196

حضرت امامِ ربانی اور غوث الاعظم کا تعلق خاص


حضرت غوث پاک کے خرقہ کی حوالگی اور شاہ سکندر قادری سے آپ کو خلافت

سابق میں مذکور ہوا ہے کہ قطب الوجود حضرت حضرت غوث الاعظم رضی اللہ عنہ نے اپنا خرقہ مبارک اپنے جانشین صاحبزادہ حضرت سید عبدالرزاق قدس سرہ العزیز کو آپکے حوالہ کرنے کیلئے تفویض فرمایا تھا اور آپ کے جانشینوں میں یکے بعد دیگرے امانتاََ چلا آتا تھا۔ وہ اسی سال آپ کے حوالہ کیا گیا۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ حضرت شاہ سکندری قادری قدس سرہ العزیز سے ان کے دادا حضرت شاہ کمال کیتلی نے خواب میں ظاہر ہو کر فرمایا کہ اس خرقہ مبارک کے وارث جن کیلئے حضرت غوث پاک علیہ الرحمہ نے وصیت فرمائی تھی شیخ احمد سرہندی ظاہر ہو گئے ہیں ان کے حوالہ کر دو ۔ انہوں نے خرقہ شریف کے تفویض کرنے میں یہ خیال کر کے تامل کیا کہ گھر کی نعمت گھر ہی میں رہے تو بہتر ہے۔ پھر دوبارہ آپ نے ظاہر ہو کر تاکید فرمائی۔ پھر بھی انہوں نے ٹالا ۔ تیسری مرتبہ بحالت غضبانی ظاہر ہو کر متنبہ فرمایا کہ اگر تم اپنی خیریت اور نسبت کی سلامتی چاہتے ہو تو خرقہ مبارک اس کے وارث کے حوالے کر دو ورنہ تمہاری نسبت و کرامت سلب کر لی جائے گی۔ شاہ سکندر ہیبت زدہ ہو کر خرقہ شریف لے کر امام ربانی کی خدمت میں تشریف لائے ۔ آپ بعد نماز صبح حسب عادت و حلقہ ذکر و توجہ میں مشغول مراقبہ فرما رہے تھے۔ آپ جب فارغ ہوئے خرقہ تفویض فرمایا۔ آپ نے زیب تن مبارک کیا، نسبت قادریہ نے آپ پر غلبہ اور استیلا کیا۔ نقشبندیہ مغلوب ہوگئی۔ بعدہ نسبت قادریہ کا غلبہ ہو گیا۔ ایسا ہی کئی مرتبہ ہوتا رہا

ارواح اولیاء کی آمد اور آپ کیلئے سابقت

جب سیدنا امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی رضی اللہ عنہ نے خواجہ باقی بااللہ سے بیعت کا اردہ فرمایا تو روح مبارک حضرت غوث الاعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت امیر المومنین سیدنا علی مرتضی کرم اللہ وجہہ مع بزرگان سلسلہ تشریف فرما ہوئے۔ ان کے بعد روح پر فتوح حضرت خواجہ بہاؤالدین نقشبند و حضرت امیر المومنین سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ مع بزرگان سلسلہ تشریف فرما ہوئے۔ دونوں حضرات میں باہم اشارات ہوئے۔


حضرت غوث الاعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضرت مجددالف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے بچپن میں ہی بلواسطہ ہمارے پوتے سید شاہ کمال قادری کے ان کی زبان چوس کر کامل فیضِ نسبت حاصل کیا ہے۔ لہذا ان پر ہمارے سلسلہ کی خدمت اور اشاعت کا بڑا حق ہے۔ حضرت خواجہ نقشبند علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ ہمارے طریق کا استحقاق اسی وجہ سے ان پر زیادہ ہے کہ بتوسط ہمارے خلیفہ خواجہ باقی باللہ کے حضرت خاتم الرسل صلى الله عليه وسلم کی امانت معبودہ انہوں نے پائی ہے۔ دونوں بزرگواروں کے اراح طیبات میں یہی گفتگو ہو رہی تھی کہ ارواح مقدسہ اکابر سلسلہ چشتیہ بھی تشریف فرما ہوئیں۔ انہوں نے بھی اپنا دعویٰ مع دلیل پیش فرمایا کہ آپ کے بزرگوں کی نسبت آبائی و اجدادی ہمارے سلسلہ کی ہے اور آپ نے ہمارے ہی آغوش پرورش میں نشو و نما پایا ہے اور سب سے پہلے ہمارے ہی سلسلہ کی خلافت حاصل کی ہے۔ لہذا ہمارے سلسلہ کا حق سب سے زیادہ ہے اس طرح ارواح عالیہ سہروردیہ کبرویہ طریق کے مشائخ عظام کی بھی تشریف فرما ہوئیں۔


انہوں نے بھی اپنا دعویٰ مع دلیل کے پیش کیا۔ غرض کہ قابطبتہ جمیع سلاسل کے پیشرو مشائخ کا اجتماع ہو گیا اور امر مابہ النزاع میں رد و بدل شروع ہوا۔ ہر ایک سلسلہ کے بزرگ آنجناب کی نسبت اپنے سلسلہ کے لئے خواہش کر رہے تھے کہ آپ انہیں کے سلسلہ کے شیخ قرار دیئے جائیں۔

