86

مکتوب 11: فوق عرشی کے ظہور کی بعض خصوصیتوں اور آیت کریمہ الله نور السموات الارض کے تاویلی معنوں


مکتوب 11

فوق عرشی کے ظہور کی بعض خصوصیتوں اور آیت کریمہ الله نور السموات الارض کے تاویلی معنوں اور انسان کے بعض خاص کمالوں اور جزو ارضی کی فضیلتوں کے بیان میں حقائق و معارف آگاه مظہر فیض البی مجدالدین خواجہ محمد معصوم کی طرف صادر فرمایا ہے۔

نَحْمَدُهُ وَنُصَلَّى عَلَى نَبِيَّهِ وَتُسَلَّمُ عَلَيْهِ وَعَلَى الِهِ الْكِرَامِ (ہم اللہ تعالیٰ کی حمد کرتے ہیں اور اس کے نبی اور اس کی آل بزرگ پر صلوۃ و سلام بھیجتے ہیں ۔ )

عالم کبیر باوجود وسعت اور تفصیل کے چونکہ ہیئت وحدانی نہیں رکھتا۔ اس لیے بسیط حقیقی ( جو تمام نسبتوں اور اعتباروں سے مجرد اور شیون وصفات کی تفصیلوں سے معرا ہے ) کے ظہور کی قابلیت نہیں رکھتا۔ عالم کبیر کے اجزاء میں سے اشرف جز و حضرت رحمن کا عرش ہے جو حضرت ذات جامع صفات جل شانہ کے انوار کے ظہور کا مقام ہے۔ عرش مجید کے سوا باقی جو کچھ کہ عالم کبیر میں سے ہے۔ سب کے ظہورات ظلیت کی آمیزش سے خالی نہیں۔ اسی واسطے رب العالمین نے استواء کے سر کو عالم کبیر کے اجزاء میں سے عرش مجید کے ساتھ جو اس کی اجزاء میں سے افضل و اشرف ہے مخصوص کیا ہے کیونکہ ظلال میں سے کسی ظل کا ظہور در حقیقت حق تعالیٰ کا ظہور نہیں تا کہ استوا کی عبارت میں ادا کیا جائے۔ نیز وہ ظہور جو وہاں ہے ، دانگی ہے اور کوئی پردہ درمیان حائل نہیں ۔ اگر چہ زمین و آسمان کا نور اللہ تعالیٰ ہی ہے لیکن وہ نور ظلال کے پردوں سے ملا ہوا ہے اور ظلیت کے واسطہ کے بغیر ان میں ظہور نہیں فرمایا۔ یہ سب ظہورات ظہور عرشی کے انوار سے مقتبس ہیں جنہوں نے طلال میں سے کسی ظل کے پردہ میں پوشیدہ ہو کر ظہور فر مایا ہے جس طرح کہ دریائے محیط سے برتنوں کے ذریعے پانی ہر جگہ لے جائیں اور اس سے فائدہ اٹھا نہیں یا ایک بڑے مشعلسے چھوٹے چھوٹے چراغوں کو جلا کر اطراف واکناف کو ان چراغوں سے روشن کر لیں ۔ آیت کریمہ: اللهُ نُورُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ َمثَلُ نُورِهِ كَمِشْكُوةٍ فِيهَا مِصْبَاحُ ط الْمِصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ الزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرَىٰ يُوقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ زَيْتُونَةٍ لَا شَرْقِيَّةٍ وَلَا عَرَبِيَّةٍ يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِئُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ نُورٌ عَلَى نُورٍ ( الله تعالیٰ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ اس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے ایک چراغ دان ہو اور اس کے اندر چراغ ہو اور چراغ ایک شیشے میں ہو ۔ وہ شیشہ گویا ایک چمکدار ستارہ ہے جو زیتون کے مبارک درخت سے روشن کیا گیا ہو ۔ نہ شرقی ہو نہ غربی اور اس کا تیل آگ کے بغیر ہی روشنی دیتا ہو اور بہت روشن ہو ) میں انہی معارف کی طرف اشارہ ہے۔


