133

جناب قدس تک پہنچانے والا راہ مکتوب نمبر 123دفترسوم


اس بیان میں کہ وہ راہ جو جناب قدس جل شانہ کی طرف پہنچانے والے ہیں، دو ہیں۔ نورمحمد تہاری کی طرف صادر فرمایا ہے۔ 

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ        اَلْحَمْدُ لِلَّهِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفٰى سب تعریف اللہ ہی کے لئے ہے اور اس کے برگزیدہ بندوں پر سلام ہو۔

) وہ راہ جو جناب قدس جل شانہ کی طرف لے جانے والے ہیں دو ہیں ایک وہ راستہ ہے جو قرب نبوت سے تعلق رکھتا ہے اور اصل الاصل تک پہنچانے والا ہے ۔ اس راہ کے پہنچنے والے بالاصالت انبیاءعلیہم الصلوة والسلام اور ان کے اصحاب ہیں اور امتوں میں سے بھی جس کسی کو چاہیں اس دولت سے سرفراز کرتے ہیں مگر یہ لوگ قلیل بلکہ اقل( بہت کم) ہیں ۔ اس راستے میں واسطہ اور حیلولہ(حائل بننا)نہیں ۔ ان واصلوں میں سے جو کوئی فیض حاصل کرتا ہے کسی کے واسطہ کے بغیر اصل سے حاصل کرتا ہے اور کوئی ایک دوسرے کا حائل نہیں ہوتا دوسرادہ راستہ ہے جوقرب ولایت سے تعلق رکھتا ہے۔ تمام قطب اور اوتاد اور ابدال اور نجیب عام اولیاء اللہ سب اسی راستہ سے واصل ہوئے ہیں راہ سلوک اسی راہ سے مراد ہے بلکہ جذبہ متعارفہ بھی اسی میں داخل ہے۔ اس راستے میں واسطہ اور حیلولہ ثابت ہے اسی راہ کے واصلوں کے پیشوا اور ان کے سرکردہ اور ان بزرگواروں کے فیض کا سرچشمہ حضرت علی کرم الله وجہ الکریم ہیں اوریہ عظیم الشان مرتبہ انہی کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔ اس مقام میں گویاآنحضرت ﷺکے دونوں مبارک قدم حضرت علی المرتضی کے سر مبارک پر ہیں اور حضرت فاطمہ اور حضرات حسنین رضی اللہ تعالی عنہم بھی اس مقام میں ان کے ساتھ شریک ہیں میرے خیال میں حضرت امیر رضی اللہ عنہ وجود عنصری میں  پیدائش سے پہلے بھی اسی مقام کی پناہ میں رہے ہیں جیسے کہ وجودعنصری کے بعد ہیں اور اس راہ سے جس کسی کو فیض و ہدایت پہنچا ہے انہی کے وسیلہ سے پہنچتا ہے کیونکہ اس راہ کا اخیری نقطہ یہی ہیں اور اس مقام کا مرکزا نہی سے تعلق رکھتا ہے جب حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ کا دور تمام ہوا یہ عظیم الشان مرتبہ ترتیب وار حضرات حسنین رضی اللہ عنہما کے سپرد ہوا اور ان کے بعد بارہ اماموں میں سے ہر ایک کے ساتھ ترتیب وتفصیل وار قرار پایا ان بزرگواروں کے زمانہ میں اور ایسے ہی ان کے انتقال فرما چکنے کے بعد جس کسی کو فیض و ہدایت پانچتا رہا انہی بزگواروں کے واسطے اور حیلولہ سے ہی پہنچا رہا۔ گو اپنے زمانہ کے اقطاب و نجباء ہی ہوئے ہوں لیکن سب کا ملجاء و ماوی میں بزرگوار ہوئے ہیں کیونکہ اطراف کو مرکز کے ساتھ ہونے سے پارہ نہیں حتی کہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہ کی نوبت آ پنی اور منصب مذکور اس بزرگ قدس سرہ کے سپرد ہوا۔ مذکورہ بارہ اماموں اور حضرت شیخ قدس سرہ کے سوا اور کوئی شخص اس مرکز پر مشہود نہیں ہوتا۔ اس راستہ میں تمام اقطاب ونجباء کو فیوض و برکات کا پہنچنا شیخ قدس سره ہی کے وسیلہ شریف سے مفہوم ہوتا ہے کیونکہ یہ مرکز شیخ قدس سرہ کے سوا کسی اور کومیسر نہیں ہوا اسی واسطے شیخ قدس سرہ نے فرمایا ہے۔ شعر۔

