154

صورت کعبہ اور حقیقت کعبہ مکتوب نمبر 124دفترسوم


صورت کعبہ اور حقیقت کعبہ شیخ محمد طاہر بخشی کی طرف صادر فرمایا ہے۔ 

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفٰى سب تعریف اللہ ہی کے لئے ہے اور اس کے برگزیدہ بندوں پر سلام ہو۔

) برادرم محمد طاہر بدخشی نے دریافت کیا تھا کہ رساله مبدأ  و معاد میں واقع ہے کہ صورت کعبہ جس طرح صورت محمد کی مسجود ہے اسی طرح حقیقت کعبہ(مراد حق تعالیٰ ہے جو سجدے اور عبادت کے لائق ہے) بھی حقیقت محمدی سے افضل ہے حالانکہ ظاہرو مقرر ہے کہ جہاں کی پیدائش سے مقصودآنحضرت علیہ الصلوة والسلام ہیں اور آدم اور آدمیان سب ان کے طفیلی ہیں جیسے کہ وارد ہے۔ لو لاک لما خلق الا فلاک ولما أظهرت الربوبية ( اگر تو نہ ہوتا تو میں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا اور اپنی ربوبیت و خدائی ظاہر نہ کرتا)

جاننا چاہئے کہ صورت کعبہ پتھرومٹی سے مراد نہیں ہے کیونکہ بالفرض پتھرومٹی نہ بھی ہوں تو پھر بھی کعبہ کعبہ ہے اور خلائق کامسجود ہے بلکہ صورت کعبہ باوجود یکہ عالم خلق سے ہے لیکن اور اشیاء کی خلقت کی طرح نہیں ہے بلکہ ایک ایسا پوشیدہ امر ہے جوحس و خیال کے احاطہ سے باہر ہے گو عالم محسوسات میں سے ہے لیکن کچھ بھی محسوس نہیں اور اگر چہ اشیاء کا متوجہ الیہ(جس کی طرف توجہ کی جائے) ہے لیکن کچھ بھی توجہ میں نہیں ہے وہ ایک ہستی ہے جس نے نیستی (فنائیت)  کا لباس پہنا ہے اور ایک نیستی ہے جوہستی کے لباس میں ظاہر ہے جہت میں ہو کر بے جہت ہے اور سمت میں ہو کر بے سمت ہے غرض یہ صورت حقیقت نما نہایت ہی عجیب ہے جس کی تشخیص میں عقل عاجز ہے اورعقلمند اس کے تعین میں حیران ہیں گویا عالم بیچونی وبیچگونی کانمونہ رکھتی ہے اوربے شبہی اور بے نمونی کا نشانہ اس میں پوشیدہ ہے ہاں اگر ایسی نہ ہوتی تو مسجود ہونے کے لائق نہ ہوتی اور بہترین موجودات علیہ الصلوۃ والسلام بڑے شوق سے اس کو اپنا قبلہ نہ بناتے۔ فيه آیات بینات اس میں نشان ظاہر ہیں اس کی شان میں نص قاطع ہے۔ اور من دخله كان امنا ( جو اس میں آگیا وہ امن میں ہو گیا) اس کے حق میں ہے بیت اللہ ہے کہ صاحب خانہ جل شانہ کی بیتوتت خاص(رہنا سہنا گھر والا ہونا) اسی میں ہے اور بیچون وبیچگون کا مجہول الکیفیت اتصال ونسبت اس کے ساتھ ہے ۔ ولله المثل الأعلی مثال اعلى الله تعالی کے لیے ہے ) عالم مجاز میں جو حقیقت کا پل ہے بیت یعنی  خانہ و گھر اس بیتوت(آرام کرنے کی جگہ) کی خبر دیتا ہے کہ صاحب خانہ کے قرار و آرام کی جگہ ہے۔ اگرچہ دولت مندوں اور اہل دول کی نشست و برخاست کے مکان بے شمار ہیں لیکن یہ ایسا گھر ہے جو اغیار کی مزاحمت سے بیگانہ ہے اور  معشوق حقیقی کا مکان اور آرام گاہ ہے۔ اگر چہ حدیث قدسی وَلَكِنْ يَسَعُنِي قَلْبُ عَبْدِي الْمُؤْمِنِ(لیکن میں اپنے مومن بندے کے دل میں سماتا ہوں ) کے موافق مومن بندے کا دل بیچونی ظہور کی گنجائش حاصل کر لیتا ہے لیکن بیتیت یعنی  گھر ہونے کی نسبت جو بیتوتت کی خبر دیتی ہے کہاں حاصل کرسکتا ہے اور اغیار کی مزاحمت کو جو گھر کے لوازم سے ہے تا کہ غیر کو سجدہ نہ ہو کیونکہ غیریت مسجود ہونے کے منافی ہے حضرت محمد رسول الله ﷺنے اپنی طرف سے سجده تجویز نہ کیا لیکن بیت الله کی طرف بڑے شوق و رغبت کے ساتھ سجدہ کیا اس بیان سے فرق معلوم کر لیں۔ شتان ما بين الساجد والمسجود(ساجد ومسجود کے درمیان بہت فرق ہے ) میرے بھائی جب تو نے صورت کعبہ کا تھوڑا ساحال سن لیا تو اب حقیت کعبہ کی نسبت بھی کچھ سن لے حقیقت کعبہ(مراد حق تعالیٰ ہے جو سجدے اور عبادت کے لائق ہے) اس بیچون ( بے مثل)واجب الوجود کی ذات سے مراد ہے جہاں تک ظہور اور طلب کی گرد بھی نہیں پہنچی اور مسجود اور معبود ہونے کے لائق ہے اس حقیقت جل شانہ کو اگر حقیقت محمدی کی مسجود کہیں تو اس میں کیا ڈر ہے اور اس سے اس کے افضل ہونے میں کیا ہرج ہے۔ ہاں حقیقت محمدی جہان کے تمام افراد کی حقیقتوں سے افضل ہے لیکن کعبہ معظمہ کی حقیقت عالم کی قسم سے نہیں۔ تا کہ اس کی طرف نسبت کی جائے اور اس کے افضل ہونے میں توقف کیا جائے، تعجب ہے کہ ان دونوں صاحب دولتوں کی صورتوں کا فرق ساجد ومسجود ہونے کے باعث ہے صاحب ہنرعقلمندوں نے ان دونوں کے حقائق کا تفاوت معلوم نہیں کیا ۔ اسی لیے اعراض و انکار کے مقام میں رہے ہیں اور طعن وتشنیع کے لیے زبان دراز کی ہے حق تعالی ان کو انصاف دے تاکہ بے سوچے سمجھے ملامت نہ کریں رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِي أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ (یا اللہ  تو ہمارے گناہوں اور کام کی زیادتی کو بخش اور ہم کو ثابت قدم رکھا اور کافروں پر ہمیں غلبہ دے) وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى (سلام ہو اس شخص پر جس نے ہدایت اختیار کی )

نوٹس : ویب سائیٹ میں لفظی اغلاط موجود ہیں، جن کی تصیح کا کام جاری ہے۔ انشاء اللہ جلد ان اغلاط کو دور کر دیا جائے گا۔ سیدنا مجدد الف ثانی علیہ رحمہ کے مکتوبات شریف کو بہتر طریقے سے پڑھنے کے لئے کتاب کا مطالعہ ضرور کریں۔ جزاک اللہ خیرا