کیونکہ آیت کریمہ میں تمثیل کو اسی واسطے اختیار کیا ہے تا کہ ان میں اس نور کے ظہور کو بلا واسطہ نہ سمجھ لیں اور کل کو اصل سے مشتبہ نہ کریں اور نور کل کو نور اصل سے مقبقس اور روشن شدہ خیال کریں ۔ يهدى اللهُ لِنُورِهِ مَنْ يَشَاءُ (اپنے نور کی طرف جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ ) آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کی مراد پر محمول ہے لیکن ہم اس کی تاویل کرتے ہیں جو ہم پر کشف ہوئی ہے جس کو ہم اللہ تعالیٰ کی مدد اور حسن توفیق سے بیان کرتے اور کہتے ہیں۔ اللہ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ اللہ تعالیٰ حجاب نہیں ہے۔ صفات کا ذات کے لیے حجاب ہونا ظہورات ظلیہ کے ساتھ مخصوص ہے کیونکہ ظہورات ظلیہ مرتبہ علم میں ہیں اور ظہور اصل مقام مین میں ۔ علم میں صفات ذات کا حجاب ہیں نہ مین میں ۔ مثلا زید کو جب تو مرتبہ علم میں تعقل و تصور کرے تو اس کا ظہور علم میں صفات کے ساتھ ہو گا یعنی دراز قد ہے یا پست قد ۔ عالم ہے یا جاہل ۔ چھوٹا ہے یا بڑا۔ شاعر ہے یا کا تب۔ یہ سب صفات جن کا تو نے تصور کیا، اس کی ذات کا حجاب ہوں گے اور یہ سب تقیدات کلیہ اس کے تشخص کے لیے مفید نہ ہوں گے لیکن جب زید علم سے مین میں آ جائے گا اور باوجود صفات کے مشہور ہو جائے گا اور معاملہ ظلیت سے اصالت تک پہنچ جائے گا کیونکہ زید کی علمی صورت زید موجود خارجی کے لیے جو اس کا اصل ہے، کل کی طرح ہے تو یہاں صفات اس کی ذات کا حجاب نہ ہوں گے ۔ صفات کا جامع اسی طرح مراتب ظلال اور تصورات مثال میں حق تعالیٰ کے صفات اس کی ذات سے جدا دکھائی دیتے ہیں لیکن جب اصل تک وصول میسر ہو جائے تو صفات کو ذات سے الگ نہ پائیں گے اور ذاتہ سفات کے شہود سے الگ نہ ہوگا۔ تجلی صفات کو جو تجلی ذات سے جدا کرتے ہیں اور تجلی افعال والک جانتے ہیں ، سب مقامات ظلال میں ہے۔ اصل تک وصول کے بعد ایک ہی تجلی ہے جو تجلیات ثلاثہ کو شامل ہے۔ مثلا زید کو جب دیکھتے ہیں تو اس کی ذات کا شہود اس کی صفات کے شہود سے جدا نہیں ۔ اسی وقت میں کہ جب زید کو دیکھتے ہیں۔ معلوم کرتے ہیں کہ عالم و فاضل ہے۔ علم و فضل جس طرح اس کی رویت کا حجاب نہیں ۔ اسی طرح اس سے جدا بھی نہیں ۔ ہاں اگر زید کو تصور کریں اور ظلی صورتوں میں اس کا ادراک کریں تو اس صورت میں صفات اس کی ذات سے الگ ہوں گی اور ذات کا حجاب بن جائیں گی جیسے کہ گزر چکا۔


