160

مکاشفات عینیہ


مکا شفات عینیہ
مکاشفہ :نمبر1
خواجگان نقشبندیہ کا طریقہ :
یہ حضرات خواجگان قدس اللہ تعالی اسراھم کے طریقہ عالیہ کا بیان ہے، تمہیں معلوم ہو کہ ان لوگوں کی توجہ ایک خاص توجہ ہے کہ اس جہت میں استہلاک (گمشدگی)اور اضمحلال(کمزوری) کے قبول کرنے کو جذبہ (انسان کا فطری میلان)کہتے ہیں اور یہ جذبہ ان کی بلندی مرتبت کی وجہ سے دوسرے جذبات سے کوئی مناسبت نہیں رکھتا اور اس کے رخ کو نقطہ دائرہ غیب کے ساتھ مثلا پوری مناسبت ہے جو کہ نقطہ نہایت النہایت (آخری مقام)اور قابلیت جامعہ (مجموعی استعداد)کا منشا تعین(تجلی کا سبب) جس سے تعین محمدی ﷺ مراد ہے، مناسبت رکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس مضبوط طریقہ کےا کابر کو سیر فی اللہ کی تحصیل کے بعد بے انتہا تر قیات حاصل ہوتی ہیں اور کبھی ان کی تشنگی ظاہر نہیں ہوتی ہے اور اس نقطہ میں فانی اور مستہلک(فنا) ہو جاتے ہیں بلکہ اپنی استعداد کے مطابق اس جگہ میں بقا پیدا کرتے ہیں اور اس نقطہ تک پہنچنا ولایت محمدیﷺ کے ساتھ مخصوص ہے اور اسی نقطہ میں باقی رہنا دعوت عام اور پورے تفاوت(فرق) کا منشا ہے ، اس کے کاملین ورثا کا اس مقام کے فنا و بقا میں حصہ بطریق متابعت ہے، بخلاف ارباب سلوک کے کہ ان کا سلوک جذ بہ پر مقدم ہے یا اس جذبہ کے علاوہ کوئی دوسرا جذبہ ان کے سلوک پر مقدم ہے کہ جب یہ سلوک کو چاہتے ہیں اور واصل ہو جاتے ہیں تو ایک قسم کی ٹھنڈک اور خستگی ان میں پیدا ہوتی ہے جو استعلا ء (بلندی)سے باز رکھتی ہے، اس لیے حضرت امیر ( علی رضی اللہ عنہ) سلوک کے تمام ہونے اور فنا و بقا کے حصول کے بعد اس گھر سے نکل کر معیت ذاتیہ کی راہ سے نقطہ نہایت تک پہنچے ہیں، اگر چہ ان کے سالک مجذوب مجذوب سالکوں سے حرارت اور سوزش زیادہ رکھتے ہیں لیکن اس طریقہ سے سالک مجذوبوں کے مرتبے کو نہیں پہنچتے ، اس لیے کہ مناسبت مرکز یہ اس جذبہ کے ساتھ مخصوص ہے ، اس لیے دوسرے سلسلوں کے بعض منتہی فنا و بقا کے بعد اس گھر سے کہ اس کا انجام بےصفتی اور بے رنگی ہے، باہر نکلتے ہیں اور بعض خانہ غیب افراد میں جا کر ترقی کرتے ہیں اور جو محبت کہ اس مقام کے ساتھ مخصوص ہے اس سے توسل کرتے ہیں اور کچھ دوسرے لوگ اس جگہ سے باہر نکل کر سماع اور نغمہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اس کی ترغیب و تحریص میں ترقیات کرتے ہیں، بخلاف اس طریقہ کے والوں کے کہ یہ صرف جذ بہ الہی سے ترقی کرتے ہیں، اس لیے کہ صفت اور رنگ ان میں نہیں رہتے کہ اس کی وجہ سے ترقی کر سکیں ، جذبے کی طلب کشاں کشاں لے جاتی ہے۔ نیز یہ جذ بہ نقطہ نہایت النہایت (آخری مقام)سے پوری مناسبت رکھتا ہے ، جیسا کہ گزر چکا ہے؟ اس سلسلہ کے بعض اکا بر اسی مقام میں اس مقام کے نور سے منور اور رنگین ہو گئے ہیں اور جو کچھ اس نہایت میں حاصل ہوتا ہے انہیں اس گھر میں میسر ہو گیا ہے ، حضرت قطب المحققین ناصر الدین خواجہ عبید اللہ جو خواجہ احرار ہی کے نام سے مشہور ہیں، اس جذبہ کے مقام میں نہایت کے نور سے مشرف ہوئے ہیں جیسا کہ ان کے احوال شریفہ میں اس کا کچھ بیان کیا جائے گا ، اس طرح اس سلسلہ کے بعض اکابر سلوک کو تمام کر کے ولایت و شہادت اور صدیقیت کے درجات تک پہنچے ہیں، اگر اس نقطہ تک نہیں پہنچے ہیں لیکن اس کے نور نے ان کے دلوں کو منور کر دیا ہے اور مشاہدہ افادت (علمی نکات)تمام ہو گیا ہے ، پھر جذبہ کی اس دولت کے حاصل کرنے کے بعد سلوک اختیار کرتے ہیں اور اس معنی کے حصول کو اس توجہ کے ممد ومعادن بنا کر مسافت بعیدہ کو تھوڑی مدت میں طے کرتے ہیں اور کعبہ مقصود تک پہنچتے ہیں ۔ ان حضرات کا یہ طریقہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب ہے، یہاں ایک نکتہ جان لینا چاہیے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ہی کا جذبہ سلوک کی تحصیل کے بعد جو فوقانی(اوپر) ہے اور حضرت امیر علی کرم اللہ وجہہ کی طرف منسوب ہے اور اس عبارت میں (انہوں نے) اسے بیان فرمایا ہے کہ ” تم مجھ سے آسمان کے راستے دریافت کرو ، کیونکہ میں آسمان کے راستے اس سے زیادہ جانتا ہوں جتنا کہ تم زمین کے راستوں سے واقف ہو” اور یہ سلوک سیر آفاقی کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور وہ سلوک جو سیر انفسی سے ہے وہ اس طرح ہے گویا جذبہ کے گھر میں نقب لگا کر ذات غیب تک پہنچا دیا ہے اور اس راہ سے گئے ہیں اور حضرت رسالت ﷺ بھی اس راہ سے نہایت تک پہنچتے ہیں اور سلوک فوقانی جو سیر آفاقی سے تعلق رکھتا ہے اگر چہ آنحضرت محمد مصطفے ﷺکی مشکوۃ نبوت سے ماخوذ ہے لیکن حضرت امیر علی کرم اللہ وجہہ کے ساتھ مخصوص ہے، باقی تین خلفا دوسری راہوں سے غیب تک گئے ہیں ، حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کا مسلک معلوم ہو گیا ، حضرت فاروق رضی اللہ عنہ کا مسلک جدا ہے ، اسی طرح حضرت عثمان ذی النورین رضی اللہ عنہ کا مسلک بھی الگ ہے اور سالکوں کا ان چاروں مسلکوں پر سلوک واقع ہوا ہے اور یہ سلوک اپنے امیر کے مسلک کے مطابق مشہور ہے اور اکثر سلاسل اس مسلک کے ذریعہ مقصود کی طرف متوجہ ہیں ، اسی طرح حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا مسلک دوسرے سلسلوں کے اعتبار سے خواجگان کے سلسلہ کے ساتھ مخصوص ہے، لیکن مشائخ کبار اس سلسلہ کے علاوہ دوسرے سلسلوں سے بھی اسی مسلک پر چل کر مقصود تک پہنچے ہیں اور چونکہ اس مسلک پر چلنا پوشیدگی اور خفا کی وجہ سے کچھ دشوار تھا، چنانچہ مولوی جامی نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے ۔
نقشبندیہ عجب قافلہ سالار ہیں، جو باطنی راہ سے لے جائیں حرم قافلہ کو
اور حضرت امیر علی کرم اللہ وجہہ کا مسلک ظاہر تھا اس لیے حضرت امیر علی کرم اللہ وجہہ کا مسلک مشہور ہو گیا، اسی طرح حضرت فاروق رضی اللہ عنہ ہے اور حضرت ذی النور ین رضی اللہ عنہ کے مسالک مخفی تھے۔ اور ان پر چلنا دشوار تھا، اس لیے مشائخ نے اس طریقہ کو اختیار کیا، اور چونکہ حضرت امیر علی کرم اللہ وجہہ متاخر تھے اور ان کے مسلک نے شہرت پائی اس لیے مجبور اس کو ہاتھوں سے پکڑا ہے اور کوتاہ فہم لوگ تسلیک (سلوک )و تکمیل کو حضرت امیر علی کرم اللہ وجہہ کے ساتھ مخصوص جانتے ہیں اور خلفائے ثلاثہ کو کامل غیر مکمل خیال کرتے ہیں ، ان کی جرات پر فریاد ہے ، چونکہ ان کا سلوک حضرت امیر علی کرم اللہ وجہہ کے مسلک پر واقع ہوا ہے اس لیے اس کے ماسوی کی نفی کر کے فعل شنیع (برا)کے مرتکب ہوتے ہیں ۔
جو کیڑا ایک پتھر میں نہاں ہے وہی اس کا زمین و آسماں ہے
اس حقیر نے بعض اکابر کو دیکھا ہے کہ انہوں نے حضرت فاروق رضی اللہ عنہ کےمسلک میں سلوک کیا ہے اور حضرت غوث الثقلین یا اس مسلک کے ذریعہ غیب ذات تک واصل ہوئے ہیں اور حضرت امیر علی کرم اللہ وجہہ کے مسلک میں فناوبقاسے زیادہ نہیں چلے ہیں ، جو کہ ولایت میں ابتدائی قدم ہے اور حضرت شیخ ابو سعید خراز قدس سرہ بھی حضرت فاروق رضی اللہ عنہ کے مسلک پر چلے ہیں ،شاید ان لوگوں نے یہ نہیں سنا ہے کہ حضرت پیغمبر ﷺ نے فرمایا ہے کہ اگر میرے بعد نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتے اگر تکمیل وافادہ ان میں نہ ہوتا تو مقام نبوت سے کیا مناسبت رکھتے ، کو تاہ فہم لوگوں میں سے نہ ہو جاؤ حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد یہ نسبت حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو پہنچی اور اندرونی راہ سے مقصود تک پہنچے، ان کے بعد یہ نسبت بعینہ حضرت قاسم بن محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو پہنچی ، ان کے بعد یہ نسبت حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کو حضرت قاسم رضی اللہ عنہ سے پہنچی جو کہ ان کے نانا تھے اور حضرت امام نے یہ جو فرمایا ہے کہ : ” ابو بکر نے مجھ کو دو بار جنا تو اس سے اشارہ ان ہی دو ولایتوں کی طرف ہے، کہ ملکوت السموت والارض میں وہ شخص داخل نہیں ہو سکتا جو کہ دو بار نہ پیدا ہوا ہولیکن چونکہ حضرت امام نے اپنے آبائے کرام سے بھی نور حاصل کیا تھا اور وہ سلوک فوقانی سے نسبت رکھتا تھا اس لیے جذب کی تحصیل کے بعد سلوک فوقانی کے ذریعے مقصود تک پہنچے اور دونوں نسبتوں کے جامع ہوئے ، ان کے بعد یہ نسبت حضرت امام سے ودیعت کے طریقہ پر سلطان العارفین با یزید بسطامی کی کو روحانیت کے راستے سے پہنچی جو ولیوں کے طریقے میں ہے، گویا ودیعت کے اس نور کو ان کی پشت پر امانت کے طور پر رکھا ہے تا کہ اس کے اہل تک پہنچا دیں اور سلطان کی توجہ کا رخ دوسری جانب ہے اور اس امانت کو اٹھانے سے پہلے اس نسبت کے ساتھ تعلق نہیں سمجھا جاتا ہے، ان کے بعد یہ نسبت بعینہ مذکورہ بالا طریقے پر سلطان سے شیخ خرقان قدس سرہ تک پہنچی اور ان سے شیخ ابوعلی فارمدی قدس سرہ تک اور ان سے حضرت خواجہ یوسف قدس سرہ تک پہنچی ، یہ نسبت اس نسبت کے اہل اعلیٰ حضرت خواجہ عبد الخالق غجد وانی قدس سرہ کو پہنچی جو کہ حلقہ خواجگان کے سردار ہیں اور اس محل میں یہ نسبت جذبہ وسلوک آفاقی کی راہ سے جو کہ حضرت امام کا خاصہ ہے ظہور میں آئی اور سیر سے تازگی پائی ، وہ اس راہ سے ترقی کر کے صد بقیت کے مقام تک پہنچے اور کمال و تکمیل میں بلند درجہ رکھتے تھے، نیز روسائے اقطاب میں سے تھے اور حضرت خواجہ نے نہایت کو ” “یادداشت” سے تعبیر فرمایا ہے : ” یادداشت” کے معنی تفصیل کے ساتھ انشاء اللہ اس رسالہ میں تحریر ہوں گے ، حضرت خواجہ کے بعد حضرت خواجہ نقشبند تک اس سلسلہ کے مشائخ جذ بہ سے غیب تک سیر انفسی کے اندرونی راستے سے متوجہ ہو سکے اور اپنی استعداد کے مطابق حصہ پایا، جب حضرت خواجہ نقشبند کے ظہورکا زمانہ آیا، ، حضرت خواجہ نے ان کو روحانیت کی راہ سے تربیت فرمائی اور بعینہ وہ نسبت جذب وسلوک کے اعتبار سے ان تک پہنچی اور تمام و کمال پایا اور ان کے خلفا سے خواجہ علاؤ الدین عطار اور خواجہ محمد پارسا قدس اللہ اسرارھم اس نسبت کو حاصل کر کے ان کی تربیت سے مشرف ہوئے اور حضرت خواجہ علاؤ الدین ولایت و شہادت اور صدیقیت کی نسبت کی تحقیق کے باوجود معیت ذاتیہ کی راہ سے غیب ذات تک گئے ہیں ، نقطہ نہایت تک پہنچے ہیں اور وہاں بقا پیدا کی ہے اور اس بقا کی وجہ سے قطب ارشاد ہو گئے ہیں، اس لیے کہ قطبیت ارشاد بلکہ قطبیت مدار اس نقطہ تک پہنچنے پر موقوف ہے، جب تک اس مقام میں فنا و بقا نہ کریں اس قطبیت کے مقام تک نہیں پہنچتے ہیں اور حضرت خواجہ نے اس مقصد تک پہنچنے کے لیے ایک طریقہ وضع کیا ہے اور ان کے خلفا نے اس طریقہ کی اس عبارت سے تعبیر کی ہے کہ سب سے قریب ترین طریقہ علاؤ الدین کا طریقہ ہے اور یقینا یہ طریقہ سب سے قریب ترین طریقہ ہے، نہایت النہایت (آخری مقام)تک پہنچنے کے لیے اولیا ءعظام میں سے بہت کم لوگوں نے اس دولت تک راہ پائی ہے، کیا ہی بلند مقام ہے اس شخص کا جس نے اس بلند مقصد کے حصول کے لیے طریقہ وضع کیا ہو، حضرت خواجہ محمد پارسا اور حضرت خواجہ محمد یعقوب نے حضرت خواجہ علاؤ الدین کی صحبت میں اس طریقے سے بھی سیرابی حاصل کی اور ان کے والد بزرگوار خواجہ حسن عطار اور دوسرے خلفا بھی اس راہ پر چلے ہیں اور سالکوں کو بھی اسی راہ پر چلاتے تھے اور حضرت خواجہ احرار نے مولانا خواجہ یعقوب چرخی سے اسی طریقہ سے حصہ حاصل کیا ہے، آج تک ان کے خلفا اس طریقہ کی برکت سے بہرہ ور ہیں اور جو نورکہ اس راہ میں ان تک پہنچا ہے اس سے طالبوں کو فائدہ پہنچاتے ہیں اور حضرت مولانا یعقوب چرخی جذبہ سے غیبت کی طرف مذکورہ راہ انفسی کے ذریعہ متوجہ ہیں ، پس معلوم ہوا کہ حضرات خواجگان کا جذبہ دو قسم کا ہے، ایک وہ جذبہ جس کی شرح رسالہ کی ابتدا میں گزری اور دوسرا جذبہ معیت کی راہ سے ہے اور اس خاص جذ بہ کی راہ سے سالکوں کو چلانا حضرت علاؤ الدین عطار ہی کا خاصہ ہے ، اگرچہ بعض اکابر اولیا اسی راہ سے گزرے ہیں لیکن کوئی طریقہ وضع نہیں کیا ہے، طریقہ کا وضع کرنا اور اس راہ پر چلانا ان کے کمال و تکمیل اور مسند ارشاد پر غلبہ اقتدار کی سب سے پہلی دلیل ہے ، حضرت خواجہ محمد پارسا سے منقول ہے کہ میں تمام مخلوق کو مقصود حقیقی تک پہنچا سکتا ہوں لیکن حضرت خواجہ محمد پارسا کے ان تمام کمالات کے باوجود حضرت خواجہ بزرگ نے ان کو حضرت خواجہ علاؤ الدین کی متابعت کا حکم فرمایا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ حضرت خواجہ عطار اس سلسلہ میں بہت زیادہ برکت والے ہیں ، آج تک اس طریقہ کے تمام لوگ خواہ عطاریہ ہوں یا احرار یہ سب کے سب ان کی ہدایت کی روشنی سے ہدایت پانے والے ہیں اور ان کا وضع کردہ طریقہ سالک کے لیے اگر افادہ کے نور سے ہے تو ان کے لیے اس راہ سے ہے اور حضرت رسالت ماب ﷺنے اس معیت کی راہ سے خلائق کی ہدایت کے لیے عالم کی طرف رجوع فرمایا، اور حضرت صدیق و فاروق رضی اللہ عنہمابھی اسی راہ سے نیچے اترے، پس جذبہ کے ان دو مقامات کی بزرگی معلوم ہوگئی ، اس لیے کہ سرور دو جہاں ﷺ کے عروج کی راه جذ بہ اول ہے اور نزول کی راہ جذبہ ثانی ہے۔
مکاشفہ: نمبر2
بعض بزرگان دین کے مقامات:
سید المحققین ، ناصر الدین حضرت خواجہ عبید اللہ نے ان بزرگواروں کے جذبہ کے مقام میں بڑی شان کے مالک تھے اور وہاں سے پورے استہلاک کے بعد بقائے خاص پیدا کیا تھا اور اس بقا کی وجہ سے نور فوقانی جو کہ نہایت النہایت (آخری مقام)کے نقطہ سے پہنچا تھا، جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے، کثرت میں وحدت کو اس طور پر دیکھنے والے تھے کہ گویا کوئی پردہ کثرت درمیان میں نہیں رہ گیا تھا اور سلوک آفاقی کو بھی اسی اسم تک جو ان کا مبدا تعین تھا پہنچایا تھا لیکن اس اسم میں فانی نہ ہوئے تھے بلکہ اس کے بعد اسی جذبہ میں گزشتہ استہلاک (گمشدگی)کے علاوہ ایک قسم کا استہلاک پیدا کیا تھا اور اس سلوک کے پورا کرنے پر خاص استہلاک کے ساتھ جو کہ جذبہ میں پیدا کیا تھا خاص القا کے ذریعہ نور فوقانی کی زیادتی کے ساتھ اس کی استعداد ر کھنے والے کی تربیت کرتے تھے اور حق تعالی کے ماسوی کی گرفتاری کی تنگی سے نجات دیتے تھے، نیز معیت ذاتیہ کی جہت کہ حضرت ذی النورین اور حضرت امیر رضی اللہ عنہما اس طریقہ سے نہایت النہایت (آخری مقام)تک پہنچے ہیں، حضرت خواجہ کو اس سے وافر حصہ اور پورا نصیب حاصل ہوا ہے اور اس راہ سے بھی غیب ذات کے ساتھ ایک مناسبت رکھتے ہیں باوجود اس کمال وتکمیل کے بارہ اقطاب سے بھی پورا حصہ رکھتے تھے اور یہ غیب میں ایک ایسا مقام ہے کہ بے نسبتی کے ساتھ بہت زیادہ مناسبت رکھتا ہے اور محبت ذاتی کی ایک خاص قسم بھی اس مقام کے لیے لازم ہے ، دین کا رائج کرنا اور احکام شریعت کا جاری کرنا اس مقام سے تعلق رکھتا ہے اور حضرت امام اعظم کوفی اس مقام کے روسائے اقطاب میں سے تھے اور حضرت خواجہ اگر چہ اس مقام کے اقطاب میں سے نہ تھے لیکن اس مقام سے کافی حصہ رکھتے تھے، دین کی نصرت اور ملت کی ترویج ان میں اس مقام کے ثمرات میں سے تھی ، اس لیے ان کو ناصرالدین کہتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ ان کے آبائے کرام سے جو کہ ان کے والد کی جانب سے تھے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ ایک نسبت حاصل کی تھی ، غرض اس بزرگ خاندان کے شرف کی وجہ سے اس نادر سلسلہ کا چراغ روشن ہے، اللہ تعالیٰ ان سب کو ہماری طرف سے بہترین جزا دے، ہم گرفتاروں کو عبادت کی تاریکی اور گمراہی کی حیرانی سے ان بزرگوں کی ہدایت کے انوار نے باہر نکالا ہے اور مقصود کی راہ دکھائی ہے، اگر ان کی ہدایت نہ ہوتی تو ہم ہلاک ہو جاتے اور اگر ان کی مدد نہ ہوتی تو ہم قلعہ بند ہو جاتے ، یا اللہ تو ہمیں ان کی محبت پر ثابت قدم رکھ اور اپنے حبیب اکرم حضرت محمد مصطفے ﷺ کی حرمت میں ان بزرگوں کی متابعت پر استقامت نصیب فرما۔
مکاشفہ: نمبر3
حضرت خواجہ محمد پارسا نقشبندی:
حضرت خواجہ محمد پارسا حضرت خواجہ نقشبندکے جلیل القدر اصحاب میں سے تھے اور جذ بہ وسلوک کے ساتھ راہ طے کی تھی، فنافی اللہ اور بقا باللہ کی حقیقت تک پہنچے ہوئے تھے اور ولایت و شہادت کے درجات تک عروج کیا ہے، حضرت خواجہ نقشبند ہی نے فرمایا ہے کہ میں نے اس کو جذ بہ دسلوک کے دونوں طریقوں کی تربیت دی ہے اور ان کے بارے میں فرمایا ہے کہ ہمارے پاس جو کچھ تھا یہ ہم سے لے گیا’ اس کے ساتھ ساتھ فردیت کی نسبت مولانا عارف کی خدمت سے حاصل کی ہے اور فردیت کی راہ سے غیب ہویت تک اتصال پیدا کیا تھا، اس ہر دو نسبت کا غلبہ جو کہ عالم کے ساتھ بے مناسبتی ہے ان کی تکمیل وارشاد کے لیے مانع تھاور نہ تکمیل کا مقام ان کے لیے پورے طور پر تھا۔
مکاشفہ: نمبر4
حضرت خواجہ نقشبند بخاری :
حضرت خواجہ نقشبند نے حضرات خواجگان کے جذبہ کی تحصیل کے بعد سلوک فوقانی کی طرف رجوع کیا اور سلوک کو انتہا تک پہنچایا اور فنافی اللہ اور بقا باللہ کے ساتھ مشرف ہوئے اور یہ ولایت کا مرتبہ ہے، اس کے بعد شہادت کے مقام پر پہنچے جو کہ ولایت سے اوپر ہے اور اس کو مقام ولایت سے وہی نسبت ہے جو تجلی صوری کو تجلی ذاتی سے ہے، اس کے بعد صدیقیت کے مقام پر پہنچے، کمال و تکمیل کے ان درجات کی تحصیل کے باوجود معیت ذاتی کی راہ سے غیب ہو یت ذاتیہ تک پہنچے جس راہ سے حضرت امیر پہنچے تھے اور وہ حضرت امیر کے رنگ میں اس نقطہ نہایت میں مستہلک ہو گئے ہیں اور حضرت غوث الثقلین بھی اس سے ولایت خاصہ محمدی کی نہایت پر ہیں ،اگر اس نہایت میں بقا پیدا کر کے آنحضرت ﷺ کے مرتبے سے بھی حصہ پائے تو ان اکابر کے لیے اس مقام سے بقا کی ایک قسم ہے کہ طالبوں کو اس راہ سے فائدہ پہنچاتے ہیں۔
مکاشفہ: نمبر5
حضرت خواجہ باقی باللہ دہلوی:
آج کل ان حضرات علیہ اور اکا بر نقشبندیہ کے قائم مقام ہمارے شیخ و مولانا شیخ اجل اور عارف کامل و اکمل محمد باقی باللہ (اللہ ان کو باقی اور محفوظ رکھے ) ہیں، جو کہ نہایت النہایت تک اور انتہائے درجہ ولایت تک پہنچے ہوئے ہیں ، قطب دائرہ ولایت ، مدار خلائق ، کاشف اسرار، اہل حق محبت ذاتیہ میں کامل ، محقق ، کمالات ولایت محمدیہ کے جامع ، مسند اہل ارشاد و ہدایت ، درج نہایۃ فی البدایۃ کے طریق کے مرشد، زبدۃ العارفین ، قدوۃ المحققین ہیں ،مثنوی
حیف گرہو اہل دنیا پر عیاں چاہیے ہو راز عشق از بس نہاں
کہہ رہا ہوں ، تاکہ لوگ اس پر چلیں اور مبادا ، فوت پر حسرت کریں
شیخنا و مولانا، شیخ اجل ، عارف کامل، اکمل محمد باقی اللہ (اللہ ان کو باقی اور سلامت رکھے )ابتدائے حال میں شیخ ظاہر کی تعلیم کے بغیر خواجگان کے حضور میں مشرف ہوئے اور جذبہ کے مقام پر پہنچے اور وہاں استہلاک اور اضمحلال حاصل کیا اور ان کا باطن نہایت النہایت کے اس نور سے معمور اور منور ہو گیا جس کے ساتھ قطبیت ارشاد کا مقام متعلق ہے، چنانچہ شیخ ظاہر کی اجازت کے بغیر اس موقوف علیہ نور کے ساتھ طالبوں کو کثرت میں وحدت شہود کی تربیت فرمائی اور ارشاد و تکمیل کے مقام میں ایک بڑا مرتبہ پیدا کیا اور ان کی ایک ہی صحبت میں طالبوں کو جس قدر فوائد حاصل ہوتے تھے ، اس قدر ریاضات و مجاہدات شاقہ سے بھی حاصل نہ ہوتے تھے، اس کے باوجود بارہ اقطاب کے مقامات سے بھی پورا حصہ حاصل کیا تھا ، نیز حضرت فاروق رضی اللہ عنہ کے خاص مسلک پر فوق کی طرف متوجہ ہو گئے تھے اور سلوک آفاقی کو بھی اعیان ثابتہ تک طے کیا تھا ، اسی دوران میں عنایت خدا وندی پہنچی اور سلوک آفاقی کی راہ ان پر کھول دی اور اس راہ میں اس اسم کی طرف متوجہ ہوئے جو ان کا مربی ہے اور وہاں تک پہنچ کر ولایت و شہادت اور صدیقیت کے درجات تک ترقی کی اور اس راہ سے غیب ذات تک گئے اور نہایت النہایت کے نقطہ میں مستہلک ہو گئے اور اس شہادت عظمی سے مشرف ہوئے جس کے متعلق حضرت امیر رضی اللہ عنہ نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے حق میں فرمایا کہ یہ میرا بیٹا سردار ہے حضرت امام اسی نقطہ میں اس سبب سے استہلاک رکھتے ہیں اور اسی نقطہ میں ایک قسم کی بقا اس جگہ میں جو کہ قطب مدار کی بقا کے مناسب ہے اور حضرت خواجہ نقشبند و ہاں بقا کی بھی ایک قسم رکھتے ہیں، پیدا کرنا چاہتے ہیں اور اس راہ سے غیب ذات تک پہنچے کہ اولیا میں سے کم لوگ پہنچے ہیں ، اس بلند مقصد تک پہنچنے کی اصل بعض اکابر الاکابر کے ساتھ مخصوص ہے ، خصوصاً جب تک محبوب نہ ہوں اس راہ سے غیب تک نہیں جاسکتے ہیں، کامل اور مکمل محبوب کے تصرف تک پہنچنے کی بغیر ان دو طریقوں پر چلنے کی کوئی صورت نہیں ہے اور افراد کی راہ سے اس مطلب تک معیت کی راہ سے پہنچتے ہیں لیکن سلوک کی راہ سے ترقی کر کے نہایت تک پہنچنا بہت دشوار بلکہ محال معلوم ہوتا ہے، الا یہ کہ محبوب مراد جذ بات قویہ کے ذریعے اس کو کھینچیں اور مقصود تک پہنچا ئیں،عیش والوں کو ان کا عیش مبارک ہو۔
مکاشفہ: نمبر6
ذات باری تعالی کا عرفان :
حق سبحانہ کی ذات صفات کے اعتبارات سے کافی بلکہ نفس صفات سےمستغنی ہے یعنی جو کچھ صفات میں مترتب ہوتا ہے ، ذات صفات سے مجرد اس کی تربیت میں کافی ہے، مثلاً جو امور کہ صفت حیات و علم و قدرت اور ارادہ کے ساتھ وابستہ ہیں ، اگر وہ صفات بالکل متحقق نہ ہوں تو ذات تنہا وہ کام کرتی ہے ، اس معنی میں نہیں کہ صفات بالکل موجود نہیں ہیں یا علم میں موجود ہیں خارج میں نہیں ، کیونکہ یہ اہل سنت و جماعت کے قول کے مخالف ہے ، بلکہ صفات استغنائے ذاتی کے با وجود خارج میں ذات عز سلطانہ کے وجود پر زائد موجود ہیں جیسا کہ اہل حق کا مذہب ہے یہ ایک مثال سے واضح ہوتا ہے، میں کہتا ہوں کہ پانی بالذات بلندی سے پستی کی طرف مائل ہوتا ہے اور اس میل کو میل طبیعی کہتے ہیں ، پس پانی کی ذات علم و حیات اور قدرت وارادہ کا کام کرتی ہے کیونکہ اگر یہ علم رکھتا تو بھی پستی کی طرف آتا اور ارادت کا کام دو متساوی امور میں سے ایک کو خاص کرنا بھی ہوتا ہے، اس حرکت ارادیہ سے حیات و قدرت کا کام بھی ہوتا ہے، اسی طرح جب وہی پانی مرتبہ تنزل میں حیوان کا جز ہوتا ہے تو اس میں طبعی کے ساتھ ساتھ صفات زائدہ سے بھی متصف ہوتا ہے اور ان امور کو طبعیت کے باوجود صفات زائدہ کے ساتھ کرتا ہے، اللہ کی مثال بہت بلند ہے، اس کی ذات عز شانہ استغنائے ذاتی اور صفات سے کافی ہونے کے باوجود مرتبہ الوہیت میں صفات زائدہ موجودہ کے ساتھ متصف ہوتی ہے اور جن امور کی تحصیل میں اس کی ذات کافی ہے ان صفات کی وجہ سے قوت سے فعل میں لاتی ہے اس لیے جس طرح صفات سے مجرد پانی کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس کی صفات میں ذات ہیں بلکہ وہاں ذات ہے فقط اور صفت کی گنجائش بالکل نہیں ہے ، اسی طرح ذات واجب تعالی کے متعلق نہیں کہا جا سکتا کہ صفات عین ذات ہیں ، کیونکہ وہاں صفت نہیں ہے کہ عینیت کا حکم لگا یا جائے اور جب صفت کا اعتبار آیا تو عینیت برطرف ہوگئی ، اگر چہ اعتبار علمی ہو، پس واضح ہو گیا کہ متکلمین کا کلام اور واجب تعالی میں صفات زائدہ موجودہ کا اثبات بعض صوفیہ کے کلام سے زیادہ درست ہے جو کہ صفات کی عینیت کے قائل ہیں اورصفات زائدہ موجودہ کا اثبات نہیں کرتے ہیں۔
مکاشفہ: نمبر7
راز حقیقت کیا ہے؟
صفات کی عینیت کا حکم اور اللہ تعالی کی ذات پر ان صفات کی زیادتی کی نفی حقیقتہ الحقائق تک نہ پہنچنے پر مبنی ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات اب تک اس جماعت کے لیے ان صفات کے پردے میں مشہود (جس کا مشاہدہ کیا جائے)ہے اور چونکہ ذات کو آئینہ صفات میں دیکھتے ہیں، اس لیے آئینے کے اخفا کی وجہ سے ان کی نظر سے پوشیدہ ہو جاتی ہیں ، ان کے عدم کا حکم لگاتے ہیں اور اگر ان کا مشہود اس پردے سے باہر نکلتا تو یہ صفات کو ذات سے جدا د یکھتے اور ان کے وجود کا علم لگاتے ، ان کے وحدت وجود کے حکم لگانے میں یہی راز ہے ، ما سوا ان کی نظر سے بھی پوشیدہ نہیں ہوا ہے اور اس پوشیدگی نے اس کے عدم کا حکم لگانے پر مجبور کیا ہے، چونکہ مشہود کا آئینہ مفقود کا آئینہ ہے اور اس کا علم موجود ہے ، اس لیے ماسوا میں بھی ان دونوں حالات کے اعتبار سے وجود خارجی کی نفی اور ثبوت علمی کیا ہے اس لیے ان کا فنا مکمل نہیں ہوتا کیونکہ ماسوا کا شعور کرتا ہے اور اس کا مشہودبرطرف ہو جاتا ہے اور ماسوا کا عدم شعور اس وقت متحقق ہوتا جب کہ ان کا مشہود ماسوا کے آئینہ سے پوری طرح باہر نکل آئے اور چونکہ ایسا نہیں ہوتا ہے اس لیے کہ اس کا کامل ہونا فنا کے تمام ہونے کے اعتبار سے ہے چنانچہ یہ جماعت بقا کے بعد اپنے آپ کو حق پر سمجھتی ہے اور اس علم کا منشا بھی سکر ہے ، اگر کمال بقا کے ساتھ مشرف ہوتے تو جس طرح کہ وہ ہیں اپنے آپ کو دیکھتے عبد مملوک کسی چیز پر قادر نہیں اور یا جماعت جمادات میں بھی علم قدرت اور دیگر صفات کا اثبات کرتی ہے اور ان کا ثبوت ذاتی سرایت کے اعتبار سے جانتے ہیں ، حالانکہ اللہ تعالی کسی چیز میں سرایت نہیں کرتا اور ایشیا کا احاطہ احاطہ علمی ہے اور ذات منزہ کو عالم کے ساتھ کوئی مشابہت نہیں ہے مگر یہ کہ وہ ان کا خالق اور ان کا رزق دینے والا ، ان کا پروردگار اور ان کا مولا ہے ، اس کلام کی حقیقت او پر پانی کی ذات اور اس کے میل طبیعی کی بحث میں بیان ہو چکی ہے اور ان لوگوں نے اپنے علوم کے اندازے سے دوسرے کارنگ میں حکم کیا ہے، اللہ حق کو ثابت کرتا ہے اور وہی راستہ کی ہدایت کرتا ہے، منقول ہے کہ خواجہ یوسف ہمدانی کی مجلس میں جو خواجہ عبد الخالق غجد وانی کے پیر ہیں اور حضرات خواجگان کے حلقہ کے سردار ہیں ، ایک دن اعزہ میں سے ایک شخص احوال کا ذکر کر رہا تھا تو آپ نے فرمایا، بلکہ خیالات جن سے اطفال طریقت کی تربیت کی جاتی ہے، بالجملہ احکام شرعیہ اور وہ علوم جو مشکوۃ نبوت سےظوا ہر مراد اور وضوح مستفاد کے مطابق ہیں وہ مرکز عدالت و استقامت پر ہیں اور اس کے خلاف کجی اور بے استقامتی کو مستلزم ہے، اگر چہ توضیح و تاویل کے ذریعے ہو یا کشف کے ذریعے ہو، اللہ تعالی نے فرمایا: “إِنَّ هَذَا صِرَاطِئُ مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُو السُّبُل “ بے شک یہ میرا راستہ سیدھا ہے پس اس کی پیروی کرو اور راستوں کی پیروی نہ کرد ہے اور نہایت النہایہ تک پہنچنے کی علامت خصوصاً ان احکام کا تابع اور مطیع ہونا ہے اور ان علوم کے ساتھ محقق اور متخلق ہونا ہے ، کشف کو نص کے تابع بنانا عین استقامت ہے اور الہام کو وحی پر چھوڑ ناعین صواب ہے، جن شرایع کے ساتھ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ مخصوص ہوئے ہیں یہ ان علوم کے احکام ہیں جو مرتبہ ذات کے مناسب ہیں اور ان کے مقتضا پر عمل کرنا اس نہایت تک پہنچانے والا ہے ، اسی طرح ہر پیغمبر کہ اپنے پروردگار کے مرتبہ کے مناسب ہے اور اس کے مقتضا پر عمل وہاں تک پہنچانے والا ہے، پس جس جماعت کو حق سبحانہ وتعالی نے حضرت خاتمیت کی اتباع کی وجہ سے اس نہایت تک پہنچایا وہ جماعت علم وعمل میں بال برابر بھی شریعت کے مخالف نہیں ہوتی ہے ، جس طرح کہ علمائے اہل حق کے نزدیک ثابت ہے اس سے تجاوز نہیں کرتی ہے اور نہ اس سے جدا ہوتی ہے اور علوم لدنی جو ان پر فائض کرتے ہیں وہ شریعت غرا کے موافق ہیں بلکہ ان ہی علوم کی تفصیل ہے، ایک شخص نے حضرت خواجہ نقشبند سے پوچھا کہ سلوک سے مقصود کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا تا کہ معرفت اجمالی تفصیلی ہو جائے اورا ستدلالی کشفی ہو جائے اور ہر وہ کشف جو کہ ظاہر شریعت اور علمائے اہل سنت و جماعت کے مقررہ اصول کے خلاف ہو قبول کے لائق نہیں ، اس لیے کہ یہ اس طریقہ مستقیم سے انحراف ہے جو کہ حضرت محمد مصطفے ﷺ کا خاصہ ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ” إِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ عَلَى صِرَاطٍ مُسْتَقیم ” بے شک آپ مرسلین سے ہیں سیدھے راستے پر ہیں کہ محمدی المشرب اس علمی اور عملی دولت کے ساتھ مشرف ہے اور ولایت خاصہ محمدی اس کا حصہ ہے اور اس کا مخالف اگر چہ اس کو کشف ہوتا ہواگر چہ اولیا میں سے ہو اس کا اس ولایت میں حصہ نہیں ہے اور گزشتہ پیغمبروں میں سے کسی ایک پیغمبر کے قدم پر ہے اور وہ علوم صحیفہ کی تقدیر پر انبیا کے علوم شرایع کے موافق ہیں اور اس کے سیر کی انتہا اسی نبی کے قدم تک ہے، محمدی المشرب تمام علمی و عملی کمالات کو جامع ہے اور مرکز اعتدال پر ہے،
آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری .
آپ کی ذات مبارک کو ہے تنہا حاصل وہ کمالات کہ جو جملہ حسیں رکھتے ہیں
جو کتاب کہ دنیا و دین کے سردار ﷺ پر نازل ہوئی وہ ان تمام کتب سماوی کو جامع ہے جو دوسرے انبیا پر نازل ہوئی ہیں اور آپ کی شریعت دیگر شریعتوں کا خلاصہ ہے، فنائے اتم محمد یوں کا خاصہ ہے اور بقائے اکمل ان کی شان کے لائق ہے ، اس لیے کہ بقا کی اکملیت عبد کے مرتبے میں نہیں ہے اور یہ ایسی دولت ہے جو آنجناب ﷺ کو مرحمت ہوئی ہے، دوسرے لوگ طفیلی ہیں اور طفیلی آپ کی تابعداری کرنے والے ہیں ، آپ کی پیروی کے بغیر اس منزل تک پہنچنا دشوار، بلکہ محال ہے، یہ بلند مقام نہایت النہایت تک پہنچنے کے ساتھ مربوط ہے، یہ مقام کمال تنزل میں ہے اور وہ نہایت کمال بلندی میں اور نقیض کے طرفین میں اعلیٰ ہے لیکن کوئی چیز اگر اپنی حد سے بڑھ جائے تو اس کا عکس ہو جاتی ہے۔
مکاشفہ: نمبر8
شان حقیقت محمدی ﷺ
جاننا چاہیے کہ قابلیت اولی جس کی تعبیر حقیقت محمدی علیہ الصلوۃ والسلا م سے کی جاتی ہے، قابلیت ذات ہے، خصوصاً اس اعتبار علمی کے لیے جو کہ اجمال کے طور پر ان تمام کمالات کے ساتھ متعلق ہوتا ہے جو کہ کلام کی شان ہیں، بلکہ قرآن مجید میں تفصیل سے بیان ہوا ہے اور وہ قابلیت رب محمدی ہے اور ہو سکتا ہے کہ بعض صوفیہ نے جو فرمایا ہے کہ آنحضرت کا رب شان العلم ہے تو اس کے یہی معنی ہوں اور اس قابلیت اولی کے اعتبار سے افادہ آپﷺ کی نسبت متحقق ہوا ہے اور آپ کی کامل پیروی کرنے والوں کے ارباب جو کہ آپ کے قدم پر ہیں( اولا آپ پر اور ثانیا ان لوگوں پر درود وسلام ہو ) اعتبار مذکور کی قابلیات میں جو کہ اجزا ء کی طرح ہیں خصوصا اس قابلیت جمع کے لیے اور اولو العزم اور غیر اولو العزم انبیا ء و رسل کے ارباب ہمارے پیغمبر ﷺکے علاوہ قابلیت ذات ہے، تمام صفات کے لیے اجمالی طور پر متصف ہونے کی اور یہی قابلیت بعض اعتبارات سے مستفیض ہو کر ان کے درجات کے لحاظ سے متعدد حقائق ہو گئے اور جو جماعت کہ ان کے قدم پر ہے اس مقام سے حصہ رکھتی ہے لیکن ان کے حقائق تمام صفات ہیں جو کہ اس قابلیت اخیرہ کے تحت واقع ہوئی ہیں اور یہ قابلیت اللہ جل شانہ کی ذات وصفات کے درمیان برزخ ہے اور قابلیت اولی ذات وصفات اور شیونات ذاتیہ اور ان قابلیات کے درمیان حجاب ہے جو کہ ان قابلیات کے لیے خصوصا اجزا ءکی طرح ہیں اور برزخ چونکہ دو جہتوں کا حکم رکھتا ہے اس لیے لازما دوسری قابلیت میں حجابیت کا حکم پیدا ہو گیا ہے، کیونکہ اس کی آخری جہت وہ صفات ہیں جو کہ ذات پر زائد ہیں اور ذات پر وجود زائد کے ساتھ موجود ہیں جیسا کہ علمائے اہل حق کے نزدیک ثابت ہے، اللہ تعالی ان کی کوششوں کی قدر دانی فرمائے اور یقیناً ایسا ہی ہے اور حجاب کے معنی اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ شے پر ایک زائد چیز ہے اور قابلیت اولی چونکہ اس کی تحتانی جہت سے وہ قابلیات ہیں جو ذات پر زائد محض اعتباری طور پر ہیں، اس لیے اس قابلیت کا انصباغ (رنگ)اسی جہت سے حجابیت کا سبب نہیں ہوتا ہے، البتہ یہاں بھی ایک حجاب علمی پیدا ہو گیا بخلاف پہلی صورت کے کہ اس میں حجاب عینی خارجی ہے، لیکن جاننا چاہیے کہ حجاب علمی کا اٹھ جانا ممکن ہے بلکہ وقوع میں آتا ہے اور حجاب خارجی کا اٹھناممکن نہیں ہے ، یہیں سے ارباب سے رب الارباب کی طرف محمدیوں کی ترقیات اور عروج واقع ہوتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ تجلی ذاتی آپ ( آپ پر اور تمام انبیا پر درود وسلام ) کے ساتھ اور آپ کی متابعت کے ساتھ مخصوص ہو اور ان کا مشہودبلا حجاب کے ہو ، پس غور کرو اور صفات اور اس کی قابلیات کی جانب میں خلائق اور اپنے ارباب سے عروج ممکن نہیں ہے کیونکہ یہ حجاب مرتفع نہیں ہوتا ہے کہ عروج ممکن ہو ، آج کل بعض صوفیہ نے حقیقت محمدی کو تمام صفات کے ساتھ اجمالی طور پر ذات کے متصف ہونے کی قابلیت گمان کیا ہے اور اس گمان کا سبب یہ گمان ہے کہ یہ جماعت خانہ صفات میں ہے اور اس مقام سے حصہ رکھتی ہے اور اس مقام کی قابلیت ، مذکورہ قابلیت ہے جیسا کہ گزرا، اس لیے ضرورت کی بنا پر اس بلند مقام کو آپ کی طرف نسبت کیا ہے، جیسا کہ پہلے بیان ہوا ہے اور جو پہلے بیان ہوا ہے وہی حق ہے اور اللہ سبحانہ و تعالی زیادہ جانتا ہے اور وہ راستہ کی ہدایت کرتا ہے اور ان کا یہ حکم لگانا کہ یہ قابلیت شیونات کے اوپر ہے، ایسا ہی ہے اور جن شیونات کو اس کے تحت ثابت کیا ہے وہ شیونات نہیں ہیں بلکہ صفات ہیں ، جو اس قابلیت کے تحت ہیں اور چونکہ اس جماعت کی نظر اس گھر سے آگے نہیں بڑھی ہے اس لیے صفات کو شیبونات سمجھ لیا ہے، اس وجہ سے زیادتی صفات کے بھی منکر ہیں بلکہ شیونات عین ذات ہیں اور صفات ذات پر زائد ہیں اور شیونات کی تفصیل علیحدہ لکھی گئی ہے وہاں دیکھنا چاہیے۔
مکاشفہ: نمبر9
کلام اور حضور اکرم ﷺ :
صفت کلام بلکہ شان کلام اس لیے کہ ہمارا کلام اس میں ہے ، اس کےواسطے محتاج الیہ ہے کہ افادہ اس کے بغیر متصور نہیں ہے، پس تمام کمالات ذاتیہ اور شیونات ذاتیہ پہلے اس صفت کے مرتبہ میں بلکہ اس شان کے مرتبہ میں فائض ہوتے ہیں اور وہاں سے عالم افادہ میں آتے ہیں، مثلاً جو شخص کہ بہت سے کمالات رکھتا ہے اور چاہتاہے کہ ان کمالات کو ظاہر کرے تو پہلے ان کو قوت کلامیہ کے مرتبے میں نیچے لاتا ہے اور اس جگہ سے ان کا اظہار کرتا ہے ، پس واجب تعالی میں مرتبہ شیونات میں جو کہ ذات پر محض اعتباری طور پر زائد ہیں ، کلام کی شان اس معنی کے ساتھ مخصوص ہو گئی اور جو کچھ کمالات مرتبہ ذات و شیونات میں متحقق تھے ، پورے کے پورے کلام کی شان میں فائض ہوئے ، اس شان کی حقیقت کا پورا حاصل صرف یہی قرآن ہے اور یہ عربی عبارت اور ترتیب اور جو مصاحف میں لکھی ہوئی ہے اور ہر وہ کتاب جو کہ ان پر نازل ہوئی ہے اس قرآن کے اجزا ءمیں سے ایک جز ءہے کہ اس کی بعض عبارتوں سے بعض وجوہ سے مستفاد ہے اور ابتداسے انتہا تک تمام مکونات کی تخلیق اس سے مستفاد ہے إِنَّمَا قَولُنَا لِشَيْءٍ أَن يَقُولَ لَهُ كُن فيكون ہمارا کسی چیز کے متعلق کہنا کہ ہم اس کا ارادہ کریں یہ کہ اس سے کن کہیں تو ہو جاتا ہے) اس قول کا مصداق ہے اور یہ قرآن اس عظیم مرتبہ کے ساتھ دائرہ اصل میں داخل ہے، کسی ظلیت نے اس کی طرف راہ نہیں پائی اور بعض اکابر اولیاء اللہ جو فرماتے تھے کہ قرآن مرتبہ جمع سے ہے وہ اس معنی کے اعتبار سے ہے اور قابلیت اولی جس کی تعبیر حقیقت محمدی ﷺسے کی جاتی ہے۔ اس قرآن مجید کا ظل ہے پس وہ قابلیت بھی تمام کمالات ذاتیہ کو جامع ہے اور شیونات ذاتیہ (کی جامع) ہوگی، لیکن ظلیت کے طور پر اس اصالت کے طور پر نہیں اور قرآن بطریق اصالت جامع ہے اور اسی مناسبت سے قرآن مجید آںسر در محمد مصطفے ﷺ پر نازل ہوا اور آپ کو اس نعمت عظمی کے ساتھ مخصوص کیا اور حضرت رسالت پناہﷺ نے جو حضرت عائشہ صدیقہ کی شان میں فرمایا ہے کہ اپنے دین کا دو حصہ اس حمیر اسے اخذ کرو اسی طرف اشارہ ہے اور آنجناب ﷺ کے خلق کے بیان میں حضرت عائشہ نے فرمایا کہ كَانَ ‌خُلُقُهُ ‌الْقُرْآنَ ” آپ کا خلق قرآن ہے ) تو یہ اسی مناسبت کی وجہ سے ہے کہ اصالت وظلیت ہے اور آپ ﷺ کی شریعت کی بزرگی کو اس سے قیاس کرنا چاہیے اور آپ کی متابعت کو تمام سعادات کا سر ما یہ جاننا چاہیے ۔

دولت یہی ہے دیکھیے کسی کو نصیب ہو
یہ ایسا علم ہے کہ بعض ان افراد کے ساتھ مخصوص ہے جن کو خلق قرآنی کے ساتھ متخلق کیا ہے اور اس کی روشنی سے دیدہ بصیرت کو سرمگیں بنایا ہے، اقطاب کی نظر یہاں تک نہیں پہنچتی ہے اور ظلیت کے مراتب سے نفوذ نہیں کرتی ہے اور علوم و مقامات کے دقائق بعض افراد اقطاب کے ساتھ مخصوص ہیں ، اقطاب ارشادو مدار کے دوسرے کاروبار ہیں اور خاص خدمت کے ساتھ مخصوص ہیں ،ان لوگوں کے لیے خوشخبری ہے جو قطبیت اور فردیت دونوں کے مرتبوں کو جامع ہیں ، مثلا سید الطائفہ جنید بغدادی قدس سرہ اور یہ فردیت کی نسبت ان کو شیخ محمد قصاب قدس سرہ سے حاصل ہوئی اور نسبت قطبیت کی تحصیل میں ان کے پیر شیخ سری سقطی قدس سرہ ہیں اور سید الطائفہ نسبت فردیت کے مقابلے میں نسبت قطبیت کو فراموش کر کے فرماتے ہیں کہ لوگ جانتے ہیں کہ میں سری سقطی قدس سرہ کا مرید ہوں، میں محمد قصاب رحمۃ اللہ علیہ کا مرید ہوں ، اب اصل کلام کی طرف متوجہ ہوتا ہوں اور کہتا ہوں کہ قرآن میں ماضی اور استقبال کا لفظ اس سبب سے ہے کہ ازلیت اور ابدیت کے تمام زمانے اس سے ظہور میں آئے ہیں ، ان میں بعض تو ماضی سے اور بعض حال سے اور بعض استقبال سے تعلق رکھتے ہیں تو یہ قرآن کی نسبت سے نہیں ہوتے ہیں بلکہ بعض زمانوں کی نسبت سے ہوتے ہیں ، قرآن اس پر شامل ہے، مثلاً ایک شخص اپنے گزشتہ احوال کو ماضی کے ساتھ تعبیر کرتا ہے تو یہ ماضویت اس شخص کے زمانہ حال کے اعتبار سے ہے اس شخص کے اعتبار سے نہیں ، وہ شخص تمام از منہ کو جامع ہے، اللہ تعالی صواب کا جاننے والا ، سیدھی راہ کا الہام کرنے والا ہے اور اللہ ہی حق کو ثابت کرتا ہے اور وہ راستہ کی ہدایت کرتا ہے، پس قرآن کی تصدیق کرنے والا اور اس کے مطابق احکام کی پیروی کرنے والا تمام کتب سماویہ کی تصدیق کرنے والا اور انبیا ء علیہم السلام کے جمیع شرائع کے کمالات کو حاوی ہے اور اس کلام اللہ کی تکذیب کرنا اور اس شریعت کے مطابق عمل نہ کرنا بڑی محرومی کومستلزم ہے ۔
حضرت ختم رسل میں دو جہاں کی آبرو خاک اس کے سر پہ جو کوئی نہیں اس در کی خاک
مکاشفہ: نمبر10
ہر حرف قرآن جامع کمالات ہے:
جاننا چاہیے کہ قرآن کے حروف میں سے ہر ایک حرف اجمال کے طور پر تمام کمالات کو جامع ہے اور طویل سورتوں میں جو خاص فضیات ہے چھوٹی سورتوں میں بھی وہی فضیلت رکھی ہے ، طویل وقصیر ہونا اس باب میں کوئی فرق پیدانہیں کرتا ، البتہ ہر سورۃ کے لیے بلکہ ہر آیت کے لیے بلکہ ہر کلمہ کے لیے ایک خاص قسم کی فضیلت مخصوص ہے، جیسا کہ شیون الہی میں ہر شان تمام شیونا ت کو اجمال کے طور پر جامع ہے، ساتھ ساتھ خاص تاثیر اور فضیلت کے ساتھ مخصوص ہے ، اس لیے قابلیت اولی میں جولوگوں نے کہا ہے کہ اس مرتبہ میں ہرشان تمام شیون کو جامع ہے تو اس مرتبہ میں شیون کا اطلاق ظلیت کے اعتبار سے ہے ورنہ شیون دائر ہ اصل میں داخل ہیں ۔
مکاشفہ: نمبر11
ہرآیت کا پورا فائدہ:
معلوم ہو کہ ہر سورۃ بلکہ ہر آیت جو خاص اور الگ واقعہ کے متعلق نازل ہوئی ہے، اس کا قرآت کرنا اس کی تلاوت کرنے والے کو اس باب میں پورا فائدہ پہنچاتا ہے ، مثلاً جو آیت کہ تزکیہ نفس کے باب میں نازل ہوئی ہے اس آیت کی قرآت کا تزکیہ نفس میں بہت بڑا اثر ہے، اسی پر سب کو قیاس کرنا چاہیے۔
مکاشفہ: نمبر12
قرآن دائرہ اصل میں داخل ہے: تحقیق کہ آیہ کریمہ لَّا يَأۡتِيهِ ‌ٱلۡبَٰطِلُ مِنۢ بَيۡنِ يَدَيۡهِ وَلَا مِنۡ خَلۡفِه تَنزِيل مِّنۡ حَكِيمٍ حَمِيدٖ ” باطل نہ اس کے آگے سے آتا ہے اور نہ اس کے پیچھے سے، یہ حکیم حمید کی طرف سے اتارا ہوا ہے )میں اس طرف اشارہ ہے کہ قرآن دائرہ اصل میں داخل ہے، باطل کو اس کی طرف راہ نہیں ہے، اس لیے کہ ہر ظل جو کہ جہت تحتانی کے اعتبار سے ہے اس کے ظل میں باطل کو راہ ہے، جو کچھ باطل ہے اس کی طرف راہ نہیں پاتا ہے اور اصل خالص ہے ، ہر چیز اس کی ذات کے سوا ہلاک ہونے والی ہے، اللہ سبحانہ زیادہ جاننے والا ہے اور وہ راستہ کی ہدایت دیتا ہے۔
مکاشفہ: نمبر13
قرآن اور اہل طہارت :
