87

:حضرت امام ربانی علیہ رحمہ کی ولادت کا بیان


یہ تحریر سننے کے لئے پَلے کا بٹن دبائیں۔ آواز کی رفتار تیز یا کم کی جا سکتی ہے

:اکبر بادشاہ پر ایک جعلی کتاب کا نزول اور مجدد اسلام کی ضرورت

اکبر بادشاہ کے عہد میں جس قدر کفر و الحاد کو فروغ اور شرح اسلام کو ضعف اور انحطاط ہو گیا تھا۔ محتاج بیان نہیں۔ دربار کا آداب سجدہ تھا اور بادشاہی کا مہر ی جل جلاله ما اکبر شانه تھا۔ وزیر ابوالفضل نے ایک کتاب بادشاہ کو لا کر دی اور کہا کہ آسمان سے آپ کے واسطے فرشتہ لایا ہے تا کہ آپ اس پر عمل کریں۔

چنانچہ اس کتاب میں ایک آیت یہ بھی تھی یا أَيُّهَا الْبَشَرُ لَا تَذْبَحَ الْبَقَرَ وَانْ تَذْبَحَ يَا الْبَقَرَ فَمَا وَاكَ السَّعَرُ ( ترجمہ ) اے بشر تو گائے کو ذبح مت کر اور جو تو کرے گا تو ٹھکانہ تیرا جہنم میں ہوگا۔

شخصی طاقتیں بادشاہی کے مقابلہ سے عاجز تھیں۔ امداد غیبی کا ہر کس و ناکس کو انتظار تھا اور امام وقت مجد د اسلام کے ظہور کے لئے سب چشم براہ تھے ۔

!آپ کی ولادت باسعادت کا بیان

منقول ہے کہ 10محرم 971 ھ شب جمعہ کو ایک نور عالم تاب آسمان سے ظاہر ہوا اور تمام خلقت نے مشاہدہ کیا۔ اسی تاریخ میں آپ نے شکم صادر بزرگوار میں قرار پکڑا ۔ عالم میں سرسبزی کے آثار نمودار ہوئے۔ ارکان دین استوار ہوئے ۔ زمین و آسمان میں غلغلہ شادمانی بلند ہوا اور خطہ ہند اس اعزاز سے ارجمند ہوا

بعد گزر نے مدت حمل ۹ ماه ۴ روز اس آفتاب جاہ و جلال انوار ذوالجلال حامی بدعت نے بوقت مسعود شب جمعہ کو تاریخ ۱۴ شوال ۹۷ برج حمل سے مطلع شہر سر بند میں طلوع پایا انوار جہان آراء سے عالم و عالمیان کو منور کیا۔ ہر گل و غنچہ پر نور تھا اور ہر شگوفہ و بونا ر شک طور تھا۔

!اثنائے ولادت کے واقعات

آپ کی ولادت باسعادت کے وقت آٹھ واقعے پیش ہوئے۔ جن کی تفصیل دفعہ قیومیہ میں یہ مندرج ہے

(1) کل اولیا ء امت نے جمع ہو کر آپ کی والدہ ماجدہ کو مبارکباد دی اور آپ کے مدارج عالیہ بیان کئے ۔


(۲) آپ کے والد ماجد نے آنحضرت صلى الله عليه وسلم اور دیگر انبیاء علیہم السلام کو دیکھا کہ تشریف لا کر آپ
کے کانوں میں اذان و تکبیر کہی اور آپ کے مدارج بیان فرمائے۔


(۳) آپ کے والد ماجد نے انبیاء مرسلین اور اولیاء کاملین اور ملائک مقربین کو مع ستر ہزار علم سبز دیکھا اور آپ کے فضائل بیان کرتے ہوئے سنا۔


(۴) شیخ عبد العزیز خلیفہ حضرت شیخ عبد القدوس گنگوہی قدس سرہ العزیز آپ کی ولادت کے وقت سرہند شریف میں موجود تھے ۔ آپ نے دیکھا کہ ملائک کا ہجوم ہے اور سب آپ کے فضائل بیان کر رہے ہیں ۔

