی پڑتی ہیں کہ مریدوں کو عمر نو میں بھی ان کا طے کرنا میسر نہیں ہوتا۔ بلکہ اس قسم کے کمالات مرادمندوں ہی کے ساتھ مخصوص ہیں۔ مرید اس جگہ قدم نہیں رکھتے ۔ افراد کا نہایت عروج مقام اصل کی ابتداء تک ہے اس سے آگے افراد کو بھی گزر ہیں۔ ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیمِ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جس کو چاہتا ہے دیتا ہے۔ تکمیل وارشاد کے مراتب میں توقف کی وجہ یہی ہے اور نورانیت کا نہ ہونا ظلمت غیب کے نور ہیں ۔ ان پر اعتبار نہ کرنا چاہئے ۔


درنیا بد حال پخته و هیچ خام
پس سخن کو تاہ باید والسلام

ترجمہ: حامل کامل کا نہیں جانے ہے خام
پس مناسب مختصر ہی ہے کا کلام

اس قسم کی ظنی باتوں کے اندیشہ میں ضرر کا احتمال غالب ہے ان لوگوں کو فرمائیں کہ اس ختہ دل کے احوال سے اپنی خیالی نظر ڈھانپ لیں ۔ نظر کی مجال کیلئے اور بہت سے محل ہیں

۔ با گم شدگان سخن نگوئید
من گم شده ام مرام مجوئید


ترجمہ : میں ہوں گم مجھ کو نہ ڈھونڈو دوستو
میں ہوں تم مجھ سے نہ باتیں تم کرو!!


خداوند تعالیٰ کی غیرت سے ڈرنا چاہئے جس امر کو اللہ تعالیٰ کامل کرنا چاہتا ہے اس کے نقص اور عیب لگانے میں گفتگو کرنا مناسب ہے۔ در حقیقت خدائے تعالیٰ کے ساتھ مقابلہ ہے اور مقام قلب میں نزول ہونا حقیقت میں مقام فرق ہے جس کو مقام ارشاد کہتے ہیں اور اس مقام میں فرق سے مراد یہ ہے کہ نفس روح سے اور روح نفس سے جدا معلوم ہو ۔ بعد اس کے نفس روح کے نور میں داخل ہو ۔ جس کو جمع بولتے ہیں۔ جمع وفرق کی نسبت میں اس بیان سے زیادہ جو کچھ مفہوم ہوتا ہے وہ سکر کی وجہ سے ہے حق کو خلق سے جدا دیکھنا جس کو اہل سکر مقام فرق خیال کرتے ہیں کچھ حقیقت نہیں رکھتا وہ گویا صرف اسی روح ہی کو حق تعالیٰ جانتے ہیں اور روح کو نفس سے جدا دیکھنا خلق سے حق تعالیٰ کو جدا دیکھنا جانتے ہیں۔

اصحاب سکر کے اکثر علوم اسی قیاس پر ہیں، کیونکہ حقیقت امر وہاں مفقود ہے وَالامُرُ عِندَ اللهِ سُبْحَانَهُ ) اور اصل حقیقت کو خدا تعالیٰ ہی جانتا ہے )

کسی دوسرے رسالہ میں جذبہ اور سلوک والوں کے علوم اور ان دونوں مقام کی حقیقت مفصل طور پر لکھی گئی ہے۔ وہ رسالہ بھی عنقریب نظر مبارک میں گزرے گا۔

نوٹس : ویب سائیٹ میں لفظی اغلاط موجود ہیں، جن کی تصیح کا کام جاری ہے۔ انشاء اللہ جلد ان اغلاط کو دور کر دیا جائے گا۔ سیدنا مجدد الف ثانی علیہ رحمہ کے مکتوبات شریف کو بہتر طریقے سے پڑھنے کے لئے کتاب کا مطالعہ ضرور کریں۔ جزاک اللہ خیرا