کیا نہیں جانتے کہ آخرت میں مرکی وہ ذات ہے جو جامع صفات ہے۔ نہ وہ ذات جو اسماء وصفات سے معرا ہے کیونکہ وہ مجر داعتبار ہی اعتبار ہے۔ اس لیے کہ ذات ہرگز صفات سے مجرد نہیں اور صفات ذات سے ہرگز الگ نہیں ہیں۔ الگ اس اعتبار سے کہتے ہیں کہ عارف پر جب حق تعالی کی ذات کی گرفتاری غالب آجاتی ہے تو اس کی نظر سے اسماء وصفات کا ملاحظہ ساقط ہو جاتا ہے اور ذات احدیت کے سوا اس کے مشاہدہ میں کچھ نہیں آتا۔ پس ذات کا صفات سے الگ ہونا عارف کی نظر کے اعتبار سے ہے۔ (آسمانوں اور زمین کا نور ) نور وہ ہے جس سے چیزیں روشن ہوتی ہیں۔ آسمان اور زمین حق تعالیٰ کے ساتھ روشن ہوئے ہیں کیونکہ حق تعالیٰ ہی نے ان کو عدم کے اندھیرے سے نکالا ہے اور وجود اور اس کے توابع کے خلال کے ساتھ متصف کر کے منور کیا ہے۔ آسمانوں اور زمین کو جو اس نور سے روشن ہوئے ہیں، ہمشکوۃ کی طرح تصور کرنا چاہئے اور اس نور کو چراغ کی مانند جاننا چاہئے جو اس مشکوۃ میں رکھا ہوا ہے۔ مشکوۃ پر کاف تمثیل کا آنا مصباح پر مشکوۃ کے شامل ہونے کے لیے ہے اور زجاجہ سے اسماء وصفات کا پردہ ملاحظہ کرنا چاہئے کیونکہ وہ نورا سماء وصفات کے ساتھ ملا ہوا ہے اور شیون و اعتبارات سے معر انہیں اور حق تعالیٰ کی صفات کا زجاجہ حسن وجوب اور جمال قدم میں ستارہ روشن کی طرح ہے اور وہ مصباح جو اس مشکوۃ میں رکھا ہے، زیتون کے مبارک درخت سے روشن ہوا ہے جو عرش کے اس ظہور جامع سے مراد ہے جس ظہور کی رمزوں میں سے استوار ایک رمز ہے کیونکہ دوسرے ظہورات جو آسمانوں اور زمینوں سے تعلق رکھتے ہیں، اس ظہور جامع کے اجزاء کی طرح ہیں ۔ وہ ظہور جامع چونکہ لا مکانی اور بے جہت ہے ، اس واسطے اس کو لا شرقية لا غربية کہن سکتے ہیں ۔ يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِئُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نار میں اس مبارک درخت کی تعریف اور اس درخت کے تیل کی صفائی اور روشنی کا بیان ہے جس کے ساتھ اس کو تمثیل دی گئی ہے ۔ نُور علی نُورِ یعنی اس پردہ زجاجہ نے اپنی صفائی اور چمک دمک کے باعث اس نور کو زیادہ کر دیا ہے اور اس کے حسن و جمال کو بڑھا دیا ہے کیونکہ کمالات صفات کمالات ذات کے ساتھ جمع ہو گئے ہیں اور صفات کا حسن ذات کے حسن کے ساتھ مل گیا ہے۔ باوجود نور کی زیادتی اور کمال ظہور کے يَهْدِی اللَّهُ لِنُورِهِ مَنْ يَّشَآءُ (جس کو چاہتا ہے اللہ تعالیٰ اپنے نور کی طرف ہدایت دیتا ہے ) ہاں بیچ ہے ۔ مَنْ لَّمْ يَجْعَلِ اللَّهُ لَهُ نُورًا فَمَا لَهُ مِنْ نُورٍ (جس کو اللہ تعالیٰ نے نور نہیں دیا، اس کے لیے کوئی نور نہیں )