(۵) شیخ ابوالحسن چشتی قدس سرہ آپ کی ولادت کے وقت سرہند شریف میں موجود تھے۔ آپ نے دیکھا کہ تمام انبیاء اور اولیاء جمع ہیں۔ ایک بزرگ نے نمبر پر چڑھ کر بیان کیا کہ جس قدر کمالات اس وقت تک علیحدہ علیحدہ اور اولیاء کو دیئے گئے تھے ۔ آپ کو اس کا مجموعہ عطا کیا گیا۔

(۶) آپ کی ولادت سے ایک ہفتہ قبل تک مزمار و مزامیر سب باجے بیکار رہے۔ بہت سے قوالوں مطربوں ارباب نشاط نے حیرت زدہ ہو کر توبہ کی۔

(۷) صوفیان ارباب سماع و سرود کو آپ کی ولادت سے ایک ہفتہ تک کیفیت سے مسدود رہی ۔ کشف سے آپ کے فضائل اور مقامات عالی منکشف ہوئے ۔ اسی بناء پر آپ کے ظہور کے بعد اس وقت تک کے باقی ماندہ اولیاء نے آپ کی طرف رجوع کیا۔

(۸) آپ کی ولادت کے دن اکبر بادشاہ کا تخت اوندھا ہو گیا۔ ہر چندسیدھا کیا گیا مگر سیدھانہ ہوا۔ بادشاہ نے ایک وحشت ناک خواب دیکھا۔ ہیبت زدہ ہوکر معبروں سے بیان کیا۔ انہوں نے تعبیر دی کہ کسی بزرگ کے ظہور سے آپ کے آئین میں تزلزل واقع ہوگا۔ چنانچہ ویسا ہی ہوا۔

!آپ کا زمانہ طفولیت

متابعت آنحضرت صلى الله عليه وسلم آپ مختون پیدا ہوئے ۔ آپ عام بچوں کی طرح کبھی گریہ وزاری ا نہ فرماتے تھے۔ ہر وقت خندہ پیشانی رہتے۔ کبھی آپ بر ہنہ نہ ہوتے ۔ آپ کا بدن یا کپڑا کبھی نجس نہ ہوتا۔

!آپ اور حضرت شاہ کمال کیتلی قادری

ایک مرتبہ آپ بزمانہ رضاعت علیل ہو گئے ۔ آپ کے والد ماجد حضرت سید شاہ کمال کیتلی کو آپ کے اوپر دعا دم کرانے کی غرض سے بلا کر لائے ۔ انہوں نے آپ کو ملا حظہ فرمایا اور جوش میں آکر فرمایا۔ اللہ تعالیٰ اس کی عمر دراز کرے۔ یہ عالم باعمل عارف کامل ہوگا اور بہت سے بزرگ آپ اور مجھ جیسے اس کے دامن عافیت میں تربیت سے مستفید ہوں گے تاقیامت اس کا نور روشن رہے گا ۔ اکثر اولیاء امت اس کی ولادت باسعادت کی خبر دے گئے ہیں۔ باخبر بزرگ اس کے ظہور منتظر اور چشم براہ تھے۔ بعدہ شاہ صاحب نے اپنی زبان مبارک آپ کے دہن مبارک میں محبت سے دیدی۔ آپ نے بہت زور سے اس کو چوسا۔ شاہ صاحب نے فرمایا ہمارے طریقہ قادریہ کی تو تمام نعمت اس کو پہنچ گئی ۔

نوٹس : ویب سائیٹ میں لفظی اغلاط موجود ہیں، جن کی تصیح کا کام جاری ہے۔ انشاء اللہ جلد ان اغلاط کو دور کر دیا جائے گا۔ سیدنا مجدد الف ثانی علیہ رحمہ کے مکتوبات شریف کو بہتر طریقے سے پڑھنے کے لئے کتاب کا مطالعہ ضرور کریں۔ جزاک اللہ خیرا