گویا آيہ كريمہ لا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ ” میں اس طرف اشارہ ہے کہ حقیقت قرآنی کے بعض دقائق سے مطلع ہونا کامل پاک لوگوں کے ساتھ مخصوص ہے لیکن اس کے تمام دقائق سے مطلع ہونا حضرت رب العزت جل شانہ کے ساتھ مخصوص ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے راہنمائی فرمائی ، نیز مساس کسی چیز کے ظاہر کے متعلق بولا جاتا ہے اس لیے وجود ظاہرہ پر مطلع ہوتا ہے لیکن باطن بطون کو اللہ سبحانہ وتعالی کے سوا کوئی نہیں جانتا اور کمال طہارت اس سے وابستہ ہے کہ ماسوا سے کمال انقطاع ہو اور ان تعلقات کے ساتھ آلودگی نہ ہو اور یہ اصل کے ساتھ متصل ہونا اور ظل سے اعراض کرنا ہے خواہ کوئی ظل ہو
فراق یار اگر کم بھی ہو ، زیادہ ہے
گروہ صوفیہ جن کی نظر قابلیت اولی سے آگے نہیں بڑھی ہے انہوں نے اس قابلیت کو انتہائی عروج سمجھا ہے اور اس کو تعین اول سے تعبیر کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ ذات پر زائد نہیں ہے اور اس قابلیت کے مشہود کو تعین تجلی ذات کہا ہے اور ان کا بھی ولایت خاصہ میں سے حصہ ہے، کیونکہ اس ولایت کے درجات میں بھی تفاوت ہے ۔
آسماں عرش کی نسبت سے ہے نیچا ورنہ اس زمیں سے اسے دیکھو تو ہے کتنا عالی
لیکن اولیاء اللہ کے ایک دوسرے گروہ نے اس مرتبہ کو بھی زائد سمجھا ہے اور یقین کے سایہ میں آرام کیا ہے، یا اللہ تو اپنے حبیب اکرم سﷺکی حرمت کے واسطے سے ہمیں ان لوگوں کی محبت نصیب فرما۔
مکاشفه: 14
قرآن پاک اور رمضان پاک:
کلام کی شان منجملہ شیونات ذاتیہ کے ہے، تمام کمالات ذاتی اور شیونات ذاتی کو جامع ہے ، جیسا کہ پہلے علوم میں بیان کیا گیا اور رمضان کا ماہ مبارک تمام خیرات و برکات کو جامع ہے اور ہر خیر و برکت جو کہ ہے اس کا اللہ تعالی کی جناب سے فیضان ہوتا ہے اور اس کی شیونات کا نتیجہ ہے کیونکہ ہر برائی اور نقص جو وجود میں آتا ہے اس کا سبب ذات وصفات محدثہ ہیں ” مَّآ ‌أَصَابَكَ مِنۡ حَسَنَةٖ فَمِنَ ٱللَّهِۖ وَمَآ ‌أَصَابَكَ مِن سَيِّئَةٖ فَمِن نَّفۡسِكَ” جو اچھائی تجھ کو پہنچے تو اللہ کی طرف سے ہے اور جو برائی تجھ کو پہنچے وہ تیری اپنی ذات کی طرف سے ہے )خود نص قاطع ہے، اس لیے اس ماہ مبارک کی تمام بھلائیاں اور برکتیں کمالات ذاتیہ کا نتیجہ ہیں کہ شان کلام ان سب کو جامع ہے اور قرآن مجید اس جامع شان کی حقیقت کا پورا حاصل ہے چنانچہ اس ماہ مبارک کو قرآن مجید کے ساتھ پوری مناسبت ہے، کیونکہ قرآن تمام کمالات کو جامع ہے اور یہ مہینہ تمام بھلائیوں کو جامع ہے جو کہ ان کمالات کے نتائج و ثمرات ہیں اور یہی مناسبت اس ماہ میں نزول قرآن کا سب ہوئی شَهرُ رَمَضَانَ الَّذِى أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرآن رمضان کا مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ہے اور اس ماہ میں شب قدر اس ماہ کا زبدہ اور خلاصہ ہے، یہ رات مغز ہے اور یہ ماہ پوست کی طرح ہے، اس لیے جو لوگ اس ماہ کو جمعیت کے ساتھ گزار یں: اور اس کی بھلائیوں اور برکتوں سے بہرور ہوں تو سال بھر اطمینان سے گزارتے ہیں اور خیر و برکت سے معمور ہوتے ہیں، اللہ تعالی اس ماہ مبارک میں ہمیں نیکیوں اور برکتوں کی توفیق بخشے اور ہمیں اس سے بہت زیادہ حصہ عطا کرے۔
مکاشفه (15)
فضائل رمضان المبارک :
حضرت رسالت پناه محمد مصطفے ﷺ نے فرمایا ” جب تم میں سے کوئی شخص افطار کرے تو چاہیے کہ کھجور سے افطار کرے، کیونکہ یہ برکت ہے کھجور سے روزہ افطار کرنے کا راز کھجور کے برکت ہونے میں ہے، کیونکہ کھجور کا درخت عنوان جامعیت اور اعدلیت کی صفت کے ساتھ انسان کے رنگ میں پیدا کیا ہے،
اس لیے حضرت پیغمبر ﷺ نے کھجور کے درخت کو بنی آدم کا چچا فرمایا ہے ، جو کہ حضرت آدم علیہ السلام کی مٹی سے پیدا کیا گیا ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ”اپنے چچا کھجور کے درخت کی عزت کرو کیونکہ وہ حضرت آدم علیہ السلام کی باقی ماندہ مٹی سے پیدا کیا گیا ہے اور اس برکت کی طرف اس کی نسبت اس جامعیت کے اعتبار سے ہو سکتی ہے اس لیے اس کے پھل یعنی کھجور سے افطار کرنے میں وہ کھجور افطار کرنے والے کا جز ء بن جاتی ہے اور اس کی حقیقت جامعہ اس جزئیت کے اعتبار سے اس کے کھانے والے کی حقیقت کا جزء بن جاتی ہے اور اس کا کھانا بے انتہا کمالات کو جامع ہونے کے اعتبار سے ہوتا ہے جو کہ اس کھجور کی حقیقت جامعہ میں مندرج ہیں اور یہ معنی اگر چہ اس کے مطلقا کھانے میں حاصل ہے۔ لیکن افطار کے وقت جو کہ شہوات مانعہ اور لذات فانیہ سے روز ہ دار کے خالی ہونے
کا وقت ہے زیادہ اثر کرتا ہے اور یہ معنی پورے اور کامل طور پر ظاہر ہوتا ہے اور حضور ا کرم ﷺ نے جو فرمایا: ” مومنین کا بہترین سحر کھجور سے ہے یہ اس اعتبار سے ہو سکتا ہے کہ غذا میں جو کہ صاحب غذا کا جز ء بن جاتی ہے اس غذا کی حقیقت سے اس کی حقیقت کی تکمیل ہوتی ہے اور چونکہ یہ معنی روزہ میں مفقود ہے اس لیے اس کی تلافی کے لیے کھجور سے سحر کی ترغیب دی ، گویا اس کا کھانا تمام ماکولات کے کھانے کا فائدہ دیتا ہے اور اس کی برکت جامعیت کے اعتبار سے افطار کے وقت تک ظاہر ہوتی ہے اور غذا کا یہ فائدہ جو کہ بیان ہوا اس تقدیر پر مرتب ہوتا ہے کہ وہ غذا شرعی تجویز کے طور پر استعمال ہو اور حدود شرعیہ سے سر مو متجاوز نہ ہو، نیز اس فائدے کی حقیقت اس وقت میسر ہوتی ہے کہ اس کا کھانا صورت سے گزر کر حقیقت تک پہنچا ہوا ہو اور ظاہر سے باطن تک آرام کیے ہوئے ہو اور ظاہری غذا اس کے ظاہر کے لیے اور باطنی غذا اس کے باطن کے لیے ممد ہے لیکن امداد ظاہری مقصود ہے اور اس کا کھانا عین قصور ہے
لقمہ یوں کھاؤ کہ وہ گوہر بنے بعد اس کے کھاؤ جو کچھ مل سکے
صاحب غذا کو افطار میں عجلت اور سحر کی تاخیر کا حکم دینے میں تعمیل غذا کا راز یہی ہے ، اگر کوئی کہے کہ جب عارف کی تکمیل غذا کی تاثیر میں ہے تو روزے میں جو کہ ترک غذا ہے کیا حکمت ہے ؟ تو ہم کہیں گے کہ بعض اسمائے الہی جل سلطانہ جو کہ مرتبہ صمدیت کے مناسب ہے غذا کے روکنے میں بھی اس کی تعمیل ہے،اللہ تعالیٰ حقیقت حال سے زیادہ باخبر ہے۔
مکاشفه: 16).
شیون وصفات میں دقیق فرق :
اللہ تعالیٰ کی ذات پر شیون کی زیادتی محض اعتباری ہے اور اس کی ذات پر صفات کی زیادتی وجود خارجی کے ذریعے ہے اس لیے کہ صفات خارج میں ذات پر وجود زائد کے ساتھ موجود ہیں ، جیسا کہ اہل حق کا مذہب ہے اور شیون و صفات میں فرق بہت ہی دقیق ہے، محمد یوں میں جو لوگ کامل ہیں وہ اس فرق سے باخبر ہیں ، اس گروہ میں سے اکثر نے اس فرق کو نہ جاننے کی وجہ سے شیون کو عین صفات سمجھا اور خارج میں صفات کے وجود کے منکر ہو گئے اور یہ جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ اہل سنت و جماعت کے اجماع کے مخالف ہے، اس فقیر نے فرق مذکور کو تفصیل کے ساتھ مسودات میں لکھا ہے اور تنظیر و تمثیل کے ساتھ روشن کر دیا ہے، الغرض شیون دائرہ اصل میں داخل ہیں، کسی ظلیت نے ان کی طرف راہ نہیں پائی ، جو قابلیات کہ اس شیون کے تحت ہیں سالوں کی طرح ہیں ، ان شیون کے لیے محمدیوں کے حقائق ان کے درجات و مراتب کے فرق کے مطابق ہیں اور حقیقت ان سب کو جامع ہے، اس کے مظہر پر صلوۃ وسلام اور تحیات اور ظہور کمال کے مظہر پر برکات ہوں، ان اقطاب کے عروج کی نہایت قابلیت اولی کے مرتبہ کی نہایت تک ہے ، جو کہ حقیقت محمدی ﷺ ہے، ان اقطاب کا مقام گو یا اس قابلیت کے مرکز کے نقطہ میں ہے اور ہر قطب جو ہوتا ہے ارشاد پر مدار ہوتا ہے اور جب نیچے آتا ہے تو ہر جگہ سے نیچے آتا ہے ، ان کی ترقی اس مقام سے اوپر تک نہیں ہے اور اگر ترقی واقع ہوتی ہے تو بعض کو اجمالی طور پر حاصل ہوتی ہے اور اس مقام سے ترقی کرنا اور دائرہ اصل میں داخل ہونا اس وقت کے افراد کے ساتھ مخصوص ہے اور جب تک فردیت کے مقام تک نہ پہنچے یہ کمال ہے حاصل ہے، ہاں بعض کاملین کو افراد کی صحبت کی وجہ سے اور ان کی تاثیر کی وجہ سے اس کمال سے حصہ ملتا ہے، بغیر اس کے کہ فردیت کے مقام تک پہنچیں بغیر اس کے کہ دائرہ اصل میں داخل ہوں ، چونکہ یہ دخول اقرار کے ساتھ مخصوص ہے، لیکن اس مقام سے دوسروں کو افراد کی مناسبت کے واسطہ سے حصہ حاصل ہے اور افراد میں بھی تفاوت بہت زیادہ ہے، دائرہ اصل میں داخل ہونے کے بعد اس لیے کہ شیون بھی اس دائرہ میں داخل ہیں اگر چہ عین ذات ہیں لیکن محض اعتباری طور پر ان میں زیادتی حاصل ہے۔

فراق یار بہت ہے اگر چہ ہو کم بھی ٍ جو آدھا بال بھی ہو آنکھ میں تو کیا کم ہے
شہود(مشاہدہ) ذات سب کا حاصل ہے خواہ شیون کے مرتبے میں ہو خواہ ذات میں داخل ہو ورنہ شہود کو اس مقام میں کوئی دخل نہیں ہے ، نیز اس خاص کیفیت کی صورت عالم مثال میں مشہودکی صورت میں متمثل نگرانی ہے اور اس اعتبار سے اس کا اور اس طرح کے دیگر الفاظ کا اطلاق کیا جاتا ہے اور نگرانی مذکور بھی دائرہ اصل میں دخول کے بغیر متصور نہیں ہے اور جو جماعت کہ داخل نہیں ہے اور ظلیت کے مراتب سے پورے طور پر گزر چکی ہے ان لوگوں کا مشہوددائرہ اصل ہے جو کہ حضرت تعالی شانہ اور شیونات کو جامع ہے ، ذات فقط کا شہودشیون کی مشارکت کے ساتھ افراد کے ساتھ مخصوص ہے، جاننا چاہیے کہ ان بزرگوں میں سے جولوگ ذات تک واصل ہیں اور افراد کے ساتھ ملقب ہیں وہ بھی بہت ہی کم ہیں اور اکابر صحابہ اور اہل بیت میں سے ائمہ اثنا عشر رحمۃ اللہ علیہم اس دولت سے فیض یافتہ ہیں اور ا کا برا اولیاء اللہ میں سے غوث الثقلین ، قطب ربانی محی الدین شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ ہیں ، یہ اس دولت میں ممتاز ہیں اور اس مقام میں خاص شان رکھتے ہیں ، دوسرے اولیا کو اس خصوصیت سے بہت کم حصہ ملا ہے اور اس فضل کا امتیاز ان کے علوشان کا باعث ہوا ہے ، چنانچہ انہوں نے فرمایا کہ میرا یہ قدم ہر ولی اللہ کی گردن پر ہے، اگر چہ دوسروں کے بھی فضائل و کرامات بہت زیادہ ہیں لیکن ان کا قرب اس خصوصیت میں سب سے زیادہ ہے، اس کیفیت کے ساتھ عروج میں کوئی بھی اس مرتبے کو نہیں پہنچتا ہے، یہ اصحاب اور ائمہ اثنا عشر کے ساتھ اس باب میں شریک ہیں ، یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہی ہے جسے چاہتا ہے دیتا ہے، اللہ بڑے فضل والا ہے۔
مکاشفہ: نمبر17
عالم اجسام اور عالم ارواح عالم :
اجسام عالم ارواح کے لیے سایہ کی طرح ہے اور ارواح بھی شیونات الہی جل شانہ کے لیے بمنزلہ ظل( سایہ )کے ہیں، جو کہ اسماء الہی سبحانہ کی طرح عین ذات ہیں جو کہ ذات تقدس و تعالی پر زائد ہیں ، ظلیت اولی جو کہ شیونات کی ظلیت ہے محمدی المشرب جماعت کے ساتھ مخصوص ہے کہ پوری جامعیت جو اس صورت میں ہے ذات جل سلطانہ کی عینیت سے حاصل ہے اسی وجہ سے تجلی ذاتی ان کے ساتھ مخصوص ہوگئی ہے، یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے دیتا ہے، اللہ بڑے فضل والا ہے۔
مکاشفه : 18
عالم ارواح کے مشاہدات:
ایک سالک جب چاہتا ہے کہ اس عالم اجسام سے قدم اوپر رکھے تو محض عنایت خداوندی کی وجہ سے بعض کی نظر عالم ارواح پر پڑتی ہے جو کہ اس عالم کی اصل ہے اور ظلیت کی مناسبت کی وجہ سے ارواح خصوصاً شیونات کو یااسماء کو اس عالم اجسام کے لیے جو کہ ظل کا ظل ہے ، حق جانتا ہے اور اس کے شہود کو شہود حق یقین کرتا ہے ، حالانکہ حقیقت میں اس کا مشہودعالم ارواح ہے جو اپنی اصل کے ساتھ مناسبت رکھتا ہے اور اس متجلی کے لیے کہ اس تجلی کی ابتدا میں عالم اجسام بھی مشہود ہے لیکن چونکہ نظر اوپر کی طرف رکھتا ہے اس لیے اوپر کی طرف متوجہ ہے ، اس عالم سفلی کو عالم ارواح جان کر اس کی حقیقت کا حکم لگاتا ہے اور اگر چہ اس وقت میں اس کو روحانیت کے عنوان سے نہیں جانتا ہے بلکہ حقانیت کے عنوان سے تخیل کرتا ہے اس لیے خود کو اور عالم کو حق جانتا ہے اور آخر میں اس متجلی لہ کے لیے عالم اجسام پورے طور پر نظر سے اٹھ جاتا ہے اور مرائیت پیدا کرتا ہے اور وہی عالم ارواح اس عالم میں اس کا مشہود ہوتا ہے ، اگر چہ وہ روحانیت کے عنوان سے جانتا ہے، اس وقت میں حکم کرتا ہے کہ حق سبحانہ وتعالی موجود ہے اور اس کے علاوہ کوئی چیز موجود نہیں ہے ،اس غلبہ شہود کی حالت میں اس وقت بعض کا انا بالکل جاتا رہتا ہے اور اپنے آپ کو گم کر دیتا ہے، ان دونوں صورتوں میں اس کی تجلی صورت کی تجلی ہے اور اس کا مشہود صرف عالم ارواح ہے، کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اس مقام میں اس کے لیے بقا بھی پیدا ہوتی ہے اور جو انا کہ زائل ہو گیا تھا وہ واپس لوٹ آتا ہے، اس وقت پھر وہ اپنے آپ کو حق جانتا ہے ، حالانکہ حقیقت میں روح کی وجہ سے بقا پائی ہے اور اس کا انا روح پر پڑا ہوا ہوتا ہے اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اس بقا کو حق الیقین خیال کرتا ہے جیسا کہ بعضوں نے گمان کیا ہے اور فناو بقا کو پہلے قدم میں ثابت کرتا ہے اور علم الیقین اور عین الیقین اور حق الیقین کا اس مقام میں تصور کرتا ہے اور مقصود تک پہنچنے سے عاجز رہتا