یہ ظہور جامع جو عرش سے منسوب ہے، تمام مشاہدات و معائنات و مکاشفات کا منتہی اور تمام تجلیات و ظہورات کا انتہاء ہے، خواہ تجمل ذاتی ہو اور خواہ تجلی صفاتی ۔ اس کے بعد معاملہ جہل کے ساتھ آپڑتا ہے۔ چنانچہ اس کا تھوڑا سا حال بیان کیا جائے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ
یہ ظہور جامع اگر چہ صفات کے ساتھ ملا ہوا ہے لیکن صفات اس مقام میں ذات کے نہ کہ خارج اور نفس الامر کے اعتبار سے جیسے کہ اس کی تحقیق انشاء اللہ تعالیٰ آگے آئے گی

نیز یہ ظہور جامع مثال کی تصویروں کا منتہی ہے بعد ازاں جو کمال ظاہر ہوتا ہے۔ مثال کے آئینہ میں اس کی تصویر نہیں پا سکتے کیونکہ مثال میں اس امر کی تصویر دکھاتے ہیں جو خارج کے ساتھ مناسبت و مشابہت رکھتا ہوا اگر چہ وہ مشابہت اسم میں ہو لیکن وہ امر جو خارج میں کسی چیز کے ساتھ کسی طرح مشابہت نہیں رکھتا، اس کی تصویر مثال میں محال ہے۔ اس سے اوپر کے کمالات سب اسی قسم کے ہیں کہ وہ کسی چیز کے ساتھ کسی طرح بھی مشابہ نہیں تا کہ مثال میں ان کی تصویر ظاہر کی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ اس مقام میں ہر وقت جہل دامن گیر ہے اور ادراک کا نہ ہونا ادراک کا نشان ہے۔ اگر چہ اس جہان میں اس مقام سے سوائے جہل با علم کے اور کوئی امر حاصل نہیں ہوا لیکن امید ہے کہ آخرت میں ایسی قوت بخشیں گے اور ایسا دل دیں گے جونور کی چمک میں متلاشی اور نا چیز نہ ہوگا اور معاملہ کی اصلیت سے آگاہ ہوگا۔ بیت


تو مرا دل دہ و دلیری یہ ہیں
رو به خویش خوان و شیری بیں

ترجمہ: دل مجھے دے کے پھر دلیری دیکھ
اپنی روبہ بنا کے شیری دیکھ


آگاہ ہو کہ فوق العرش کا ظہور تجھے وہم میں نہ ڈالے کہ حضرت حق سبحانہ و تعالیٰ کا مقام وقرار عرش کے اوپر ہے اور جہت و مکان اس کے لیے ثابت ہے۔ تَعَالَى اللَّهُ عَنْ ذَلِكَ وَعَمَّا لَا يَلِيقُ بِجَنَابِ قُدْسِهِ تَعَالَی اللہ تعالیٰ کی پاک جناب ایسی باتوں سے جو اس کے لائق نہیں ہیں، برتر اور بلند ہے)


آئینہ میں زید کی صورت کے ظاہر ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ زید آئینے میں ٹھہرا ہوا ہے ۔ ایسا ہم شاید کسی بے وقوف کو ہی ہو گا ۔ واللهِ الْمَثَلُ الْأَعْلَى ( اعلیٰ مثال اللہ ہی کے
لیے ہے۔)


