89

امام ربانی علیہ رحمہ کی نسبت اولیاء سابقین کی بشارتیں


حضرت غوث پاک کا ارشاد

چنانچہ روضہ قیومیہ میں دیگر کتب معتبرہ سے منقول ہے کہ ایک روز حضرت غوث پاک اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کسی جنگل میں مراقبہ فرمارہے تھے ۔ یکا یک ایک نور آسمان سے ظاہر ہوا اس سے تمام عالم منور ہو گیا اور القا ہوا کہ آپ سے پانچ سو سال کے بعد جب کہ عالم میں شرک و بدعت پھیل جائے گی۔ ایک بزرگ وحید امت پیدا ہو گا ۔ وہ دنیا سے شرک والہاد کے نام کو نابود کرے گا۔ دین محمدی صلى الله عليه وسلم کو نئے سرے سے تازگی بخشے گا۔ اس کی صحبت کیمیائے سعات ہوگی ۔ اس کے صاحبزادے اور خلفاء بارگاہ حدیث کے صدر نشین ہوں گے۔ اس کے بعد آپ نے اپنے خرقہ خاص کو اپنے کمالات سے مملو کر کے اپنے صاحبزادہ سید تاج الدین عبد الرزاق رضی اللہ عنہ کے تفویض کیا۔ اور ارشاد فرمایا کہ جب ان بزرگ کا ظہور ہو یہ ان کے حوالہ کرنا اس وقت سے صاحبزادہ صاحب کی اولاد میں وہ خرقہ یکے بعد دیگر اسی طرح سپرد ہوتا رہا۔ نتھی کہ سلام ا ھ میں حضرت پیران پیر آپ کے پوتے سید شاہ سکندر قادری نے آپ کے حوالہ کیا۔ جس کا مفصل بیان انشاء اللہ آگے آئے گا۔

حضرت شیخ احمد جام کا ارشاد

مقامات شیخ الاسلام احمد جام قدس سرہ العزیز میں مذکور ہے کہ شیخ قدس سرہ العزیز نے ارشاد فرمایا۔ ” میرے بعد سترہ آدمی میرے ہم نام پیدا ہو نگے اس سب سے آخر کے صاحب جو مجھ سے ا (۴۰۰ ) سال بعد پیدا ہو نگے سب سے افضل ہوں گے۔


شیخ کے فرزند شیخ ظہور الدین قدس سرہ العزیز نے اپنی کتاب رموز العاشقین میں لکھا ہے کہ اخیر عمر تک میرے باپ کے ہاتھ پر چھ لاکھ آدمیوں نے بیعت کی تھی میں نے ان سے عرض کیا کہ اکثر مشائخ کبار کے حالات کتابوں میں مرقوم ہیں۔ مگر آپ کے حالات سب سے ممتاز ہیں ۔ آپ فرمایا اب سے چار سو سال بعد ایک بزرگ میرا ہم نام پیدا ہو گا اس کے حالات مجھ سےکہیں افضل اور مثل اصحاب کبار ہوں گئے۔

حضرت مولانا جامی علیہ الرحمۃ کا ارشاد

نغمات الائس میں مولانا جامی علیہ الرحمہ نے بھی شیخ احمد جام علیہ الرحمہ کا مقولہ بالا نقل کیا ہے اور شیخ کا سن وفات ۲۰۰ تحریر کی ہے چونکہ حضرت امام ربانی کا ظہور 2000 میں ہوا جوز مانہ شیخ سے پورے چار سو سال بعد ہے۔ لہذا ثابت ہوا کہ وہ بزرگ آپ ہی ہیں ۔

حضرت داؤ د قیصری کا ارشاد

حضرت داؤد قیصری علیہ الرحمۃ شارح فصوص الحکم مقدمہ قیصری کی دوسری فصل میں لکھتے ہیں کہ ہر ایک اسم اور کوکب کا دورہ ہزار سال کا ہوتا ہے۔ چنانچہ اولوالعزم نبیوں کی شریعت کا زمانہ بھی ہزار سال کا ہے اس امت میں بھی ہزار سال بعد ایک نائب رسول اللہ صلى الله عليه وسلم پیدا ہو گا وہ دین کی اصلاح اور درستی کرے گا۔

حضرت خلیل اللہ بدخشی کا الہام

مقامات شیخ خلیل اللہ بدخشی میں مذکور ہے کہ شیخ نے ایک روز فرمایا۔ سبحان اللہ سلسلہ خواجگان نقشبند میں ایک عزیز افضل ترین اولیاء امت ملک ہند میں پیدا ہونے والے ہیں ان سے شرف ملاقات نہ ہو سکنے کا مجھے افسوس ہوگا۔ انہوں نے ایک خط بطور عرضداشت آپ کے نام تحریر کیا اور اپنے خلیفہ خواجہ عبد الرحمن بدخشی کو دیا جو ۱۰۲ المقدس میں آپ کے حضور میں پیش کیا گیا۔ اس میں آپ سے دعا کے لئے استدعا کی گئی تھی۔ آپ نے ملاحظہ فرما کر ان کیلئے دعا فرمائی اور کہا که شیخ خلیل اللہہ مقام لبار اولیاء امت میں نظر آتا ہے۔