ہے جو کیڑا ایک پتھر میں نہاں ہے وہی اس کا زمین و آسماں ہے
اور اللہ تعالی کا عالم کو محیط ہونا اور عالم کے تمام ذرات میں اس کا ساری ہونا اور کثرت میں وحدت کا شہود اور اس طرح کے دیگر خیالات جو اس طریقہ کے نو آموزوں کو پیدا ہوتے ہیں سب اس مقام میں ہیں ، حالانکہ حقیقت میں یہ عالم اجسام میں عالم ارواح کا احاطہ ہے اور چونکہ عنایت خدا وندی جل شانہ اس کے شامل حال ہو گئی اور اس بھنور سے اس کو گزار دیا اس لیے اس کی نظر عالم ارواح کی اصل پر پڑتی ہے جو کہ شیونات بلکہ شیو نات یااسماء کا عکس ہے اور اسی نظر کی وجہ سے عالم سابق میں فتور پیدا ہوتا ہے اور خود کو اور عالم کو جو حق سمجھتا تھا وہ یقین زائل ہو جاتا ہے ، اسی طرح احاطہ(محدود) وسریان(سما جانا) اور اس کے مثل کا حکم بھی کم ہو جاتا ہے اور اس کے شہود کی وجہ شیون یااسماء ہیں جو کہ مرتبہ تنزیہ (پاک کرنا)کے ساتھ مناسبت رکھتے ہیں اور اس عالم کے ساتھ چنداں مناسبت نہیں رکھتے ہیں اور ان احکام کی بنیاد بھی مناسبت پر ہے اور اس وقت کام حیرت تک پہنچ جاتا ہے اور اس شہود کے غلبہ میں عالم ارواح کا مشہودپوشیدہ ہو جاتا ہے اور آئینہ ہونے کا حکم پیدا کرتا ہے اور اس کا مشہوداسماء کے ان شیون کے آئینہ میں ہوتا ہے ، پس اس وقت جوا نا کہ واپس آیا تھا پھر گم ہو جاتا ہے اور اس مشہود میں استہلاک پیدا ہوتا ہے، بعض کو اس مقام میں ایک بقا حاصل ہوتی ہے، اپنے عین کے لیے عین اسم ہوتا ہے جو کہ ان کا مشہود ہے، مثلا خود کو علم یا قدرت یا ارادہ پاتے ہیں اور عین اس اسم کی جامعیت کی وجہ سے خود کو وجوب وقدم کے سوا تمام اسمائے الہی کا عین پاتے ہیں ، اسمائے الہی کی اس قسم کی تجلیات کو تجلیات معنویہ کہتے ہیں اور اگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کو اس مقام سے ترقی نصیب ہوئی تو اس کا مشہود حضرت ذات جل سلطانہ کےاسماءوشیون کے آئینے میں ہے اور آئینے کے پوشیدہ ہونے کی وجہ سےاسماء کے شیون اس کی نگاہ سے پوشیدہ ہو جاتے ہیں ، اس مقام میں شیون واسماء کچھ پوشیدہ ہونے کی وجہ سے صفات کے وجود کا حکم نہیں کر سکتا ہے۔
مکاشفہ: نمبر(19)
توحید کی دوا ہم قسمیں:
جو تو حید کہ طالبان حق جل سلطانہ کو اثنائے راہ میں ظاہر ہوتی ہے اس کی دوقسمیں ہیں،ایک تو حید شہودی اور دوسری توحید وجودی تو حید کی پہلی قسم اس طریق کی ضروریات میں سے ہے، یعنی جب تک طالب کا مشہود ایک نہ ہو اور پورے طور پر کثرت اس کی نظر سے دور نہ ہو مقام فنا سے جو کہ ولایت کا ابتدائی قدم ہے حصہ نہیں پاتا ہے اور وحدت دیکھنے سے مراد یہ نہیں ہے کہ سب کو ایک دیکھے، یہ خود کثرت کا دیکھنا ہے ،لیکن اس وقت میں وہ کثرت کو عین وحدت جانتا ہے اور حق کے لیے کچھ بھی مفید نہیں ہے ،اسی طرح کثرت سے مراد یہی امکان کے صور و اشکال مخصوصہ یا متخیلہ ہیں کہ محض ان کے ارتفاع کی وجہ سے وحدت کا دیکھنا حاصل ہوتا ہے، خدا کی پناہ پھر خدا کی پناہ
ہزار نکتے یہاں بال سے بھی ہیں باریک نہ جو کہ سر کو منڈا لے قلندری جانے
نیز جب کثرت نظر سے اٹھ گئی تو ہمیشہ وحدت کا دیکھنا ہے ، نہ یہ کہ کبھی کثرت نظر سے اٹھ جاتی ہے اور کبھی مشہود ہوتی ہے، کثرت کا اس قسم کا زوال عدم میں داخل ہے، مقام فنا سے اس کو کچھ سروکار نہیں اور بقا کے بعد جو کہ تکمیل کے مقام میں ہوتی ہے کثرت حاصل ہوتی ہے ، وہاں بھی وحدت دائمی مشہود ہے اور کثرت بھی دائمی ہے، نہ یہ کہ کبھی وحدت مشہود ہے اور کبھی کثرت مشہو د اس لیے کہ وہاں فنا و بقا ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوتے ہیں، عین فنا میں باقی ہے اورعین بقا میں فانی توحید کی دوسری قسم راہ کی ضروریات میں سے نہیں ہے اس لیے بعض کو اثنائے راہ میں اس سے اتفاق پڑتا ہے اور کسی کو نہیں ، جس گروہ کو زیادہ تر انجذاب قلبی کا ، جو کہ زیادہ منازل سلوک طے کرنے کی وجہ سے ہوتا ہے ، حصہ حاصل ہو جاتا ہے اس کو اس قسم کی تو حید زیادہ حاصل ہوتی ہے، ایک گروہ اور بھی ہے کہ اس راہ کے سالکوں کو انجذاب قلبی میں اس قسم کی توحید ظاہر نہیں ہوتی ہے، اس قسم کی توحید کی بنا سکر وقت اور غلبہ حال ہے اور قلبی محبت کا استیلاء ہے، اس لیے ارباب قلوب کے ساتھ مخصوص ہوتا ہے جو منتہی حضرات اس مقام قلب سے گزرتے ہیں اور مقلب قلب سے جاملے ہیں اور وقت و حال سے اوقات کے موقت کرنے والے اور احوال کے بدلنے والے تک پہنچے ہیں اور سکر سے صحو تک آکر اور اس کے لیے انجذاب روحی پیدا کیا ہے، اس توحید سے کوئی سروکار نہیں رکھتے ، ان میں سے بعض کو حقیقت پر اطلاع دیتے اور گزارتے ہیں اور کچھ دوسرے لوگ نفی و اثبات سے کوئی کام نہیں رکھتے ہیں، متقدمین صوفیہ رحمۃ اللہ علیہم کا طریقہ اس طور پر واضح ہے کہ اس توحید کے ساتھ بہت کم مناسبت ہے، بلکہ اس کے ساتھ مناسبت معدوم ہے اور ان کا سلوک جو کہ مقامات عشرہ کے طے کرنے کے نام سے مشہور ہے تزکیہ نفس سے تعلق رکھتا ہے ، مقام تو حید محبت قلبی کا مقام ہے اور متقدمین کی بعض عبارتیں جو توحید پر دلالت کرتی ہیں مثلاً انا الحق اور سبحانی تو اس سے تو حید شہودی مراد لینا چاہیے تا کہ ان کے سلوک کے موافق ہو ، ہاں ایک جذبہ کے ساتھ ملے ہوئے سلوک کی بھی گنجائش ہے جو کہ اس توحید وجودی کے سالک کے دوران راہ میں پیش آتا ہے اور بعض کو اس مقام سے گزار کر انتہائے کار تک پہنچا دیتے ہیں اور کچھ لوگوں کو اسی مقام سے الفت بخشتے ہیں ، یہاں تک کہ وہ اسی مقام میں مقید رہتے ہیں، جاننا چاہیے کہ توحید وجودی کی ایک قسم جو کہ اس موقع میں بلکہ سابق حالات میں بھی تو حید وجودی کے مراقبات کی ممارست(مشق) اور کلمہ توحید بمعنی “لا الہ موجود الا اللہ سے تعلق کے بعد حاصل ہوتی ہے ، یہ ایسی توحید ہے کہ خیال کو اس میں پورا دخل ہے، گویا کثرت مزا ولت (کوشش)اور تکرار ممارست کی وجہ سے خیال میں ایک صورت بندھتی ہے اسے محبت سے چنداں تعلق نہیں ہوتا ، اگر چہ انجذاب و محبت کی آمیزش کے بغیر نہ ہوگا لیکن معلول ہے اور اس کے جعل کی تجعیل مجعول ہے تم جانو کہ توحید شہودی کا حصول تو حید وجودی کے بعد ہے ، جن لوگوں کو دونوں تو حیدیں ظاہر ہوتی ہیں جس وقت تک کہ توحید وجودی کے قابل ہوں رویت کثرت کی قید کے باعث کثرت رکھتے ہیں اور چونکہ کثرت پورے طور پر ان کی نظر سے دور نہیں ہوتی ہے تو حید شہودی حاصل نہیں ہوتی ہے اور توحید وجودی کے مقام سے آگے نہیں جاتے ہیں ، ان سطور کے کاتب کو دونوں توحید کے ساتھ مشرف کیا ، ابتدائے حال میں توحید وجودی گا انکشاف فرمایا، یہاں تک کہ کئی سال تک اس مقام میں رکھا اور اس مقام کے دقائق جتلائے اور اس کی حقیقت کی اطلاع دی، آخر کار کمال بندہ نوازی کی بنا پر اس مقام سے گزار دیا اور توحید شہودی کے مقام سے مشرف بنایا اور دونوں مقاموں کے علوم و معارف سے آگاہی بخشی ، توحید وجودی سیر آفاقی میں ہے اور اس سیر کا منتہا توحید شہودی ہے جس کی تعبیر فنا سے کی جاتی ہے، بقا کے بعد سیر انفسی ہے ، اس زمانہ کے بعض لوگ جو اپنے آپ کو اس گروہ سے سمجھتے ہیں، جس وقت کہ طالب اپنے آپ کو عین حق پاتا ہے تو حید وجودی میں جانتے ہیں جو کہ سیر انفسی میں داخل ہے اور جن اشیا کو کہ عین حق پاتا ہے سیر آفاقی جانتا ہے اللہ تعالی حق کو ثابت کرتا ہے اور سیدھا راستہ دکھاتا ہے اللہ تعالی حقیقت حال سے زیادہ باخبر ہے اوراللہ تعالی ہی مرجع اور مآل ہے

مکاشفه : 20
اب کام کا وقت ہے:
برادر عزیز ! کام کا وقت ہے بات کا نہیں، ظاہر و باطن میں اس کی جناب قدس کا گرفتار ہونا چاہیے، اللہ سبحانہ کی اجازت کے بغیر آنکھ نہ کھولنی چاہیے۔ کام تو بس یہ ہے باقی ہیچ ہے
مکاشفہ (21)
نسبت نقشبندیہ کا امتیاز :
ایک مدت ہوئی ہے کہ باطنی سبق کی تکرار اور اس کے احوال کی کیفیات سے مطلع نہیں کیا ہے ، امیدوار ہوں کہ استقامت کے طریقے پر ہوں گے، جو کہ شجرہ طیبہ سے ماخوذ اور نقشبندی انوار سنیہ سے اقتباس کیا ہوا ہے، اس لیے کہ ان بزرگوں کا کلام دوا ہے اور نظر شفا ہے اور اللہ تعالی کی عنایت سے ان لوگوں کی صحبت میں برسوں کا کام ساعتوں میں آسان ہوتا ہے اور ان کا ایک التفات سینکڑوں چلہ سے بہتر ہے ، اس لیے کہ دوسروں کی نہایت ان بزرگوں کی بدایت میں مندرج ہوتی ہے اور ان کا طریق قریب ترین طریقہ ہے اور ان کی نسبت جو حضور و آگاہی سے عبارت ہے تمام نسبتوں سے بالا ہے، حضرت خواجہ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ ہم دوسروں کی نہایت کو بدایت میں درج کرتے ہیں اور فر ما یا کہ حق کی معرفت بہاؤالدین پر حرام ہے اگر ہماری ابتدا بایزید رحمۃ اللہ علیہ کی انتہا نہ ہو اور فرمایا کہ ہمارا طریقہ قریب ترین طریقہ ہے اور یقیناً پہنچانے والا ہے ، حضرت خواجہ عبید اللہ احرار رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ ہماری نسبت تمام نسبتوں سے بالا ہے اور نسبت سے حضور و آگاہی مراد لیا ہے ، غرض ان اکابر کا کارخانہ بلند مرتبہ ہے، ہر مبتدی و منتہی اس سےنسبت نہیں رکھتے ہیں، مولانا عبد الرحمن جامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں
سکہ جو بطحا و یثرب میں چلا اب بخارا سے وہی جاری ہوا
کون اس کے نقش سے ہے بہرہ مند ہاں دل بے نقشِ شاہ نقشبند
ان کا اول آخر ہر منتہی انتہا ، جیب تمنا ہے تہی