مومن آخرت میں حق تعالیٰ کو بہشت میں دیکھیں گے۔ حالانکہ بہشت اور غیر بہشت سب اللہ تعالیٰ کے نزدیک برابر اور اسی کی مخلوق ہیں اور وہ بجلی جو کوہ طور پر واقع ہوئی تھی ، حالیت ومحلیت کی آمیزش سے پاک تھی۔ حاصل کلام یہ کہ بعض جگہیں ظہور کی قابلیت رکھتی ہیں اور بعض میں یہ قابلیت نہیں ہوتی۔ آئینہ صورتوں کے ظہور کی قابلیت رکھتا ہے اور گھوڑوں کی نعت میں یہ قابلیت نہیں ۔ حالانکہ یہ دونوں لوہے سے بنے ہیں۔ پس فرق مظہر میں ہے نہ ظاہر میں ۔ ظاہر یعنی ظہور کرنے والے کی نسبت سب مظہر برابر ہیں۔ قابل بھی اور نا قابل بھی اور ایسے ہی وہ الفاظ جن سے کلیت یا جزئیت اور حالیت و مشکلیت کا وہم پایا جاتا ہے۔ وہ ظاہر سے مصروف اور تاویل کے لائق ہیں ۔ ایسے الفاظ حق تعالیٰ کی بارگاہ کے مناسب نہیں۔ عبارت کی تنگی کے باعث اس قسم کے الفاظ کو اختیار کیا جاتا ہے۔


بیت
این قاعده یا ددار کانجا که خداست
نه جزو نه کل نه ظرف نه مظروف است

ترجمہ: یا درکھو جس جاوہ خداوندز میں ہے
ظرف و مظروف وکل و جز نہیں ہے

چونکہ قلب عالم صغیر کا عرش ہے اور عالم کبیر کے عرش کے مشابہ ہے۔ جہان کی تجلی میں ظلیت کی آمیزش نہیں۔ اس لیے اس ظلیت کی آمیزش سے خالی تجلی کا ایک لمحہ اس قلب کا حصہ ہے۔ اگر چہ آسمانوں اور زمین کو بھی اس بجلی کی چمک پہنچی ہے لیکن قلال میں سے کسی عمل کے پردہ میں ہے۔ سوائے قلب کے جو عرش کی طرح ظلیت کی ملاوٹ سے پاک ہے۔ اگر چہ ظہور چھوٹا بڑا ہونے کے اعتبار سے متفاوت ہے


بقدر آئینه حسن تو می نماید او
ترجمه
بقدر آئینہ پاتا ہے تیرا حسن ظہور


پس ظلیت کی آمیزش سے خالی تجلی عرش مجید کے بعد کاملین کے قلب کا حصہ ہے۔ دوسروں
کے لیے ظلیت دامن گیر ہے۔

جاننا چاہئے کہ ظہور عرشی اگر چہ ظلیت کی آمیزش سے پاک ہے لیکن وہاں صفات ذات کے رتبہ بھی ذات کا حجاب نہیں ہیں لیکن دید و دانش میں مشارکت اور محبت و گرفتاری میں برابر مشترک ہیں ۔ احدیت مجردہ کی محبت کے گرفتار کسی امر کی شرکت پر اضی نہیں ہیں۔ الا لِلَّهِ الدِّينُ الْخَالِصُ (دین خالص اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے) کے موافق دین خالص کو چاہتے ہیں ۔ صفات کا شریک نہ کرنا انسان کے قلب کی ہیئت وحدانی اور انسان کے جزاء ارضی کے نصیب ہے۔ ان سب سے بڑھ کر ایک اور انسان کی ہیئت وحدانی ہے جس نے اس کی جزاء ارضی کا رنگ اور اسی کا حکم اختیار کر لیا ہے۔


غرض اس معاملہ میں عمدہ اور بہتر جز ءارضی ہے۔ دوسرے امور زائدہ تحسین وخوبی کی طرح ہیں۔ انسان میں جو چیزیں ایسی ہیں جو عرش میں نہیں ہیں اور نہ ہی عالم کبیر کو ان کا کچھ حصہ ملا ہے۔ انسان میں ایک جزء ارضی ہے جو عرش میں نہیں اور دوسری ہیئت وحدانی ہے جو عالم کبیر میں نہیں اور وہ شعور جو ہیئت وجدانی سے تعلق رکھتا ہے۔ نور علی نور ہے جو عالم اصغر کے ساتھ مخصوص ہے۔ پس انسان ایک عجوبہ ہے جس نے خلافت کی لیاقت پیدا کر لی ہے اور بار امانت کو ٹھالیا ہے۔