دیگر مشائخ کرام کے الہام

حضرت شیخ سلیم چشتی اور شیخ نظام ناز نولی اور شیخ عبداللہ سہروردی اکابر اولیاء ہندوستان کی خدمات میں لوگ آ آکر اکبر بادشاہ کی بد دینی اور گمراہی کی شکایت کر کے ترقی اسلام کی دعا کے لئے خواستگار ہوا کرتے تھے۔ یہ اولیا وقت جب توجہ باطنی فرماتے تو الہام ہوتا کہ عنقریب ایک امام وقت مجد د اسلام کا ظہور ہوگا وہ سب بد دینی اور ضلالت کو دفع فرمائے گا اور قیامت تک اس کا نورباقی رہے گا۔

شیخ عبدالقدوس گنگوہی کا ارشاد

جناب مخدوم کی بیعت کے وقت شیخ نے فرمایا تھا کہ آپ کی پیشانی میں ایک ولی برحق کا نور جلوہ گر ہے اس سے شرق و غرب روشن ہو نگے ۔ بدعت و ضلالت دور ہوگی ۔ میں اگر اس وقت تک زندہ رہا تو اس کو وسیلہ قرب الہی گردانوں گا۔

نجمین کی پیشین گوئی

روضیہ قیومیہ میں مفصل مندرج ہے کہ محرم ال9ھ میں نواب خان اعظم رکن سلطنت کے دربار میں نجومی جمع ہوئے اور بالا تفاق سب نے یہ کہا کہ تین دن سے ایک ستارہ طلوع ہوا ہے جو حضور سرور عالم صلى الله عليه وسلم کے زمانہ سے اس وقت تک کبھی اور نہ نکلا تھا اس کے بعد نتائج ظاہر ہوں گے کہ کوئی مردخدا اسلام کو دوبارہ تازگی بخشے گا۔

ارکان سلطنت کی خواہیں

ارکان سلطنت اکبری شیخ سلطان اور خان اعظم اور مدارم المہام سید صدر جہان نے چند خوا میں اس بارہ میں دیکھیں۔ ان کی تعبیر کے لئے حضرت شیخ جلال کبیر الاولیا ء کی خدمت میں عراض کر ایا تو انہوں نے ارشاد فرمایا۔ سرہند سے جواز ر کا ظہور دیکھا ہے ۔ وہ کسی ولی برحق کی ولادت ہے اور بگولوں کا دور ہونا اور بچھوؤں کا مارا جانا کفر و بدعت کا دور ہونا ہے۔

حضرت مخدوم کا کشف

حضرت مخدوم عبد الاحد قدس سرہ العزیز آپ کے والد ماجد نے ایک روز مراقبہ میں دیکھا کہ عالم میں تاریکی پھیل گئی ہے۔ خوک و بندر اور ریچھ لوگوں کو ہلاک کر رہے ہیں۔ ایک نوران کے سینہ سے نکلا جس سے جہان روشن ہو گیا اور برق خاطف نے نکل کر سب درندوں کو جلا کر خاک سیاہ کر دیا۔ پھر کیا دیکھتے ہیں کہ ایک تخت پر کوئی بزرگ مسند نشین ہیں۔ اس کی چاروں طرف بہت سے نورانی آدمی اور ملائک مؤدب کھڑے ہیں۔ ملحدوں، زندیقوں، ظالموں اور جابروں کو لا لا کر ان کے حضور میں پیش کر کے بکریوں کی طرح ذبح کر رہے ہیں ۔ منادی ندادے رہا ہے۔ قُل جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقاً ( ترجمہ ) حق آیا اور باطل پامال ہوا۔ آپ نے یہ واقعہ حضرت شاہ کمال کیتلی سے عرض کیا۔ آپ نے توجہ الی اللہ کر کے فرمایا کہ آپ کے ایک فرزند گرامی جو افضل اولیاء امت ہوگا پیدا ہو گا۔ اس کے نور سے شرک و بدعت تاریکی دور اور دین محمدی کو روشنی اور فروغ حاصل ہوگا۔

نوٹس : ویب سائیٹ میں لفظی اغلاط موجود ہیں، جن کی تصیح کا کام جاری ہے۔ انشاء اللہ جلد ان اغلاط کو دور کر دیا جائے گا۔ سیدنا مجدد الف ثانی علیہ رحمہ کے مکتوبات شریف کو بہتر طریقے سے پڑھنے کے لئے کتاب کا مطالعہ ضرور کریں۔ جزاک اللہ خیرا