کیا کیا جا سکتا ہے، آپ کی صحبت چار گھڑی بھی نہ رہی کہ ان بزرگوں کے کمالات کا ایک شمہ بھی واضح کیا جاتا ، اب بھی کچھ نہیں گیا ہے،موقع غنیمت ہے اور اللہ تعالی توفیق بخشنے والا ہے، برادر عزیز! ایک توفیق آثار نے میاں شیخ فرید کو تمہاری خدمت میں بھیجا ہے تا کہ باطنی سبق کا کام انجام دے اور اس کو جلا بخشے، اللہ تمہیں راہ دکھائے، تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ولایت و نبوت ہر دو کا حصول قرب حق سبحانہ کے مراتب میں ہے بغیر اس شائبہ کے کہ بندہ حق جل وعلی تک عروج کرتا ہے اور بغیر اس مظنہ (گمان)کے کہ اللہ تعالی نزول کرتا ہے بلکہ اللہ تعالی کا قرب بے چون و بے چگون ہے، ہاں جو نسبت کہ بے چون کے ساتھ تعلق اختیار کرتی ہے مجبوراً بے چون ہوگی ، اس لیے کہ بندہ جب تک بے چونی کا مظہر نہ ہو گا اس قرب کو معلوم نہیں کر سکتا اور عام لوگ جو کچھ قرب کو سمجھتے ہیں بلکہ اکثر ارباب کشف و شہود اپنے کشف کے ذریعہ قرب کے معنی سمجھتے ہیں اور اس سے لذت حاصل کرتے ہیں، تو یہ اجسام لطیفہ کے قرب کے قبیل سے ہے کہ ذات( جل سبحانہ تعالی و تقدس) میں قدم رکھتا ہے اللہ تعالی اس سے بہت زیادہ بلند ہے، اللہ تعالیٰ کا قرب دو قسم کا ہے، ایک اس کی ذات جل شانہ کا قرب اور دوسرا اس کی صفات ( تعالت و تقدست ) کا قرب اور جو قرب کہ اسماء و صفات کے ظل سے تعلق رکھتا ہے ، وہ حقیقت میں اس قرب کے دائرہ سے خارج ہے اور اس پر قرب کے لفظ کا اطلاق مجاز کے طور پر ہے، پس ہم کہتے ہیں کہ اللہ تعالی کا بالاصالت قرب انبیا ء علیہم السلام کے حصے میں ان کے درجات کے اختلاف کے مطابق ہے اور مرتبہ نبوت کے کمالات تابعہ میں ہے اور انبیا کے اصحاب تبعیت کے مرتبہ پر اس قرب سے علی فرق مراتب حصہ رکھتے ہیں اور جو لوگ کہ اس قرب ذاتی کی دولت سے اصالتا یا تبعا مشرف ہیں یہ وہ سابقین ہیں جن کی شان میں آیت وَ السَّابِقُونَ السَّابِقُونَ اور جولوگ اعلی درجہ کے ہیں تو اعلیٰ درجہ کے ہیں وہ خاص قرب رکھنے والے ہیں، یہ لوگ آرام کے باغوں میں ہوں گے، ان کا ایک بڑا گر وہ تو اگلے لوگوں میں سے ہوگا اور تھوڑے پچھلے لوگوں میں سے ہوں گے )صادق ہے ہاں چونکہ اولین میں ہزاروں انبیا کرام تھے اور لاکھوں ان کے اصحاب تھے اس لیے لاز ما آخرین سے کثیر ہوئے جو کہ ایک پیغمبر خاتم الرسل رکھتے ہیں اور آپ کے اصحاب کرام کی ایک جماعت ہے اور آخرین وقت میں سے ایک قلیل مثلا حضرت مہدی علیہ الرضوان اور اکمل اصحاب ، ہو سکتا ہے کہ آنجناب ﷺ نے اس دولت کے حصول کے اعتبار سے جو کہ آخرین امت میں بھی ہوگا فرمایا ہوگا، کہ معلوم نہیں ان میں پہلے بہتر ہیں یا آخری اور صفات کا قرب کامل اولیا کا حصہ ان کی صلاحیتوں کے فرق کے اعتبار سے ہے اور یہ قرب انبیا ء علیہم السلام کی ولایت کے کمالات تابعہ سے ہے کہ پیروی کی وجہ سے ان کی پیروی کرنے والوں کو حاصل ہوا ہے ، اگر چہ اکثر اس قرب کو قرب ذات نہیں سمجھتے ہیں اور بے رنگی اور بے صفتی کے ساتھ تعبیر کرتے ہیں ، یہ ایسا نہیں ہے بلکہ بے رنگی اور بے صفتی کی وجہ سے ان اصناف کو جو مرتبہ صفات میں میں بے رنگی اور بے صفاتی میں ایک صفت مطلق جو مرتبہ ذات میں ہے تصور کر کے وہم میں پڑ جاتے ہیں اور تجلی صفت کو تجلی ذات سمجھتے ہیں ، اس ولایت کے کمالات قرب صفات سے تعلق رکھتے ہیں اور کل کمالات درجہ نبوت ہے جو کہ قرب ذات کے ساتھ متعلق ہے اور جو لوگ کہ اسماء و صفات کے ظلال کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اس ولایت کاظل ہے بیک واسطہ یا بچند واسطہ اور اگر چہ اس قرب پر بھی ولایت کے لفظ کا اطلاق کرتے ہیں لیکن تجوز ( چشم پوشی)و مسامحہ (رعایت)سے خالی نہیں ہے، جیسا کہ پہلے گزرا ، اس لیے کہ قرب ظل کو جو کہ دائرہ امکان سے باہر ہے قرب اصل سمجھا ہے اور لفظ ولایت کا اس پر اطلاق کیا ہے، اس قرب تک پہنچنے والے بھی اولیا میں داخل ہیں اور فنا وبقا کے ساتھ متحقق ہیں ، اس لیے کہ یہ جماعت دائر و امکان سے باہر آگئی ہے اور ظلال وجوبی تک پہنچ گئی ہے، چنانچہ مجبور اً امکان سے خالی ہو کر کل وجوب کے ساتھ بقا پائے ہوئے ہیں ، جاننا چاہیے کہ دائرہ امکان سے باہر ہونے اور ظلال وجوب میں داخل ہونے سے مراد شہود کے اعتبار سے ہے نہ یہ کہ امکان سے حقیقت میں نکل کر ظلال وجوب میں داخل ہو جاتے ہیں کہ وہ یقینا متضاد ہے اور قلب حقائق کہ محال عقلی ہے ، تم جانو کہ مرتبہ نبوت جو قرب ذات کے ساتھ تعلق رکھتا ہے مراتب ولایت کے اعتبار سے ایک محیط سمندر کی طرح ہے اور اس کو چند قطروں سے جو نسبت حاصل ہے ، ذات جل سلطانہ سے صفات تعالت و تقدست تک یہی نسبت ہے ، ظلال صفات تک کیا پہنچے ، نیز مرتبہ نبوت کا شہود شہودیت کے رنگ میں عالم میں ہے نہ عالم کے خارج میں اور نہ عالم سے اتصال رکھتا ہے اور نہ عالم سے انفصال، بخلاف شہود ولایت کہ عروج تام کے وقت وہاں شہود بیرون عالم ہے اور ہبوط (نزول )کے وقت عالم میں بلکہ اپنے نفس میں ہے؟ نیز صاحب کمالات نبوت علم کے لیے صانع جل سلطانہ کے ساتھ سوائے صانعیت اور مصنوعیت کے اور مولویت (مولائیت ) اور عبدیت کے اور کوئی نسبت نہیں دکھاتے ہیں، بخلاف ارباب ولایت اصلی وظلی کے کہ عالم کو ذات وصفات واجبی کا آئینہ جانتے ہیں اور اللہ تعالی کے اسم وصفات کے کمالات کا ظل سمجھتے ہیں اور جو شخص قرب ظل کے ساتھ زیادہ مناسبت رکھتا ہے، یہ دید اس میں زیادہ غالب ہوتی ہے اور ، جو کم مناسبت رکھتا ہے اس میں اس دید کی کمی ہوتی ہے لیکن اس دید کی اصل سے خالی نہیں ہوتا اگر چہ بعض اوقات میں ہوتا ہو مگر وہ شخص جو کہ ارباب علم میں سے نہ ہو اور جہل میں اس نے تربیت پائی ہو وہ بحث سے خارج ہے کیونکہ وہ تفصیل کے ساتھ اپنے احوال کا علم نہیں رکھتا ہے، نیز صاحب کمالات نبوت ہمیشہ عالم کے ساتھ ایک نسبت رکھتا ہے اور نہ عالم سے عروج رکھتا ہے اور نہ عالم میں نزول ، کیونکہ اپنے مشہود کو عالم سے خارج نہیں سمجھتا ہے کہ عروج کرے اور وہاں شہود کرے اور عالم میں داخل بھی نہیں سمجھتا ہے کہ نزول فرمائے اور دونوں عالم کا شہود ثابت کرے، بخلاف ارباب ولایت کے ، اسی طرح علمائے اہل حق نے جو فرمایا ہے: ” حضرت حق سبحانہ وتعالیٰ نہ تو عالم میں داخل ہے اور نہ عالم سے خارج ہے، نہ عالم کے ساتھ متصل ہے اور نہ عالم سے منفصل ہے یہ مشکوۃ نبوت سے ماخوذ ہے اور انبیا ء علیہم السلام کی متابعت کے انوار سے لیا گیا ہے کیونکہ ارباب ولایت کے شہود کا مذاق اس معرفت سے دور اور مہجور ہے، نیز صاحب کمالات نبوت کی نظر جب عالم کی طرف کلی طور پر متوجہ ہوتی ہے یعنی ظاہر و باطن کے ساتھ عالم کی طرف توجہ فرماتا ہے یہاں تک کہ اس کا باطن حق سبحانہ وتعالیٰ کا دیکھنے والا ہے اور اس کا ظاہر عالم ملک کی طرف متوجہ ہے فوق کی طرف توجہ کے وقت نظر پورے طور پر جناب قدس جل شانہ تک محصور ہے اور عالم کی طرف توجہ کے وقت پورے طور پر عالم کی طرف نظر ہے، ان بزرگوں کے حق میں دونوں جہات کی طرف نظر مفقود ہے ، بخلاف ارباب ولایت کے کہ ان کا باطن اپنے حال پر ہے اور ان کے ظاہر نے عالم کی طرف توجہ کیا ہے اور اس مقام کو مقام تکمیل کہتے ہیں اور اس شہود کو شہود جامع ، بین الشهود والحق و شهود الخلق (شہود حق اور شہود خلق کا جامع شہود )کہتے ہیں اور اس مقام کو مقامات ولایت و دعوت کا کمال جانتے ہیں ، اس مقام میں جمع بین التنز یہ (پاک کرنا)والتشبیہ (مشابہت)کا اثبات کرتے ہیں اور اس توجہ جامع کو صرف توجہ تنزیہ سے بہتر رکھتے ہیں، ہر جماعت اسی چیز میں مگن ہے جو کہ اس کے پاس ہے ، اس ہزار سال میں معلوم نہیں ہے کہ کسی نے بھی اس معرفت پر لب کشائی کی ہو اور رجوع کے وقت میں پوری نظر عالم پر رکھ کر گفتگو کی ہو، بلکہ قریب ہے کہ اس بات کو نقص پر محمول کریں اور اس حالت کو ناقص جانیں، معذور ہیں، جنہوں نے چکھا ہی نہیں انہیں کیا معلوم ، ان کے عذر کو بیان کرتے ہیں معلوم ہو کہ رجوع کے وقت جب نظر پورے طور پر رجوع کرے تو اس کی علامت یہ ہے کہ کہ باقی کام کے فوق میں رہ گیا ہے اور مقصد حقیقی تک نہیں پہنچا ہے اور جب نظر پورے طور پر متوجہ ہو تو معلوم ہوتا ہے کہ کام کو انتہا تک پہنچا کر تربیت خلق کی طرف رجوع فرمایا ہے، سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں اس کی ہدایت کی ہم ہدایت نہیں پاسکتے تھے اگر اللہ تعالی ہمیں اس کی ہدایت نہیں کرتا ، ہمارے پروردگار کے رسل حق کے ساتھ آئے ، یہ اور اس جیسی معرفت علوم و ہبی اور مواہب لدنی میں سے ہے، معارف کسبی اور علوم استدلالی میں سے نہیں ہے کہ اس کو ترتیب مقدمات کے ذریعے سر انجام دے سکیں، یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے دیتا ہے، اللہ بڑے فضل والا ہے۔
 مکاشفہ: نمبر22 
حقیقت کعبہ مشرفہ
الحمد الله وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفی ، برادر عزیز شیخ محمد طاہر بدخشی نے استفسار کیا ہے کہ رسالہ مبدا و معاد میں واقع ہے کہ جس طرح کعبہ کی صورت ، صورت محمدی ﷺکی مسجودالیہ ہے اسی طرح اس کی حقیقت بھی حقیقت محمدی کی مسجود الیہ ہے، اس سے حقیقت محمدیہ ﷺپر کعبہ معظمہ کی حقیقت کی فضلیت لازم آتی ہے، حالانکہ یہ ثابت ہے کہ عالم و عالمیان کی پیدائش کا مقصود آپ ﷺ ہیں ، اگر آپ نہ ہوتے تو اللہ تعالی افلاک کو پیدانہ کرتا اور نہ ربوبیت ظاہر ہوتی جیسا کہ وارد ہوا ہے، جاننا چاہیے کہ کعبہ کی صورت سے مراد سنگ و کلوخ نہیں ہیں کیونکہ بالفرض اگر یہ سنگ و کلوخ درمیان میں نہ ہوں تو بھی کعبہ کعبہ ہے اور مسجود خلائق ہے ، بلکہ کعبہ کی صورت باوجود یکہ عالم خلق سے ہے، حقائق اشیا کے رنگ میں ایک ایسا پوشیدہ امر ہے کہ حس و خیال کے احاطہ سے باہر ہے اور عالم محسوسات سے ہے اور کوئی محسوس اشیا ءکے لیے متوجہ الیہ نہیں ہے اور توجہ میں کوئی ایسی ہستی نہیں ہے جس نے نیستی کا لباس پہنا ہے اور نہ نیستی ہے جس نے ہستی کے لباس میں اپنے آپ کو ظاہر کیا ہے، جہت میں بے جہت ہے، ہمت میں بے ہمت ہے، غرض اس کی یہ حقیقت بین صورت ایک عجوبہ ہے کہ عقل اس کی تشخیص میں عاجز ہے اور عقلاء اس کے تعین میں حیران ہیں، گویا عالم بے چونی و بے چگونی کا نمونہ رکھتا ہے اور بے شبہی و بے نمونی کی علامت اس میں موجود ہے ، ہاں جب تک ایسا نہ ہو گا مسجودیت کے لائق نہ ہوگا اور موجودات میں سے سب سے بہتر حضور علیہ الصلوۃ والسلام شوق و آرزو کے ساتھ اس کو اپنا قبلہ اختیار نہ فرماتے فِيهِ ءَايَٰتُۢ بَيِّنَٰت” اس میں کھلی ہوئی نشانیاں ہیں ، اس کی شان میں نص قاطع ہے اور وَمَن دَخَلَهُۥ كَانَ ءَامِنٗاۗ اور جو اس میں داخل ہو گیا وہ مامون ہو گیا ، بیت اللہ کی مدح کرنے والے کا یہ فرمان اس کے حق میں ہے ، صاحب جل شانہ کی خاص کینونیت(وجود) اس کے ساتھ ہے اور اس کے ساتھ اتصال و نسبت مجہول الکیفیت ، بے چون و بے چگون ہے وَلِلَّهِ ‌ٱلۡمَثَلُ ٱلۡأَعۡلَىٰۚ ” اللہ کے لیے بلند مثال ہے کہ عالم مجاز میں کہ قطرہ حقیقت ہے بیتوتیت (گھر)سے ماخوذ ہے جس کے معنی صاحب خانہ کی آرام گاہ اور جائے قرار ہے، دولت مندوں کے لیے اگر چہ بہت ہی نشست گاہیں اور بے شمار نشست و برخاست کی جگہیں ہیں لیکن گھر گھر ہے کہ اغیار کی مزاحمت سے بیگانہ ہے اور مسکن اور آرام گاہ جانانہ ہے، اگر چہ بمصداق حدیث قدسى ولكن يسعنى قلب عبد المومن ” لیکن میں مومن بندے کے قلب میں سماتا ہوں کچھ مومن بندے کا قلب بے چونی کے ظہور کی گنجائش پیدا کرتا ہے لیکن بیت کی نسبت جو کہ بیوتیت سے ماخوذ ہے کہاں سے پیدا کرے گا اور مزاحمت اغیار کی ممانعت کہاں سے لائے گا جو کہ لوازم بیت میں سے ہے اور چونکہ غیر اور غیر یت کو اس جگہ میں دخل نہیں ہوتا ہے اس لیے نا چار سجدہ گاہ خلائق ہوتا ہے کہ غیر کے لیے سجدہ نہیں ہوتا ہے اور غیریت مسجودیت کے منافی ہے، حضرت محمد مصطفے ﷺنے اپنی جانب سجدہ تجویز نہیں فرمایا ہے، بیت اللہ کی جانب شوق ورغبت کے ساتھ سجدہ کیا ، تفاوت کی حقیقت یہاں سے معلوم کرو ساجد اور مسجود کے درمیان کس قدر فرق ہے، اے برادر:جب تم نے کعبہ معظمہ کے متعلق کچھ سن لیا تو اب تھوڑا اس کی حقیقت کے متعلق بھی سنو، کعبہ کی حقیقت اس واجب الوجود کی ذات بے چون جل سلطانہ سے عبارت ہے کہ ظہورظلیت کی گرد نے اس تک راہ نہیں پائی ہے اور معبودیت و مسجودیت کے شایاں ہے ، اس حقیقت جل سلطانہ کو اگر حقیقت محمدی ﷺ کا مسجود کہیں تو کیا دشواری لازم آتی ہے اور اس کی اس پر فضلیت کیا کمی رکھتی ہے یہاں حضرت محمد مصطفے ﷺکی حقیقت تمام افراد عالم کے حقائق سے افضل ہے لیکن کعبہ معظمہ کی حقیقت منجملہ عالم کے نہیں ہے کہ اس کی طرف اس کی نسبت کی جاسکے اور پہلے کی افضلیت میں توقف کیا جائے، تعجب ہے کہ عقلائے ذوفنون نے ان دو صاحبان دولت کے ساجدیت و مسجودیت میں صورتوں کے تفاوت کی طرف دھیان نہیں دیا کہ مقام اعتراض میں رہے اور تشنیع کے لیے لب کشائی کی، حضرت حق سبحانہ وتعالی ان کا انصاف کرے کہ بے سمجھے ملامت نہ کریں، اے ہمارے پروردگار ہمارے گناہوں کو اور اپنے امور میں ہمارے اسراف کو بخش دے اور ہمارے قدموں کو ثبات بخش دے اور کا فرقوم کے مقابلہ میں ہماری مددفرمادے۔
مکاشفه : 23….