 افلت شموس الأولين و شمسنا  ابدا على أفق الاعلي لا تغرب

ترجمہ شعر پہلوں کے سورج غروب ہو گئے ہمارا سورج ہمیشہ روشنی دیگا 

شمس یعنی آفتاب سے مراد ہدایت وارشاد کے فیضان کا آفتاب ہے اور اس کے غروب ہونے سے مراد فیضان مذکور کا نہ ہونا ہے چونکہ حضرت شیخ قدس سرہ کے وجود سے وہ معاملہ جو اولین سے تعلق رکھتا تھا ۔ شیخ قدس سرہ کے سپرد ہوا اور رشد و ہدایت کے پہنچنے کا واسطہ و وسیلہ ہو گئے جیسے کہ ان سے پہلے بزرگوار ہوئے ہیں۔ نیز جب تک فیضان کے وسیلہ کا معاملہ بر پا ہے۔شیخ قدس سرہ کے توسل دتوسط ہی سے ہے اس لیے درست ہوا کہ افلت شموس الأولين و شمسنا  الخ

 سوال: یہ حکم  مجدد الف ثانی میں نقص پیدا کرتا ہے کیونکہ مکتوبات جلد دوم کے ایک مکتوب میں مجددالف معانی کے معنی اس طرح لکھے ہیں کہ اس مدت میں جس قسم کا فیض امتوں کو پہنچتا ہے اسی کے وسیلہ سے پہنچتا ہے اگر چہ وقت کے اقطاب واوتاد اور ابدال ونجباء ہوں۔

 جواب: میں کہتا ہوں کہ مجددالف ثانی سے مراد اس مقام میں حضرت شیخ قدس سرہ کا قائم مقام ہے اور حضرت  شیخ کی نیابت و قائم مقامی کے باعث یہ معاملہ اس پر وابستہ ہے جیسے کہتے ہیں۔ نور القمر مستفاد من نور الشمس (چاند کا نور سورج کے نور سے حاصل ہوا ہے)

سوال: مجدد الف ثانی کے معنی جو اوپر مذکور ہوئے ہیں مشکل ہیں کیونکہ مدت مذکورہ میں حضرت عیسی علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام نزول فرمائیں گے اور حضرت مہدی علیہ الرضوان بھی ظہور کریں گے اور ان بزرگواروں کا معاملہ اس سے برتر ہے کہ کسی کے وسیلہ سے فیوض اخذ کریں۔

 جواب: میں کہتا ہوں کہ تو سط و وسیلہ کا معاملہ مذکورہ بالا را ہوں میں سے دوسرے راستہ پر موقوف ہے جو قرب ولایت سے مراد ہے لیکن راه اول میں جوقرب نبوت سے مراد ہے تو سط و وسیلہ کا معاملہ مفقود ہے۔ اس راستہ سے جو کوئی واصل ہوا ہے کوئی حائل و متوسط در میان نہیں آیا۔ دوسرے کے وسیلہ کے بغیر اس کو فیوض و برکات حاصل ہوئے ہیں ۔ تو سط وحیلولہ فقط دوسرے راستہ میں ہے اور اس مقام کا معاملہ علیحدہ ہے جیسے گزر چکا ۔ حضرت عیسیٰ علی نبینا و علیہ الصلوة والسلام اور حضرت مہدی علیہ الرضوان راه اول سے حاصل ہیں جیسے کہ حضرات شیخين رضی اللہ عنہماآنحضرت علیہ الصلوة والسلام کی تبعیت کے ضمن میں راہ اول سے واصل ہوئے ہیں اور اپنے اپنے درجوں کے موافق وہاں شان خاص رکھتے ہیں ۔

 تنبیہ: واضح ہو کہ ممکن ہے کہ آدی قرب ولایت کے راستہ سے قرب نبوت تک پہنچ جائے اور ہر دو معاملہ میں شریک ہو اور انبیا علیہم الصلوة والسلام کے طفیل کو بھی جگہ دیدیں اور دونوں جگہوں کا معاملہ اس پر وابستہ کر دیں۔ 

خاص کند بنده – مصلحت عام را ترجمہ: خاص کر لیتا ہے اک کوتا بھلا ہو عام کا 

ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ یہ الله تعالی کا فضل ہے جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اللہ تعالی بڑے فضل والا ہے) سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ  وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ  وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ(پاک ہے تیرا رب اس وصف سے کہ جو وہ کرتے ہیں بزرگ اور برتر ہے اور اللہ تعالی کیلئے حمد ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے)

نوٹس : ویب سائیٹ میں لفظی اغلاط موجود ہیں، جن کی تصیح کا کام جاری ہے۔ انشاء اللہ جلد ان اغلاط کو دور کر دیا جائے گا۔ سیدنا مجدد الف ثانی علیہ رحمہ کے مکتوبات شریف کو بہتر طریقے سے پڑھنے کے لئے کتاب کا مطالعہ ضرور کریں۔ جزاک اللہ خیرا