95

حضرت مجد دعلیہ الرحمہ کے ظہور کے متعلق آیات احادیث سے اشارہ


حضرت مجد دعلیہ الرحمہ کی ولادت اور آپ کے علم شریعت اور طریقت کے بیان میں آپ کے ظہور کے متعلق آیات احادیث سے اشارہ کوئی نص صریح تو ہماری نظر سے آپ کے ظہور کی نسبت نہیں گزری۔ لیکن بغبوائے آیہ شريف وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ ، غور کرنے سے آپ کے وجود با وجود کی طرف اشارت ظاہر ہوتی ہے۔

چنانچہ آیت شریف ثلة منَ الَا وَّلِينَ وَ قَلِيلٌ مِّنَ الْآخِرِينَ . پتہ دے رہی ہے کہ آخر زمان میں بھی تھوڑے بزرگ مقربین بارگاہ الہی مثل اولین کے ہونگے ۔ اور آپ اور آپ کے خلفاء متاخرین اولیاء سے ہیں اور بسبب اتباع سنت آپ کا طریق مماثل طریق اولین یعنی اصحاب کبار رضی اللہ عنہ کے ہے۔ چنانچہ شاہ ولی اللہ اور شاہ عبد القادر محدث دہلوی وغیرہ مفسرین نے لفظ آخرین سے آپ کی ذات اور آپ کے خلفاء مراد لئے ہیں اور بعض احادیث بھی اس تفسیر کی موید موجود ہیں جیسا کہ سنن ترمذی میں مروی ہے کہ

قال رسول الله : مَثَلَ أُمَّتِي كَمَثَلِ الْمَطْرِ لا يُدْرِى أَوَّلُهَا خَيْرَامُ اخْرُهَا

ارشاد فرمایا رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے کہ میری امت مثل بارش کے ہے۔ نہیں معلوم کہ اس کا پہلا حصہ بہتر ہے یا آخر کا۔

جامع الدرر میں ہے۔ قالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللهَ يَبْعَثُ فِى هذه لِأُمَّتِ على رَأسِ كُلّ مِائَةِ سَنةٍ مَنْ يُجَدِ دُلَهَا أمر دينها

( ترجمہ ) ارشاد فر ما یا نبی صلى الله عليه وسلم نے ہر صدی کے شروع میں اس امت سے اللہ تعالیٰ ایک مجدد کو بھیجتا رہے گا جو دین کو نئے سرے سے درست کرتا رہے گا ۔

جمع الجوامع میں امام سیوطی نے نقل کیا ہے کہ قالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكُونُ رَجَلَ فِي أُمَّتِي يُقَالُ لَهُ حِلَّةَ يَدْخُلُ الْبَنَّمةَ بِشَفَاعَتِه كَذَا كَذَا

(ترجمہ) ارشاد فرمایا نبی صلى الله عليه وسلم نے میری امت میں ایک شخص صلہ ہوگا ( یعنی مخلوق کو خالق سے ملانے والا یا شریعت کو طریقت کے ساتھ جمع کرنے والا ) جس کی شفاعت سے اتنے اتنے یعنی بے شمار آدمی جنت میں داخل ہو نگے ۔
دونوں معنی کے لحاظ سے آپ کی ذات بابرکات صلہ اور مصداق حدیث ہے۔

دوسری حدیث روضہ قیومیہ میں وارد ہے کہ يُبْعَثُ رَجُلٌ عَلَى أَحَدِ عشَرَ مِائَةِ سَنهِ هُو نُورٌ عَظِيمَ اِسمُهُ اِسْمِي بَيْنَ السُّلْطَانَيْنَ الْجَابِرَيْنَ وَ يَدْخُلُ الْجَنَّةُ الونا
ترجمه
گیارھویں صدی کے شروع میں دو جابر بادشاہوں کے درمیان ایک شخص بھیجا جائے گا۔ وہ میرا ہم نام اور نو عظیم الشان ہوگا اور ہزاروں آدمیوں کو اپنے ساتھ جنت میں لے جائے گا۔

نوٹس : ویب سائیٹ میں لفظی اغلاط موجود ہیں، جن کی تصیح کا کام جاری ہے۔ انشاء اللہ جلد ان اغلاط کو دور کر دیا جائے گا۔ سیدنا مجدد الف ثانی علیہ رحمہ کے مکتوبات شریف کو بہتر طریقے سے پڑھنے کے لئے کتاب کا مطالعہ ضرور کریں۔ جزاک اللہ خیرا