مقالات فتوح الغیب کا حاصل :
حسب ارشاد کتاب فتوح الغیب کے مخصوص مقالات مطالعہ کیے ، ان مقالات کا حاصل ارادت اور ہویٰ کے فنا کا بیان ہے جو اس راہ کے قدموں میں سے ایک قدم ہے اور افعال کی تجلی کا نتیجہ ہے کہ اول تجلیات ہے ، آپ نے لکھا تھا کہ اس کتاب مستطاب کا حاصل خلق و نفس، خواہش، ارادہ اور اختیار کے فنا میں منحصر ہے، فقیر کی نظر میں اپنے تمام احوال کرامت مال کو بیان کیا ہے، فوری فائدہ جو حاصل ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ ولایت کا مرتبہ کس قدر بلند مرتبہ ہے، خصوصاً آنحضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ کی ولایت کبری مخدوم و مکرم ! خواهش وارادہ کا فنا کرنا مطالب مقصود میں سے نہیں ہے بلکہ اس سے مقصود استعداد اور قابلیت کا حصول ہے کہ بے نہایت تجلیات و ظہورات حاصل ہوں ، ایسی تجلیات و ظہورات کہ اگر بالفرض اس کا ایک شمہ ظہور میں لایا جائے تو قریب ہے کہ نزدیک کے لوگ دوری چاہیں اور دور والوں کا کیا کہنا، ان ظہورات کے ضمن میں قرب و منازل کے مراتب اور انبساط جو حاصل ہوتے ہیں اگر ان میں سے تھوڑا بیان کیا جائے تو دانا لوگ الحاد و زندقہ کا حکم لگا ئیں ، نادانوں کا شکوہ کیا کیا جائے ، وہاں خواہش و ارادہ کے فنا کا نام زبان پر لانا ہزاروں عار ہے ،ضرورت کی بنا پر کاہل مبتدیوں کی تربیت کرنے کے لیے فنا کی اس قسم کو بیان کرتے ہیں اور حصول و مطلوب کے مقدمہ کو کھولتے ہیں ، پس معلوم ہوا کہ کمالات ولایت جس سے اولیا کے قدموں کا تفاضل متعلق ہے وہ کوئی دوسری چیز ہے ، ارادہ اور خواہش کا فنا ایک قدر مشترک ہے کہ اس کے حاصل کیے بغیر کمالات ولایت کی طرف راہ نہیں ہے
اپنی ہستی میں نہ ہو جب تک فنا پائے کب راہ حریم کبریا
اب تھوڑا سا حال کمالات ولایت سے ظاہر کیا جاتا ہے ، ذکر کے وقت یعنی ابتدائی حالات میں سالک ممکنات کے ذرات میں سے ہر ایک ذرہ کو ذاکر پاتا ہے، خواہ آفاق ہوں یا انفس اور توجہ کے وقت جو کہ مقام ذکر سے اوپر ہے ہر ذرہ کو جناب خداوندی جل سلطانہ کی طرف متوجہ دیکھتا ہے اور بوقت شہود جو کہ عالم سے تعلق رکھتا ہے اور آئینہ میں ظاہر ہوتا ہے ، ذرات میں سے ہر ذرہ کو حسن لا زوال کا آئینہ جانتا ہے بلکہ ہر ذرہ کواسماء وصفات کا جامع جانتا ہے۔
مکاشفہ: نمبر24
سالک طریقت کا اختیار:
اے مخدوم! جو ارادت کہ سالک کو اختیار و ارادت کے فنا کے بعد عطافرماتے ہیں، ضروری نہیں ہے کہ اس ارادے کے ذریعے جو کچھ کرامات اور خوارق عادات چاہے وقوع میں آئے جیسا کہ عوام خلائق کا گمان فاسد ہے بلکہ ممکن ہے کہ کسی کامل کو یہ ارادت عطا فرمائیں اور کرامات و خوارق عادات میں سے کچھ بھی نہ ظاہر کریں اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس ارادے کا مالک اس پہلے ارادے کے مالک سے اعلی و ارفع ہو، شیخ الشیوخ قدس سرہ نے عوارف میں فرمایا ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالی اپنے بندے پر آیات و کرامات کا مکاشفہ بندے کی تربیت اور اس کی کیفیت اور ایمان کی تقویت کے لیے کرتا ہے ، اس کے بعد صاحب کشف و خوارق کی حکایات بیان کیں، پھر فرمایا کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی بخشش ہے اور کبھی اس کا مکاشفہ کچھ لوگوں کو ہوتا ہے اور عطا ہوتا ہے، حالانکہ ایسے لوگ موجود ہوتے ہیں جو ان سے بلند مرتبہ ہوتے ہیں لیکن ان کو ان چیزوں میں سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا تا کہ یقین کی تقویت ہو اور جس کو یقین کامل عطا ہو چکا ہو اس کو ان میں سے کسی چیز کی ضرورت نہیں اور یہ تمام کرامات قلب میں ذکر کے جاگزیں ہونے اور ذکر ذات ہو جانے سے کم درجے کی ہیں اور قریب قریب یہی بات شیخ الاسلام ہروی قدس سرہ نے منازل السائرین میں فرمائی ہے اور تجربہ سے جو چیز میرے نزدیک ثابت ہے وہ یہ کہ اہل معرفت کی فراست ان کی اس تمیز میں ہے کہ کون حضرت عزوجل کی صلاحیت رکھتا ہے اور کون نہیں اور ان اہل استعداد کو معلوم کرتے ہیں جو کہ اللہ سبحانہ کے ساتھ مشغول ہوئے اور حضرت جمع تک پہنچے ہیں، یہ اہل معرفت کی فراست ہے لیکن ریاضت، بھوک ، تنہائی اور تصفیہ باطن کی فراست بغیر اس کے کہ جناب حق سبحانہ کا وصل حاصل ہو ، تو یہ کشف صور کا اور ان مغیبات کے اخبار کا کشف ہے جو کہ حق تعالی کے ساتھ مخصوص ہیں، چنانچہ ان کو صرف خلق کی طرف سے جزا ملتی ہے، اس لیے کہ یہ لوگ حق سبحانہ کی طرف سے محجوب ہیں لیکن اہل معرفت کا یہ حال نہیں ہے بلکہ ان کے اشغال ایسے ہوتے ہیں کہ حق سبحانہ کے معارف ان پر وارد ہوتے ہیں، چنانچہ ان کی خبریں اللہ تعالی کی طرف سے ہوتی ہیں اور چونکہ اکثر اہل علم اللہ تعالیٰ سے منقطع ہوتے ہیں اور دنیا میں مشغول ہوتے ہیں اس لیے ان کے دل کشف صور اور خبروں کی طرف مائل ہوتے ہیں جو کہ مخلوقات کے احوال سے پوشیدہ ہوتے ہیں چنانچہ ان لوگوں نے ان کی تعظیم کی اور اعتقاد کیا کہ یہی لوگ اہل اللہ اور اس کے مخصوص لوگوں میں سے ہیں اور اہل حقیقت کے کشف سے اعراض کیا اور ان کو متہم کیا تو پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کیا بدلہ ملے گا اور ان لوگوں نے کہا کہ اگر یہ لوگ اہل حق ہوتے جیسا کہ دعوی کرتے ہیں تو ہمیں مخلوقات کے احوال کی خبر دیتے تو وہ کس طرح امور کے کشف پر قادر ہو سکتے ہیں ، ان پر جن لوگوں نے ان کا مذاق اڑایا اور جن لوگوں نے ان کی تکذیب کی ، یہ قیاس فاسد ہے اور صحیح خبریں ان پر پوشیدہ رہ گئیں ہیں اور ان لوگوں کو یہ معلوم نہیں کہ اللہ تعالی نے ان لوگوں کو خلق کے لحاظ کرنے سے اور ان کو ماسوا سے بے پروا کرنے اور ابھارنے کی طرف سے ان کی حفاظت کی ہے، اگر یہ لوگ خلق کے احوال کی طرف متوجہ ہوتے تو حق سبحانہ و تعالیٰ کی صلاحیت نہ رکھتے ، پس اہل حق خلق کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں، جس طرح اہل خلق حق تعالیٰ کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں اور ہم نے اہل حق کو دیکھا ہے کہ جب انہوں نے کشف صور کی طرف ادنی التفات کیا تو انہوں نے اس کی وجہ سے ایسی چیز کا ادر اک کیا کہ دوسرے لوگ فراست کی وجہ سے ان صور کے ادراک پر قادر نہیں ہیں ، میں نے اس کا نام معرفت رکھا ہے اور میدان امور میں فراست ہے جو جناب حق سبحانہ اور اسکے قرب سے تعلق رکھنے والے ہیں، اور ہر دنیا دار کے مسلمان ، نصاری ، یہود اور دیگر جماعتیں اس میں شریک نہیں ہیں، اس لیے کہ یہ اللہ تعالی کے نزدیک شریف نہیں ہیں ، اس لیے اس کے اہل ہی اس کے ساتھ مخصوص ہوتے ہیں۔
مکاشفہ: نمبر25
دائرہ ظل کا افہام :
دائرہ ظل واجب تعالیٰ کےاسماء و صفات ہیں ، یہ مرتبہ تعینات خلائق کو تضمن ہے سوائے انبیا کرام اور ملائکہ عظام علیہم السلام کے اور ہر اسم کاظل اشخاص میں سے کسی ایک کے تعین کا مبدا ہے اور یہ دائرہ اصل حقیقت میں اسماء وصفات کے مرتبہ کی تفصیل ہے، مثلاً صفت علم ایک حقیقی صفت ہے کہ جزئیات اس صفت کے ظلال (ظہورات ) ہیں جو کہ اجمال کے ساتھ مناسبت رکھتے ہیں اور ہر چیز اس حقیقت کا انبیا کرام اور ملائکہ عظام علیہم السلام کے علاوہ اشخاص میں سے ایک شخص ہے اور انبیا و ملائکہ علیہم السلام کے تعینات کے مبادی ان ظلال کے اصول ہیں ، یعنی جزئیات مفصلہ کے کلیات ہیں، مثلا صفت علم ، صفت قدرت ، صفت ارادہ وغیرہ اور اکثر اشخاص ایک صفت میں شرکت رکھتے ہیں مثلاً خاتم الرسل ﷺ کے تعین کا مبدا صفت علم ہے اور یہی ایک اعتبار سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے تعین کا مبدا ہے، نیز ایک اعتبار سے حضرت نوح علیہ السلام کے تعین کا مبدا ہے اور لوگوں نے جو کہا ہے کہ حقیقت محمدی ﷺحضرت اجمال ہے اورعین اول جس کو وحدت کہا جاتا ہے اس دائرہ ظل کا مرکز ہے اور اسی دائرہ ظل کو مرکز اول کا تعین سمجھا ہے اور اس کے مرکز کو اجمال سمجھ کر وحدت کا نام دیا ہے اور اس مرکز کی تفصیل کو جو کہ دائرہ کا محیط ہے احدیت گمان کیا ہے اور دائرہ ظل کے مقام فوق کو جو کہ اسماء وصفات کا دائرہ ہے، ذات بے چون تصور کیا ہے کیونکہ صفت کو عین ذات کہا ہے اور زائد نہیں سمجھا ہے ، حالانکہ حقیقت میں یہ دائرہ فوق کا مرکز ہے جو کہ اس کی اصل ہے اور اسکو کے دائرہ اسماءو صفات کہا جاتا ہے اور حقیقت محمدیﷺ اسی دائرہ اصل کا مرکز ہے اور اس مرکز کے ظل پر حقیقت کا اطلاق کرنا اصل کے ساتھ ظل کے اشتباہ پرمبنی ہے اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا مبدا تعین جو کہ انبیا کے بعد افضل البشر ہیں اور یہ دائرہ اسماء و صفات کے لیے خاص کر دائرہ اصل ہے اور دوسرا دائرہ جو اس کے اوپر ہے اس اصل کی اصل ہے اور ایک قوس دوسرے دائرہ سے بھی اس کے اصول سے اور اس کے بعد پھر ظاہر نہیں ہوا، مگر اسی قدر قوس جس قدر کہ تصور کیا جاسکے، یہاں ایک راز ہوگا کہ اس پر اطلاع نہیں بخشی ہے اور یہ اصول حضرت ذات حق تعالی و تقدس میں محض اعتبار ہے، جو کہ صفات زائد کا مبادی ہوا ہے اور جب سیر کو اس جگہ پہنچا دیا تو و ہم ہوا کہ کام انجام تک پہنچا دیا ہوگا ، ندادی کہ یہ تفصیل جو تم نے گزاری اور دیکھی (دراصل) اسم ظاہر کی تفصیل تھی کہ وہ اڑنے کا ایک بازو ہے اور اسم باطن اب تک آگے ہے اور جب اس کو تفصیل کے ساتھ انجام کو پہنچائے گا تو اپنے اڑنے کے لیے دوسرا باز و تیار کر لیا ہوگا ، چونکہ اللہ سبحانہ کی عنایت سے اسم باطن کا سیر انجام تک پہنچ گیا، اس لیے دوسرا باز و بھی مہیا ہو گیا اور مطلوب تک اڑنا میسر ہو گیا ، اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اس کی ہدایت کی ، اگر اللہ تعالی ہمیں ہدایت نہیں دیتا تو ہم ہدایت نہیں پاسکتے تھے، ہمارے پروردگار کے پیغمبر حق لے کر آئے ، اسم باطن کی سیر کے متعلق کیا لکھے کہ اس حال کے مناسب پوشیدگی اور راز داری ہی ہے اور بے ظن ہے ، اس مقام کے متعلق اس قدر ظاہر کیا جاتا ہے کہ اسم ظاہر کی تفصیل کی سیر صفات میں سیر ہے بغیر اس کے کہ ان کے ضمن میں ذات تعالی و تقدس ملحوظ ہو اور اسم باطن کی سیر میں اگر چہ اسما ءکی سیر ہے لیکن ان کے ضمن میں ذات ملحوظ ہے ، اسماءسیروں کے رنگ میں ہیں کہ ان کے ماوراء اللہ تعالیٰ کی ذات ملحوظ ہوتی ہے، مثلاً علم میں ذات ملحوظ نہیں ہے اور اسم علیم میں ذات ملحوظ ہے علم کے پردے میں، کیونکہ علیم وہ ذات ہے جس کو علم ہے، پس علم میں سیر اسم ظاہر میں سیر ہے اور سیر فی العلیم اسم باطن میں سیر ہے ، اس پر تمام صفات و اسما ءکو قیاس کرو، یہ اسما ءجو کہ اسم باطن سے تعلق رکھتے ہیں ملائکہ کے مبادی تعینات ہیں ، اس فرق کو تھوڑا نہ خیال کرو اور یہ نہ کہو کہ علم سے علیم تک تھوڑی راہ ہے ، ہر گز نہیں ، جو فرق کہ خاک کے مرکز اور عرش کے درمیان ہے اس فرق کے ساتھ ایک قطرہ کا حکم رکھتا ہے جو کہ دریائے محیط کے ساتھ اس کو نسبت ہے، گفتگو میں تو نزدیک ہے لیکن حصول میں دور ہے، یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے، اسم ظاہر اور اسم باطن کے دو بازو کے حصول کے بعد جب پرواز واقع ہوئی اور عروجات میسر ہو گئے تو معلوم ہوا کہ یہ ترقیات اصل میں ناری حصہ ہیں اور عنصر ہوائی اور عنصر آبی اور ملائکہ کرام ان ترقیات میں شریک ہیں کیونکہ ان عناصر سے حصہ رکھتے ہیں اور اس سیر کے دوران واقعہ میں دکھایا گیا ہے گویا میں ایک راہ پر چل رہا ہوں اور بہت زیادہ چلنے کی وجہ سے بہت تھک گیا ہوں وجوب کے لحاظ سے اور میں ایک عصا رکھتا ہوں کہ شاید اس کی مدد سے چل سکوں ، لیکن میسر نہیں ہوتا تھا اور ہرخس و خاشاک میں ہاتھ ڈالتا ہوں کہ چلنے کی قوت حاصل ہو، میرے لیے چلنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ، جب ایک مدت تک میں نے اس حال میں سیر کیا تو ایک فنائے شہر ظاہر ہوا، اس فنا کے طے کرنے کے بعد اس شہر میں داخلہ واقع ہوا، معلوم کیا کہ یہ شہر تعین اول سے کنایہ ہے جو کہاسماء و صفات اور شیون و اعتبارات کے تمام مراتب کو جامع ہے ، نیز ان مراتب کے اصول کو جامع ہے اور اصول اصول اعتبارات ذاتیہ کے منتہا کی انتہا ہے کہ ان کا اعتبار علم حصولی کے ساتھ تعلق رکھتا ہے، اس کے بعد اگر سیر واقع ہو تو علم حضوری کے مناسب ہے اور یہ تعین اول تمام ولایت کا منتہا ہے، خواہ ولایت کبری ہو اور خواہ ولایت علیا ہو جو کہ ملاء اعلیٰ کے ساتھ مخصوص ہے اور جامع ہے تمام ولایت انبیا و ملائکہ کرام کو ، اس مقام میں ملاحظہ ہوا کہ آیا یہ تعین اول شاید وہی حقیقت محمدی ﷺہے جو کہ مشائخ نے کہا ہے؟ معلوم ہوا کہ نہیں ہے اور حقیقت محمدی ﷺ دوسری ہے جو کہ اوپر مذکور ہو چکا ہے، لہذا جو سیر کہ اس شہر کے اوپر واقع ہوتی ہے کمالات نبوت میں سیر ہوگی جو کہ انبیا کو اصالتاً حاصل ہے اور اولیائے کاملین کو ان حضرات کی اتباع کی وجہ سے حاصل ہے اور ان کمالات سے خاک کے عنصر کے لیے کافی حصہ ہے اور تمام اجزائے انسانی خوا ہ عالم امر سے ہوں یا عالم خلق سے سب اس مقام میں اس پاک عنصر کے تابع ہیں اور مرتبہ خواص بشریہ کے لیے خواص ملک اس راہ سے حاصل ہوئے ہیں ، اس لیے کہ عنصر (خاک) بشر کے ساتھ مخصوص ہے، اگر چہ عناصر اربعہ کے کمالات کمالات مطمئنہ سے اوپر ہیں جیسا کہ اس کی تحقیق کی جا چکی ہے لیکن مطمئنہ اس مناسبت کے واسطے سے جو کہ اس ولایت کے مقام سے رکھتی ہے اور عالم امر سے ملحق ہے، صاحب سکر ہے اور مقام استغراق میں یقیناً مخالفت کی مجال اس میں نہ رہی ہے اور عناصر( اربعہ ) کے لیے چونکہ مقام نبوت سے مناسبت زیادہ ہے اس لیے ان میں صحو غالب ہے، مجبور اًمخالفت کی صورت کو ان میں باقی رکھا ہے بعض منافع اور فوائد حاصل کرنے کے لیے جو کہ ان کے ساتھ متعلق ہیں۔