انسان کی عجیب و غریب خصوصیتوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس کا معاملہ یہاں تک پہنچ جاتا ہے کہ حضرت احدیت مجردہ کے آئینہ بنے کی قابلیت پیدا کر لیتا ہے اور صفات وشیون کے ملنے کے بغیر ذات احد کا مظہر بن جاتا ہے۔ حالانکہ حضرت ذات تعالی ہر وقت صفات و شیونات کی جامع ہے اور صفات و شیونات کسی وقت بھی ذات تعالی سے الگ نہیں ہیں۔


اس کا بیان یہ ہے کہ جب انسان کامل ذات احدیت کے ماسوا کی گرفتاری سے آزاد ہو کر ذات احد سے گرفتاری حاصل کر لیتا ہے اور صفات و شیونات سے کچھ بھی اس کے ملحوظ اور منظور اور مقصود و مطلوب نہیں ہوتا تو المَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ کے موافق اس کو حضرت احدیت مجردہ کے ساتھ ایک قسم کا مجہول الکیفیت اتصال پیدا ہو جاتا ہے اور وہ گرفتاری جو ذات احد کے ساتھ اس کو حاصل ہوتی ہے، ذات بچون کے ساتھ قریب چون کی نسبت اس میں ثابت کر دیتی ہے۔ اس وقت انسان کامل ذات احد کا اس قسم کا آئینہ بن جاتا ہے کہ اس میں صفات وشیون کچھ مشہود اور مرئی نہیں ہوتیں بلکہ احدیت مجردہ اس میں ظاہر اور جلوہ گر ہوتی ہے۔ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمُ وہ ذات جو صفات سے ہرگز جدا نہ تھی ، اس انسان کامل کے آئینہ میں مجرد اور تنہا طور پر ظاہر اور تجلی ہو گئی اور حسن ذاتی فاتی سے الگ ہو گیا۔ اس قسم کا آئینہ اور مظہر بنا انسان کامل کے سوا کسی اور کو میسر نہیں ہوا اور حضرت ذات صفات و شیون کی آمیزش کے بغیر انسان کے سوا اور کسی چیز میں جلوہ گر نہیں ہوئی۔ عالم کبیر میں عرش مجید حضرت ذات متجمع الصفات کا مظہر ہے اور عالم صغیر میں انسان کامل ذات احد کا مظہر ہے۔ جو اعتبارات سے مجرد ہے۔ اس قسم کا آئینہ اور مظہر بننا انسان کی نہایت مجو بہ باتوں میں سے ہے ۔ وَاللهُ سُبْحَانَهُ الْمُعْطى لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَاهُ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعَهُ (اللہ تعالٰی عطا کرنے والا ہے جس کو وہ جو کچھ عطا کرے، اس کو کوئی روک نہیں سکتا اور جس سے وہ روک لے اس کو کوئی دے نہیں سکتا ۔ ) وَالسَّلامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى وَالْتَزَمـ مُتَابَعَةَ الْمُصْطَفَى عَلَيْهِ وَعَلَى الِهِ وَاَصْحَابِهِ الصَّلَوَاتُ وَالتَّحِيَّاتُ الْعُلَى (سلام ہو اس شخص پر جس نے ہدایت اختیار کی اور حضرت محمد مصطفی صلى الله عليه وسلم کی متابعت کو لازم پکڑا۔ )

نوٹس : ویب سائیٹ میں لفظی اغلاط موجود ہیں، جن کی تصیح کا کام جاری ہے۔ انشاء اللہ جلد ان اغلاط کو دور کر دیا جائے گا۔ سیدنا مجدد الف ثانی علیہ رحمہ کے مکتوبات شریف کو بہتر طریقے سے پڑھنے کے لئے کتاب کا مطالعہ ضرور کریں۔ جزاک اللہ خیرا