سرہند شریف میں اولیاء اللہ کا ہجوم اور آنحضرت صلى الله عليه وسلم کا فیصلہ فرمانا

مولا نا ہاشم شمی اور مابدرالدین اپنی اپنی تواریخ میں رقمطراز ہیں کہ اس وقت اولیاء امت کا سرہند میں ایسا ہجوم ہوا تھا کہ شہر اور نواح شہر کے دیہات و قضبات کے کوچہ و بازار ارواح اولیاء کرام سے پر ہو گئے ۔ 11شعبان 1011ھ کی صبح سے آخر وقت نماز ظہر تک یہی معرکہ رہا۔ بالآ خر معاملہ حضرت خاتم المرسلین صلى الله عليه وسلم کی جناب میں فیصلہ کے لئے پیش ہوا اور خورشید رسالت نے ہر ایک بزرگ کو تسلی اور دلاسہ دے کر فیصلہ فرمایا کہ آپ سب بزرگوار اپنے اپنے کمالات نسبت بتمام و کمال اس بزرگ (شیخ احمد سرہندی ) کے حوالہ کر دیں کہ یہ سب سلسلوں میں داخل ہو جائیں اور تم سب کو علی النساوی اجر کا حصہ ملے گا مگر چونکہ سلسلہ نقشبندیہ خیر البشر بعد الانبیاء یعنی حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے اور اس میں اتباع سنت سُنيه واجتناب بدعت نامرضیہ سب سے زیادہ ملحوظ ہے لہذا یہ سلسلہ خاص خدمت تجدید سے زیادہ تر مناسبت رکھتا ہے۔ پس یہ سلسلہ اور سلسلہ قادریہ و سہر ورد یہ پیاس خاطر حضرت غوث الاعظم رضی اللہ عنہ ان سے زیادہ ترویج پائیں گے اور دوسرے سلاسل کبرویہ و چشتیہ بھی ان سے مروج ہوں گے ۔

سب طریقوں کی نسبت کا طریقہ مجددیہ میں شمول

پس جمعی مشائخ عظام نے اپنے اپنے کمالات اور نسبتیں آپ میں القاء فرما ئیں ۔ آپ نے سب کو اپنے طریق میں امتزاجاََ شامل کیا اور ان کو اپنی نسبت خاصہ سے جو جناب باری تعالیٰ سے بوساطت رسالت پناہی صلى الله عليه وسلم آپ کو خصوصیت سے عطا ہوئے تھے متدلج فرمایا ۔ پس طریقہ مجددیہ تمام امت کے اولیاء کے سلسلوں کو جامع ہے اور اس طریق کے سالکوں کو ہر ایک سلسلہ کے اولیا ء کا فیض حاصل ہوتا ہے اور سب سلسلہ کے مشائخ کی عنایت اس کے شامل حال ہوتی تھی چنانچہ حضرات قیوم اربعہ جملہ سلسلوں میں مرید فرماتے تھے مگر بعد آپ کے بلحاظ اتباع شرع شریف سوائے نقشبندیہ و قادر یہ طریقوں کے اور طرق میں مرید کرنے کی ممانعت ہوگئی کہ بعض طریق میں سماع بھی درست ہے اور اس طریقہ میں ممنوع –

رباب و نغمه و جمله نزامیر

بشد ممنوع از آیات و تفسیر

تعلیم نسبت قادریہ

ایک روز کا ذکر ہے کہ ایک طالب صادق نے ذوق کیفیت طریقہ قادریہ کی خواہش ظاہر کی۔ آپ نے ان کو اپنی صحبت میں رہنے کے لئے ارشاد فرمایا۔ وہ صاحب آپ کی خدمت میں حاضر ہونے لگے۔ آپ ان پر نسبت اکابر قادریہ کا اضافہ کرنے لگے جب ان کو دو تین روز گزر گئے ۔ آپ کے اجل مریدین نے جو خوان نعمت نقشبندیہ کے ریزہ چین تھے۔ اپنے احوال میں بستگی دیکھی۔ چار و ناچار ان میں سے ایک صاحب نے اس بستگی اور فیض احوال کی آپ سے شکایت کی کہ میں دو تین روز سے اپنی نسبت کو بیگانہ پاتا ہوں۔ نہیں معلوم مجھ سے کیا قصور سرزد ہوا۔ دوسرے درویش نے بھی ان کو اسی طرح کی شکایت کی ۔ آپ نے فرمایا تم سے کوئی قصور سرزد نہیں ہوا۔ اس بستگی کی وجہ یہ ہے کہ تم انوار اکابر نقشبندیہ رضی اللہ عنہم سے اقتباس کرتے ہو۔ میں ان صاحب کو دو تین روز سے نسبت اکابر قادریہ پہنچارہا ہوں۔ اس کے القاء کا راستہ کھل رہا ہے چونکہ تم اس نسبت سے مناسبت نہیں رکھتے ہو لا محالہ معطل ہو جب ہم انہی سیر کو اکابر خواجگان نقشبندیہ کی طرف رجوع کریں گے تو بستگی تمہاری دور ہو جائے گی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔

نوٹس : ویب سائیٹ میں لفظی اغلاط موجود ہیں، جن کی تصیح کا کام جاری ہے۔ انشاء اللہ جلد ان اغلاط کو دور کر دیا جائے گا۔ سیدنا مجدد الف ثانی علیہ رحمہ کے مکتوبات شریف کو بہتر طریقے سے پڑھنے کے لئے کتاب کا مطالعہ ضرور کریں۔ جزاک اللہ خیرا