مکاشفہ: نمبر26
دو خدشوں کا جواب:
برادر عزیز خواجہ محمد ہاشم کشمی نے پوچھاتھا کہ بعض فضلا ء ان دو باتوں میں خدشہ رکھتے ہیں، ایک یہ کہ ہزار سال کے بعد حقیقت محمدی ، حقیقت احمدی ہو جاتی ہے اور عبارت کا تتمہ لکھا جو کہ اس فقرہ کے بعد واقع ہے اور دونوں اسم کا مسمی متحد ہو جاتا ہے، اس عبارت کو ملاحظہ کرنے کے بعد دیکھیں کہ وہ خدشہ باقی رہتا ہے یا نہیں، کیا چیز مانع ہے کہ ایک مسمیٰ اپنے ان دو ناموں کے ساتھ جن سے دو کمالات مخصوصہ مراد ہیں یکے بعد دیگرے طویل زمانہ کے بعد متحقق ہو اور ایک کمال سے دوسرے کمال کی طرف ترقی کرے جو کہ بالقوہ اس میں موجود تھا، یہ فلاسفہ کا قول ہے کہ انہوں نے مجردات میں تمام کمالات کے بالفعل حاصل ہونے کا اعتبار کیا ہے اور قوت سے فعل کی طرف ترقی کو جائز نہیں قرار دیا ہے، یہ ان کی کوتاہ نظری کے باعث ہے، جس شخص کے دودن برا بر ہوں تو وہ خسارے میں ہے،اس وجہ سے ممکن ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام جن کا نزول آنجناب ﷺ کی بعثت کے ایک ہزار سال کے بعد( کسی وقت ) ہوگا ، آنحضرت ﷺکو احمد کے نام سے یاد کیا ہے اور اپنی قوم کو آنحضرت ﷺکی تشریف آوری کی بشارت اس نام سے دی ہے جو کہ اس اسم کی دولت کا زمانہ ہے ، ورنہ اس غیر مشہور نام کو یاد کرنے کی کیا گنجائش تھی کہ ایک مخلوق اشتباہ میں پڑ جائے اور اسم سےمسمی کی طرف راہ نہ پائے ، نیز اس سے قیاس کرنا چاہیے کہ آنجناب ﷺ زمین پر محمدﷺ ہیں اور آسمان پر احمد ، کیونکہ کمالات محمدی ﷺ اہل زمین کے ساتھ مناسبت رکھتے ہیں اور کمالات احمدی ﷺ آسمان اور ملاء اعلیٰ سے اور جب آنجناب ﷺکی رحلت کو ایک ہزار سال گزر جائے جس مدت کو پورا دخل ہے اور امور کے تغیر و تبدل کے باعث آپ کو اہل زمین سے مناسبت کم رہے تو کمال احمدی طلوع کرے اور اس کمال کے علوم و معارف کا ظہور فرما ئیں تو خدشہ کیا ہے؟ اور تردد کیا ہے جو کہ خدشہ میں بیان کیا ہے ، جہاں کہ حقیقت ہے وہاں زمانہ نہیں ہے اور نہ تغیر و تبدل ہے، کہ یہ سوال پیدا کیا جائے کہ حقیقت سے کیا مراد ہے اور تغیر و تبدل سے کیا مطلوب ہے، قلب حقیقت نہیں ہے بلکہ حقیقت کا ایک کمال سے دوسرے کمال کی طرف تقلب ہے اور ایک رنگ سے دوسرے رنگ میں رنگنا ہے ، اس بیان سے دو تشکیکات حل ہو گئے جو ظاہر کیے تھے کہ اس سے مراد اپنی حقیقت ہے ورنہ ہزار کی قید کیوں ہے اور کیوں کہا ہے کہ ہزار سال کی دعا قبول ہو گئی کیونکہ حقیقت احمدی ﷺواقع ہوگئی اور ہزار سال کا فائدہ واضح ہو گیا ، دوسرا خدشہ یہ ہے کہ اس صباحت و ملاحت سے کیا مراد ہے کہ ہمارے پیغمبر حضرت محمد مصطفے ﷺ اور حضرت خلیل الرحمن علیہ السلام اس کے جامع نہ تھے اور انہوں (حضرت مجدد )نے جمع کرایا ، صباحت و ملاحت سے وہی صباحت و ملاحت مراد ہے جس کے متعلق آنجناب ﷺ نے فرمایا: “میرے بھائی یوسف صبیح تھے اور میں ملیح ہوں ملاحت کو اپنے لیے ثابت کیا ، جو کہ ان کے پدر کلاں خلیل الرحمن علیہ السلام سے ان کو پہنچی ہے ،اگر ایک خادم خدمت گزاری کرے اور مشاطگی صاحب جمال کے حسن کو تازگی پہنچائے اور زینت بخشے اور زیب دار بنائے اور خوبی کے ساتھ اپنی دلالت اور صاحب جمال کو جمع کرے اور ایک دوسرے کے حسن کو ایک دوسرے کے ساتھ ملائے تو ان دو صاحبان جمال کا کیا قصور ہے؟ اور شان خدمت گاری کے حسن میں کونسا نقص ہے؟ خادموں کا مخدوموں کی امداد کرنا مخدوموں کی عظمت شان کو ظاہر کرتا ہے اور ان کی ہیبت و جاہ کے کمال کی خبر دیتا ہے، جس مخدوم کے پاس خدام نہیں ہیں کہ اس کی خدمت کریں اور اس کی امداد و اعانت کریں وہ اس بادشاہ کی طرح ہے جس کے پاس خدم و حشم ہوں اور بغیرلشکر اور فوجیوں کے زندگی گزارتا ہے، امداد و اعانت تمام لوگوں سے قصور ہے لیکن خدم و حشم کی طرف سے کمال اور محمود ہے اور بصیرت چاہیے کہ تفریق کرے اور محمود کو مذموم سے جدا کرے ، سبحان اللہ وبحمدہ، کچھ لوگ ایسے ہیں کہ ان میں سے کسی شخص کے ہزاروں ہنر ظاہر ہوں اور بظاہر ایک عیب بھی رکھتا ہو تو اس عیب کو پیش نظر رکھتے ہیں اور ہنروں کو پس پشت ڈال دیتے ہیں اور زبان ملامت دراز کرتے ہیں ، وہ نہیں جانتے کہ وہ عیب بھی شاید ظاہر سے پھرا ہوا ہو اور دانشمندی پر مشتمل ہو، ایسے کلام جو کہ ظاہر سے پھرے ہوئے ہیں کتاب وسنت میں اور مشائخ طریقت کے کلام میں بہت زیادہ ہیں، اسلام میں یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، اس قدر جاننا چاہیے کہ وہ شخص زندیق ہے جو کہ اپنے آپ کو نبی سے بہتر اور افضل سمجھے اور نبی کو بعض امور میں اپنا تابع سمجھے اور عبارتوں سے اس معنی کا وہم کرنا صاحب عبارت کے زندقہ کا حکم لگاتا ہے، حضرت حق سبحانہ و تعالی انصاف کرے
رومی نے کوئی کفر کہا ہے نہ کہے گا منکر نہ ہو اس سے کہ یہی کفر و بلا ہے
میں صاحب خدشہ کو محب سمجھتا تھا اور قبول کرنے والا خیال کرتا تھا ، انکارکی صورت کہاں سے پیدا کی اور ایک دم عناد کی راہ اختیار کی ، جو سوالات عناد و تعصب کی وجہ سے پیدا کیے ہیں وہ جواب کے مستحق نہیں ہیں اور معذرت کے مستوجب نہیں ہیں لیکن تم چونکہ متوسلوں میں سے ہو اس لیے اس کے جواب کے لیے لب کشائی کی گئی اللہ سبحانہ صواب کا الہام کرنے والا ہے اور اس کی طرف مرجع اور لوٹنے کی جگہ ہے۔
  مکاشفہ : 27
خلق عیال اللہ ہے:
اے مخدوم مکرم ! حدیث قدسی میں آیا ہے کہ ” خلق میرے عیال ہیں“
جب مخلوقات اس کے عیال ہوں تو ان کے ساتھ احسان مولی جل شانہ کی کس قدر خوشنودی کا سبب ہوگا کہ یہ اللہ تعالی کے اعیال کے ساتھ احسان ہے اور منقول ہے کہ تمہارے جد بزرگوار حضرت شیخ قدس سرہ اس کمال شفقت ومہربانی کی بنا پر جو کہ ان کو تلوقات پرتھی دعاء کرتے تھے کہ خدایا تو مجھ کو اس قدر بڑا اور جسم بنا دے کہ سارا دوزخ مجھ سے اس طرح پر ہو جائے کہ کسی گنہ گار کی اس میں گنجائش نہ ہو اور کسی گنہگار کو عذاب نہ دیا جائے اور بمصداق الولد سر لابیہ “ حضرت شیخ کی اولاد کرام سے بھی یہی قسم متوقع ہے اور یقین جانیں کہ ان کا آنا فقرا کے لیے باعث سرور ہوا ہے ، حضرت حق سبحانہ و تعالی آپ کو مسرور رکھے اور آبائے کرام کے طریقہ ہوپر استقامت بخشے ۔
مکاشفه : 28
دنیا دار العمل ہے:
معلوم ہوا کہ یہ دار دار عمل ہے، فراغت و آسودگی کا گھر نہیں ، چاہیے کہ اپنی ہمت کو اعمال میں پورے طور پر منہمک رکھیں اور اپنی فراغت اور عیش کو ایک طرف رکھیں، اپنی زبان کو لا اله الا اللہ “ کے ذکر کے ساتھ اس قدر مصروف بنا ئیں کہ بے ضرورت اس کلمہ طیبہ کے سوا گفتگو نہ کریں، چاہیے کہ زبان سے ذکر دل کی موافقت کے ساتھ خفی طریقہ پر کیا جائے ، اگر ہو سکے تو پانچ ہزار بار سے اس کلمہ کو کم نہ کہیں اور زیادتی میں انہیں اختیار ہے، کابلی اور ستی نصیب دشمناں ہو عمل کرنا چاہیے عمل کرنا چاہیے، عمل کرنا چاہیے۔ گھر میں اگر ہے کوئی تو ایک حرف بس ہے
مکاشفه : 29
عالم آب و گل کی حقیقت :
شک نہیں ہے کہ عالم حق سبحانہ کا پیدا کیا ہوا ہے اور ثبات و استقرار رکھتا ہے اور ابدی معاملہ کا تعلق دائمی عذاب و ثواب اخروی سے ہے جس کے متعلق مخبرصادق ﷺنے خبر دی ہے ، اس عالم کو علمائے ظواہر موجود خارجی جانتے ہیں اور آثار خارجی سمجھتے ہیں اورصوفیہ عالم کومو ہوم جانتے ہیں اور وہم وحس کے سوا اور کسی مرتبہ میں اس کا ثبوت و اثبات نہیں کرتے ہیں، ایسا موہوم نہیں جو کہ محض وہم کے اختراع کے باعث ہوا ہو کہ وہم کے مرتفع ہونے سے وہ بھی مرتفع ہو جائے ، ہرگز نہیں، بلکہ حق جل وعلا کی صنعت کی وجہ سے مضبوط اور مستحکم ہے ، مرتبہ وہم میں ثبوت و تقرر پیدا کیا ہے اور موجود کا حکم اختیار کر لیا ہے، ان بزرگوں کے نزدیک خارج میں موجود صرف حق سبحانہ و تعالی ہے اور عالم کا ثبوت صرف علم میں ہے اور خارج میں بھی ثبوت و تقرر کے سوا اس کے حصے میں نہیں ہے وَلِلَّهِ ‌ٱلۡمَثَلُ ٱلۡأَعۡلَىٰۚ للہ کے لیے بلند مثال ہے ) اس موجود حقیقی جل شانہ اور اس موہوم خارجی کی مثال نقطہ جوالہ ہے اور دائرہ موہومہ جو کہ مرتبہ حس وو ہم میں اس نقطہ کی تیزی رفتار کی وجہ سے پیدا ہوا ہے اور وہم میں ایک ثبوت پیدا کیا ہے، پس حقیقت میں دائرہ کا ثبوت صرف وہم میں ہے، ورنہ موجود صرف وہی نقطہ ہے ۔
ہے یہی اچھا کہ محبوبوں کا راز یوں کہیں جیسے کہ ہے غیروں کی بات
چونکہ عالم جو اعراض (وہ اشیاء جو قائم بالذات نہ ہوں)مجتمعہ ہے ، ذاتیت اور جو ہر یت(کسی شے کی اصل) اس میں کائن (موجود)نہیں ہے کہ اس کے ساتھ اعراض کا قیام ہو اور ذات موہوب (بخشا گیا)کے ساتھ قیام ہو ، عارف تام وہ معرفت دیتا ہے ، اس کو ان پر مقدم بنا تا ہے اور اس ذات موہوب کو بے چونی سے کوئی حصہ نہ ہوگا ، جیسا کہ اس کی تحقیق دوسرے مکاتیب میں کی گئی ہے اور جب بے چونی سے حصہ پیدا کر کے دید و دانش سے باہر ہو گیا اور فہم و وہم سے خارج ہو گیا تو عقل سلیم جس قدر جستجو میں رہے اس سے کچھ حاصل نہ کرے، تیزی رفتار کے باوجود جس قدر بھی دور دور تک جائے کچھ بھی پتہ نہ پائے اور وراء الورا پائے ، جو ہر یت اور امکان کے باوجود جو ہر یت اور امکان کا حکم اس میں مفقود ہے اور نیستی کے حکم کے علاوہ کوئی اور حکم قبول نہیں کرتا ہے۔
حدیث جامع الخیرات:
نوادر الاصول میں حضرت عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، انہوں نے بیان کیا : ” ایک دن رسول اللہﷺ باہر تشریف لائے ، اس وقت ہم لوگ مدینہ مشرفہ کی مسجد میں تھے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے آج رات عجیب بات دیکھی، میں نے اپنی امت میں سے ایک شخص کو دیکھا کہ موت کا فرشتہ اس کی روح قبض کرنے آیا تو والدین کے ساتھ اس کا حسن سلوک آیا اور اس فرشتے کو واپس کر دیا اور میں نے اپنی امت کے ایک شخص کو دیکھا کہ عذاب قبر اس پر پھیلا ہوا تھا تو اس کا وضو آیا اور اس عذاب کو اس سے دور کر دیا اور میں اپنی امت کے ایک شخص کو دیکھا کہ شیاطین نے اس کا احاطہ کر لیا تھا، اللہ کا ذکر آیا اور اس کو ان سے نجات دلائی اور میں نے اپنی امت کے ایک شخص کو دیکھا کہ عذاب کے فرشتے اس کو گھیرے ہوئے تھے تو اس کی نماز آئی اور ان کے ہاتھوں سے اس کو چھڑایا اور میں نے اپنی امت کے ایک شخص کو دیکھا ، جب بھی حوض کے پاس آتا تو اسے روک دیا جاتا ، اس کا روزہ آیا او( اس نے ) اسے پلایا اور سیراب کیا اور میں نے اپنی امت میں سے ایک شخص کو دیکھا کہ انبیا حلقے بنا کر بیٹھے ہوئے تھے ، جب بھی یہ شخص ان کے حلقوں کے پاس پہنچتا تو وہ بھگا دیا جاتا ، اس کا غسل جنابت آیا اور اس کو پکڑ کر حلقے کے پاس بٹھا دیا اور میں نے اپنی امت کے ایک شخص کو دیکھا کہ اس کے آگے تاریکی تھی ، اس کے پیچھے تاریکی تھی ، اس کے دائیں تاریکی تھی اور اس کے بائیں تاریکی تھی ، اس کے اوپر تاریکی تھی اور اس کے نیچے تاریکی تھی تو اس کا حج اور عمرہ آیا اور اس کو نجات دلائی اور نور میں اسے داخل کیا یا فرمایا کہ ان دونوں نے اس کو نجات دلائی اور میں نے اپنی امت میں سے ایک شخص کو دیکھا جو مومنین سے کلام کرتا تھا لیکن وہ لوگ اس سے کلام نہیں کر رہے تھے تو صلہ رحم آیا اور کہا کہ اے مومنین کی جماعت اس سے کلام کرو، تو ان لوگوں نے اس سے کلام کیا اور میں نے اپنی امت میں سے ایک شخص کو دیکھا کہ اس حال میں کہ آگ اور اس کے شرارے اس کے سامنے بھڑک رہے تھے تو اس کا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر آیا اور اس کو ان کے ہاتھوں سے چھڑایا اور ملائکہ رحمت کے ساتھ داخل کیا اور میں نے اپنی امت کے ایک شخص کو دیکھا جو اپنے گھٹنوں کے بل پڑا تھا، اس کے اور اللہ کے درمیان حجاب تھا، اس کا حسن خلق آیا اور اس کو اللہ کے سامنے پیش کر دیا اور میں نے اپنی امت میں سے ایک شخص کو دیکھا جس کا صحیفہ اس کے بائیں طرف گرا ہوا تھا، خوف الہی آیا اور اس کے صحیفہ کو لے کر اس کے دائیں ہاتھ میں ڈال دیا اور میں نے اپنی امت میں سے ایک شخص کو دیکھا جس کا میزان ہلکا تھا تو افراط(کثرت) نے آکر اس کے میزان کو وزنی کر دیا اور میں نے اپنی امت میں سے ایک شخص کو دیکھا جو جہنم کے دہانے پر کھڑا تھا ، اس کا علم آیا اور اس کو اس سے نجات دلائی، پھر وہ گزر گیا اور میں نے اپنی امت میں سے ایک شخص کو آگ میں دیکھا تو اس کے وہ آنسو آئے جو آگ کے متعلق اللہ تعالی کے خوف سے بہے تھے اور اس کو آگ سے نکلوایا اور میں نے اپنی امت میں سے ایک شخص کو دیکھا جو صراط پر کھڑا تھا اور شعلہ کی طرح کانپ رہا تھا تو اللہ کے ساتھ اس کا حسن ظن آیا اور اس کا کانپنا موقوف ہوا اور میں نے اپنی امت میں سے ایک شخص کو دیکھا کبھی گھسٹ کر چل رہا تھا اور کبھی گھٹنوں کے بل چل رہا تھا تو اس کی نماز آئی اور اسے سیدھا کھڑا کیا تو وہ صراط پر گزر گیا اور میں نے اپنی امت میں سے ایک شخص کو دیکھا جو جنت کے دروازوں تک پہنچا تو دروزے اس کے سامنے بند کر دیئے گئے تو لا الہ الا اللہ” کی شہادت آئی اور دروازے اس کےلیے کھول دیئے اور اس میں داخل کر دیا ۔
مے باقی وماہتاب باقی ما راز تو صد حساب باقی

نوٹس : ویب سائیٹ میں لفظی اغلاط موجود ہیں، جن کی تصیح کا کام جاری ہے۔ انشاء اللہ جلد ان اغلاط کو دور کر دیا جائے گا۔ سیدنا مجدد الف ثانی علیہ رحمہ کے مکتوبات شریف کو بہتر طریقے سے پڑھنے کے لئے کتاب کا مطالعہ ضرور کریں۔ جزاک اللہ خیرا